جمدا شاہی کے قریب بستی بانسی شاہراہ پر ایک آبادی ہے، سسواری کے نام سے، زمانہ طالب علمی میں جب شعور میں پختگی اور عقل میں کمال نہیں پیدا ہوا تھا سسواری میں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد ہوا، یہ جلسہ ہر سال ہوتا تھا،علیمیہ جمدا شاہی کے طلبہ جوق درجوق اس تقریب میں شرکت کے لئے جاتے تھے،اساتذہ بھی شریک ہوتے تھے،ایک بار طلبہ کی دیکھا دیکھی میں بھی اس جلسے میں شرکت کے لئے پیدل ہی چل پڑا، جمدا شاہی سسواری کی دوری کوئی دو کلو میٹر سے کچھ زائد ہوگی،یہ مسافت ساتھیوں کے ہمراہ کب کٹ گئی پتہ ہی نہیں چلا، جلسہ میں پہنچ کر سب سے پہلے کھانے ہی کی فکر رہتی سو "جوگاڑ" لگا کر پیٹ کی آگ بجھائی، حصول مقصد کے بعد اب نہ کسی کی تقریر سننی تھی نہ کسی کی نغمہ سرائی کا اشتیاق تھا،
بس کھانے کا اثر تھا کہ آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں،مدرسے کی چھت پر گیا،نیند نہ جانے ٹوٹی کھاٹ، ایک خالی بستر دیکھ کر دراز ہوگیا، ابھی بس اونگھ ہی آرہی تھی، کوئی آدھی رات گزری تھی کہ کانوں میں تسبیح وتہلیل کی آواز آئی، پھر سسکیاں بلند ہوئیں،اب مجھ سے نہ رہا گیا، میں نے سوچا کہ بھئی کون ہے جو "جہاں پناہ" کی نیند میں خلل ڈال رہا ہے، طوعا کرہا نگاہ کھلی، دیکھا تو ایک چھوٹے قد کا آدمی مصلے پر کھڑا ہے، نگاہیں سجدہ کی جگہ پر جھکی ہوئیں، گردن خمیدہ، جسم نحیف ونزار، دبلا پتلا،سر پر سفید عمامہ، پیکر نورانی لیے ہوئے اپنے رب کی بارگاہ میں محو مناجات تھا.
میں حیرت میں تھا کہ رات کی اس گھڑی میں کون دیوانہ ہے جو اپنے رب کی یاد میں اس طرح غرق ہے،دل میں اس انسان کی عقیدت کا نقش اول بیٹھ گیا، پھر نیند غائب، اس کی حرکات و سکنات، دعا ومناجات، آہ وزاری اور درد بھری سسکیوں نے دل میں طوفان بپا کردیا، اس کی روحانی کشش نے دل ودماغ کو اپنی طرف کھینچ لیا.
تھوڑی دیر بعد کچھ لوگ آئے، اس مرد قلندر نے اپنی چھڑی اٹھائی اور چھوٹے چھوٹے قدموں سے زینہ طے کرتے ہوئے جلسہ گاہ کی طرف چل دیا، میں بھی پیچھے پیچھے ہولیا، اسٹیج کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ سب سروقد کھڑے ہوگیے اور "خطیب البراھین زندہ باد" کا نعرہ لگانے لگے،مجھے کچھ نہیں معلوم تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے، میں تو بس اس مردحق آگاہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوچکا تھا.
پروگرام ختم ہوا، وہ بندہ خدا اسٹیج پر بیٹھ گیا، دامن ارادت سے جڑنے والوں کا ہجوم لگ گیا، میرے ساتھ آنے والے طلبہ بھی بیعت ہونے کے لئے تیار ہوگئے، دیکھا دیکھی میں بھی رومال پکڑ کر مرید ہوگیا، جب کہ مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ مرید ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے.
یہ کوئی اور نہیں بلکہ میرے پیر ومرشد خطیب البراھین حضرت علامہ صوفی محمد نظام الدین صاحب علیہ الرحمہ کی ذات تھی.
آج میں اپنی قسمت پر نازاں ہوں کہ اللہ نے مجھے ایک ایسے پیر سے بیعت کا شرف بخشا جو کئی جہتوں سے اپنے اقران میں ممتاز تھا، جس کے اندر صرف دین داری تھی، جو دنیا داری سے کوسوں دور تھا، جس کی ہر ادا سنت مصطفی میں ڈھلی ہوئی تھی، جس کے اندر فقر بوذر، سوز رومی اور عشق جامی کی جھلک پائی جاتی تھی، جو صحیح معنوں میں نمونہ اسلاف تھا، جو عالم بھی تھا عامل بھی تھا، جو پیکر اخلاص اور زہد وتقوی کا مجسمہ تھا، جس کی ہستی ان اشعار کا آئینہ دار تھی :
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترا
زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے
بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار
تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں
تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں
نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر
محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر
اسیر خطیب البراھین *کمال احمد* علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں