*با جے بجانا اور تعزیہ داری ناجائز ہے اور کرنے والے گنہگار ہیں*
✴✴✴✴✴✴
*بے حد افسوس کا مقام ہے کہ بہت ساری آبادیوں کے مسلمان محرم الحرام کے مہینہ میں ڈھول تاشہ وغیرہ باجہ بجانے کا ناپسندیدہ کام کرتے ہیں جو سخت ناجائز وحرام ہے۔ کچھ مسلمان اس مہینہ میں تعزیہ داری بھی کرتے ہیں یہ بھی ناجائز ہے۔*
*مسلمانو ! ہم جانتے ہیں کہ محرم الحرام امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ، ان کے گھروالوں اور ان کے احباب اور جاں نثاروں کی شہادت کا مہینہ ہے اس لیے اس مہینہ میں ہمیں اجتماعی مجلسیں منعقد کرکے اپنی روشن اسلامی تاریخ ،ء شہدائے کربلا کی سیرت و فضائل اور دین حق کو سربلند کرنے کے لیے ان کی بے مثال قربانیوں کو یاد کرنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ قرآن خوانی، صدقہ خیرات اور دوسرے نیک کام کرکے شہدائے اسلام کی ارواح کو ایصال ثواب کرنا چاہیے لیکن افسوس کہ ہمارے بعض ناسمجھ مسلمان بھائی ان سب کاموں کی بجائے ڈھول تاشہ وغیرہ طرح طرح کے باجے بجانے کے ناجائز اور گھناونے کام کرتے ہیں یوں ہی کچھ لوگ تعزیہ داری کرتے ہیں۔*
*مسلمانو! ہمارے علمائے اہلسنت نے ان کاموں کے ناجائز اور گناہ ہونے کے فتاوے جاری کیے ہیں۔*
*مسلمانو! ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارے باجہ بجانے اور تعزیہ داری سے شہدائے اسلام کی روحیں خوش ہونے کی بجائے ہم سے سخت ناراض ہوں گی کہ جس دین اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے ہم نے قربانیاں دیں ہمارا نام لینے والے کس طرح ان اسلامی تعلیمات کے خلاف کاموں میں مصروف اور مگن ہیں۔*
*اس لیے ہم مسلمان گزارش کرتے ہیں کہ مسلمان باجہ بجانے اور تعزیہ داری سے ضرور ضرور دور رہیں ورنہ سخت گنہگار ہوں گے۔*
*ذیل میں علمائے اہل سنت کے فتاوی کے بعض اہم حصے نقل کیے جاتے ہیں مسلمان ان کو غور سے پڑھیں اور عمل کریں۔*
*ڈھول باجے کے بارے میں فتاوی رضویہ میں ہے* :
”مختصرا اسی طرح یہ گانے باجے کہ ان بلاد میں معمول ورائج ہیں بلاشبہ ممنوع و ناجائز ہیں(ج٩ص ٧٧نصف اول)
*اسی میں ہے* :
”قوالی کی طرح پڑھنے سے اگر یہ مراد کہ ڈھول ستار کیساتھ جب تو حرام سخت حرام ہے”(ج٩ ص ١٨٥نصف آخر)
*حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی* ( فتاوی عزیزیہ جلد ۱ صفحہ ٧٥) پر تعزیہ داری کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں؛
"یہ تعزیہ جو بنایا جاتا ہے زیارت کےقابل نہیں بلکہ اس قابل ہے کہ اسے نیست و نابود کیا جائے۔
*اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی* علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد ٢٤، ص ٥٠١، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
*مزید فرمایا* :
عاشورہ کا میلہ لغو و لہو و ممنوع ہے۔ یوں ہی تعزیوں کا دفن جس طور پر ہوتاہے، نیت باطلہ پر مبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پر جہل و حمق و بے معنیٰ ہے۔
. (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد ٢٤، ص ٥٠١، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
*مزید فرمایا* :
علم، تعزیہ، بیرک، منہدی جس طرح رائج ہے، بدعت ہے اور بدعت سے شوکتِ اسلام نہیں ہوتی، تعزیہ کو حاجت روا یعنی ذریعۂ حاجت روائی سمجھنا جہالت پر جہالت ہے اور اس سے منت ماننا حماقت اور نہ کرنے کو باعثِ نقصان خیال کرنا زنانہ وہم ہے، مسلمانوں کو ایسی حرکت سے باز آنا چاہیے۔ و اللہ اعلم۔" (رسالہ محرم و تعزیہ داری ص ۱۵)
*مفتی اعظم ہند، حضرت علامہ مفتی محمد مصطفی رضا خان بریلوی نوری برکاتی* صاحب فرماتے ہیں :
"تعزیہ بنانابد عت ہے، اس سے شوکت و دبدبہ اسلام نہیں ہوسکتا ہے۔ مال کا ضائع کرنا ہے اس کے لیے سخت وعید آئی ہے۔" (رسالہ محرم و تعزیہ داری ص ۶۰)
*بہار شریعت* میں ہے :
تعزیہ داری کہ واقعات کربلا کے سلسلے میں طرح طرح کے ڈھانچے بناتے ہیں اور ان کو امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضہ پاک کی شبیہ کہتے ہیں اور دھول تاشے اور قسم کے باجے بجائے جاتے ہیں تعزیوں کا بہت دھوم دھام سے گشت ہوتا ہے آگے پیچھے ہونے میں جاہلیت کے سے جھگڑا ہوتے ہیں، تعزیہ سے منتیں مانی جاتی ہیں اور پھول ، ناریل چڑھائے جاتے ہیں اور وہاں شربت مالیدہ وغیرہ پر فاتحہ دلواتے ہیں یہ تصور کرکے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضہ میں فاتحہ دلارہے ہیں اور پھر دسویں تاریخ کو مصنوعی کربلا میں لے جا کر دفن کرتے ہیں۔یہ سب کے سب خرافات ہیں اور سب کے سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں(بہار شریعت دعوت اسلامی:ج٣، ح ١٦، ص ٦٤٦)
*سرکار کلاں سید مختار اشرف کچھوچھہ شریف فرماتے ہیں:*
" اہلسنت و جماعت کے نزدیک تعزیہ داری کہہ کر جن مراسم کو مراد لیا جاتا ہے ان کے منکرات امر منکر ہی ہیں مثلاً اضاعت مال مسلم واسباب تعیش و تفریح و بیان مکذوبات و اوہام فاسدہ و غیر ذالک اور یہ وہ منکرات ہیں جن کا منکر ہونا منصوص ہے نیز مسجد وفناے مسجد کو ہر طرح کے تعیش و تفریح کے آلات و اشیاء سے پاک رکھنا ضروری ہے۔" (خطبات حرم ص ۴۷۳)
*فتاوی امجدیہ* میں ہے:
"تعزیہ داری ناجائز و بدعت ہے ، اور ایک نہیں بلکہ بدعات کثیرۃ پر مشتمل مرثیے اکثر روافض کے ہیں ۔ جو اغلاط و اکاذیب پر مشتمل، بے اصل و پادر ہوا حکایات کو متضمن ، اور بہتوں میں تبرا بھی ہے ، ان کا پڑھنا حرام و نہایت سخت حرام مسلمانوں کو ان سے احتراز لازم ، اور نوحہ بھی امور جاہلیت سے ہے، احادیث میں نوحہ کرنے پر شدید وعیدیں آئیں ، ہاں جو امور شرع نے جائز رکھے ہیں مسلمان وہ کریں کہ حضرت امامین کریمین رضی الہ تعالی عنہما کو ایصال ثواب کریں ، تصدق کریں، روزے رکھیں ، اور ثواب ان کا نذر کریں ، اور تشبہ روافض سے بچیں "واللہ تعالیٰ اعلم(ج ٤ ص ١٥)
*مفتی برہان الحق جبلپوری فرماتے ہیں:*
" ہندوستان کی مروجہ تعزیہ داری بلا شبہ بدعات و ممنوعات کا ایسا مجموعہ ہے کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ علما، واعظین ،مقررین، مشائخ طریقت اور سجادہ نشین حضرات عملی طور پر اپنے اپنے حلقہ اثر میں *وادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتى هى احسن اور ادفع بالتی ھی احسن السيئة* ) کے طریقہ سے کام لے کر آہستہ آہستہ مروجہ تعزیہ داری کے بدعات و ممنوعات ومحرمات شرعیہ کو مٹانے کی کوشش کریں“ ۔ (بحوالہ خطبات محرم، ص ٤٧١،مکتبہ فقیہ ملت دہلی)
*حضرت علامہ حشمت علی خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:*
"تعزیے بنانا، انہیں باجے تاشے کے ساتھ دھوم دھام سے اٹھانا ، ان کی زیارت کرنا ، ان کا ادب اور تعظیم کرنا ، انہیں سلام کرنا ، انہیں چومنا ان کے آگے جھکنا، آنکھوں سے لگانا بچوں کو ہرے کپڑے پہنانا ، گھر گھر بھیک منگوانا کربلا جانا وغیرہ شرعاً نا جائز و گناہ ہیں ۔ " (شع ہدایت حصہ سوم ص ۳۰)
*حضرت علامہ شاہ مفتی محمد اجمل حسین سنبھلی فرماتے ہیں:*
" اب چونکہ تعزیے داری بہت ممنوعات شرعیہ اور امور ناجائز پر مشتمل ہے لہذا ایسی صحیح نقل بھی نہیں بنانی چاہیے ۔ “ ( فتاوی اجملیہ جلد ٤ صفحہ ١٥).
**مذکورہ اکابر اہل سنت کے فتاوی ارشادات سے واضح ہوگیا کہ مروجہ تعزیہ داری اور اس سے متعلق بدعات سب ناجائز ہیں، لہٰذا مسلمانان اہل سنت پر لازم ہے کہ ان امور سے اجتناب کریں اور جائز طریقے سے یوم عاشورا اور ذکر شہادت امام عالی مقام کا اہتمام کریں*.
*من جانب* :علیمی دارالافتا دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
*ترتیب و پیش کش* : کمال احمد علیمیی: استاذ و مفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں