[2/17, 09:37] Abduljabbar Nepal: *آن لائن علیمی دارالافتا گروپ*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
*مسئلہ نمبر 223*
*بدمذہب سے مودت ومعاملت ناجائز ہے*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک سنی صحیح العقیدہ شخص اور ایک دیوبندی دونوں بانٹری میں کاروبار کرتے ہیں نفع ونقصان کے حقدار ہیں دونوں کا گھر تقریبا ۲۰ کلو میٹر کی دوری پر ہے آنے جانے میں دونوں ہوٹل وغیرہ میں ایک ساتھ چائے ناشتہ کر تےہیں کبھی کبھی ایک دوسرے کے گھر پر بھی جاکر چائے ناشتہ کر لیا کرتے ہیں دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا دیوبندی کے ساتھ ایک سنی صحیح العقیدہ شخص کا اس طرح کے معاملات رکھنا درست ہے اور رکھے تو اس کے لیے کیا حکم ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
سائل : حافظ محمد ضیاء الحق رضوی ممبئی
*الجواب* بعون الملک الوھاب
دیوبندی علماے عرب وعجم کے نزدیک کافر ومرتد ہیں، چنانچہ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
"دیوبندیہ کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا کہ وُہ مرتد ہیں۔اور شفائے قاضی عیاض وبزازیہ و مجمع الانہر ودُرمختار وغیرہا کے حوالے سے فرمایا:”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر”(فتاوی رضویہ ج٣ ص٢٦۵)
اور کافر و مرتد سے کسی طرح کی دوستی ناجائز وحرام اور مرتدین سے معاملہ داری بھی ناجائز ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے :
وَلَا تَرْكَنُوٓاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ( ھود۱۱/۱۱۳)
’’اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی ‘‘
ایک جگہ اور فرمایا گیا :
وَإِذَا رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
(الانعام ٦٨)
مزید ارشاد ہے:
{ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ}( المائدۃ ۵١ )
’’اورتم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے‘‘
حدیث شریف میں ہے :
و لا تجالسوھم و لا تواکلو ھم و لا تشاربوھم و لا تناکحوھم و لا تخالطوھم ولا تعودوا مرضاھم و لا تصلوا معھم و لا تصلوا علیھم.
(صحیح ابن حبان،۱/۲۷۷،سنن البیھقی الکبری،۱۰/۲۰۵)
دوسری حدیث میں ہے :
ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم
’’گمراہوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو ، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں‘‘
(صحیح مسلم،۱/۱۲،دار احیاء التراث العربی،بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
وہابیہ وغیر مقلدین ودیوبندی ومرزائی وغیرہم فرقے آج کل سب کفار مرتدین ہیں، ان کے پاس نشست وبرخاست حرام ہے، ان سے میل جول حرام ہے، اگرچہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں۔قال ﷲ تعالٰی: واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین o وقال تعالٰی : لا تجد قوما یومنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد ﷲ و رسولہ ولو کانوا آبائہم او اخوانہم اوعشیرتہم۔
اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں،کما بیناہ فی المحجة الموتمنہ۔
ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شک رکھتاہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلاشبہ خود کافر ہے۔فتاوٰی بزایہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا میں ہے :من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر*_ اوراگر ان کو یقینا کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگر چہ اس قدر سے کافر نہ ہوگا مگر فاسق ضرور ہے”(فتاوی رضویہ ج٩ نصف آخر ص ٣١١ )
اسی میں ہے :
” معاملہ ہر کافر سے ہر وقت جائز ہے مگر مرتدین سے ”
( فتاوی رضویہ ١٤/ ٥٩٧)
*لہذا سوال میں مذکور شخص کا دیوبندی سے کسی طرح کا معاملہ کرنا ناجائز اور اس کے ساتھ دوست داری میں کھانا پینا، نشست وبرخاست کرنا حرام ہے، یہ اس وقت ہے جب اس دیوبندی کو کافر ومرتد سمجھ کر اس کے ساتھ معاملت ومودت کا برتاو کرے اور اگر اسے مسلمان سمجھ کر ایسا کررہا ہے تو وہ شخص ایمان سے خارج ہے اس پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہے، جیسا کہ اوپر فتاوی رضویہ کے حوالے سے گزرا.*
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ : *کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
١٥ رجب ١٤٤٣ / ١٧ فروری ٢٠٢٢
*الجواب صحیح* محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ سے جڑنے کے لیے وہاٹشپ نمبر پر میسج کریں۔
مولانا عبد الجبار علیمی
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ
+918795979383
[2/17, 09:39] Abduljabbar Nepal: *آن لائن علیمی دارالافتا گروپ*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
*مسئلہ نمبر 224*
*غیر مسلم سے مردار جانور بیچنا کیسا ہے*
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں
کہ زید بکریوں کا کاروبار کرتاہے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کر نے کی وجہ سے کچھ جانور مرجاتے ہیں تو کیا ان مرےہوئے جانوروں کو زید کسی غیر مسلم کے ہاتھوں فروخت کر سکتا ہے اور اس سے حاصل شدہ رقم اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرسکتا ہے شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں
سائل حافظ محمد ضیاء الحق رضوی ممبئی
*الجواب* بعون الملک الوھاب
مرے ہوئے جانور کو غیر مسلم سے بیچ کر اس کی رقم استعمال میں لانا جائز ہے.
بہار شریعت میں ہے:
عقد فاسد کے ذریعہ سے کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو مثلاً ایک روپیہ کے بدلے میں دو روپے خریدے یااُس کے ہاتھ مُردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ سے مسلمان کا روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرناجائز ہے۔(حصہ یازدہم، ص ٧٨٠)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: *کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
١٥ رجب / ١٤٤٣ - ١٧ فروری ٢٠٢٢
*الجواب صحیح* محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ سے جڑنے کے لیے وہاٹشپ نمبر پر میسج کریں۔
مولانا عبد الجبار علیمی
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ
+918795979383

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں