ادھر لاک ڈاون کے ایام میں چند دنوں سے میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف جس طرح کا طوفان بدتمیزی برپا ہے وہ حد درجہ تکلیف دہ اور افسوس ناک بھی، سوشل میڈیا ہو، پرنٹ میڈیا ہو یاپھر الیکٹرانک میڈیا ہر جگہ ایک خاص کمیونٹی کے خلاف ایسے ایسے تبصرے، خیالات اور تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اللہ کی پناہ، کبھی کبھار ان حالات کو دیکھ کر راتوں کی نیند غائب ہو جاتی ہے،ڈیبیٹ کے نام پر جس طرح سے اسلام کی شبیہ خراب کی جارہی ہے، واٹس ایپ، ٹویٹر اور فیس بک پر جس طرح سے مسلم مخالف ماحول برپا کیا جا رہا ہے وہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے.
ایسے میں ہمارے کچھ جذباتی قسم کے نوجوان اور ناعاقبت اندیش دانش ور ہیں جو ان تبصروں کا جواب دیتے ہیں،اورٹی وی چینلوں پر جا کر ڈیبیٹ میں حصہ لیتے ہیں،مگر نتیجہ ظاہر ہے کہ یہ نادان دوست دانا دشمن سے کہیں زیادہ مضر ثابت ہو رہے ہیں، اپنی جگ ہنسائی تو کراتے ہی ہیں، مسلمانوں کا ترجمان بن کر اسلام کی بدنامی کا بھی باعث بنتے ہیں،ہمارے ری ایکشن سے صرف اور صرف ہمارا ہی نقصان ہوتا ہے، مشاہدہ ہے کہ ہم اب تک اپنے افکار و نظریات سے کسی کو اپنا نہیں بنا سکے ہاں ہماری اس نادانی کا ہمارے مخالفین بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں، وہ منظم ومتحد ہورہے ہیں، اورہم مزید منتشر و مختلف،اس کا نقصان ہمیں سیاست میں بھی اٹھانا پڑ رہا ہے، تجارت میں بھی اور معاشرت میں بھی.
ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اس تعلق سے چند باتیں عرض ہیں.
پہلی بات تو یہ کہ ہم انفرادی جواب دینے کے بجائے اجتماعی جواب دینے کی کوشش کریں، مگر اس کے لیے ہمارے پاس وسائل نہیں. دوسری بات یہ کہ ہم اپنے آس پاس اسلامی اخلاق وآداب اور نبوی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اسلام کی صحیح شبیہ پیش کریں، مگر یہ بھی ہونے سے رہا، تیسری بات یہ کہ ہم عفو واعراض سے کام لیں، یہ ہم کرسکتے ہیں، ارشاد باری ہے "واذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاما" دوسری جگہ ارشاد ہے "خذالعفو وامر بالعرف واعرض عن الجاھلین" حدیث شریف میں ہے "صل من قطعک واعف عمن ظلمک واحسن الی من اساء الیک" دوسری جگہ ارشاد نبوی ہے"من حسن اسلام المرء ترک مالایعنیہ" ان ارشادات کی روشنی میں ہمیں اس وقت کسی بھی طنز وتبصرہ کا جواب دینے کے بجائے اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے، عفو و درگزر کو بروئے کار لاکر اسلام کے اعلی اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کرنا چاہیے.
شیخ سعدی شیرازی نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بزرگ کو کتے نے کاٹ لیا، وہ چپ چاپ اپنے گھر آگیے، بچی نے پوچھا کہ آپ نے صبر کیوں کیا آپ کو بھی اسے کاٹ لینا چاہیے تھا، بزرگ نے فرمایا پھر مجھ میں اور کتے میں فرق کیا رہ جاتا؟
لہذا ہم ہوش کے ناخن لیں، عفو و درگزر سے کام لیں، سب دیکھیں، سب پڑھیں، مگر جواب دینے کے بجائے خود احتسابی سے کام لیں، ہماری خاموشی ہی ہر پروپیگنڈے کا جواب ہے، یہ ہمارے صبر وتحمل کا امتحان ہے، دیکھنا ہے ہم اس امتحان میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں.
واضح رہے کہ یہ میری ذاتی رائے ہے، کسی کو بھی اس سے اختلاف کا حق حاصل ہے.
کمال احمد علیمی نظامی علیمیہ جمداشاہی بستی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں