*آن لائن علیمی دارالافتا گروپ*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
*مسئلہ نمبر 222*
عنوان
*بدمذہب کے یہاں شادی کرنے کا حکم*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں
ایک مدرسہ ہے جس کے ممبران نے ایک میٹنگ کی اور اس میں یہ فیصلہ ہوا کہ ادارے کاکوئی بھی ممبر اپنی بچی یابچے کیشادی کسی بد مذہب وہابی دیو بند ی کے یہاں نہ کرے اور اگر کوئی کرتاہے تو وہ مدرسے کی ممبری سے خارج ہوجائے گا اور اس کے یہاں مدرسے کانہ تو کوئی عالم اس شادی میں کسی طرح سے شرکت کرے گانہ بچے
اس کے بعدزید جو مدرسے کاممبر ہے اس نے اپنے لڑکے کی شادی وہابی کےیہاں کر رہاہےدریافت طلب امر یہ ہے کہ
کیازید کے یہاں اس شادی میں مدرسے کے علماء اور طلباء کوشرکت کرنااور کھانا جائزہے یانہیں
کیا زید کو اس بنیاد پر ممبری سےخارج کرنا جائز ہے کہ نہیں
اگر مدرسے کے علماء و طلبا اس شادی کا بائیکاٹ کریں اور اس میں شر کت نہ کریں تو کسی طرح کا ان پر دباؤ بنانا جائز کہ نہیں
*المستفتی* غلام قادر بستی
*الجواب* بعون الملک الوھاب
علماے عرب وعجم کے نزدیک وہابی، دیوبندی کافر ومرتد ہیں چنانچہ امام اہل سنت، اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
"دیوبندیہ کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا کہ وُہ مرتد ہیں۔اور شفائے قاضی عیاض وبزازیہ و مجمع الانہر ودُرمختار وغیرہا کے حوالے سے فرمایا:”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر”(فتاوی رضویہ ج٣ ص٢٦۵)
اور مرتد سے کسی طرح کا معاملہ جائز نہیں.
فتاوی رضویہ میں ہے :
” معاملہ ہر کافر سے ہر وقت جائز ہے مگر مرتدین سے ”
( فتاوی رضویہ ١٤/ ٥٩٧)
اس لئے ان کے یہاں شادی کرنا ناجائز وحرام ہے، اگر کوئی انہیں مسلمان سمجھ کر کرے تو اسلام سے خارج ہے، اس پر تجدید ایمان لازم ہے.
قرآن مجید میں ہے :
وَلَا تَرْكَنُوٓاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ( ھود۱۱/۱۱۳)
’’اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی ‘‘
ایک جگہ اور فرمایا گیا :
وَإِذَا رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
(الانعام ۶/۶۸)
مزید ارشاد ہے:
{ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ}( المائدۃ ۵/۵۱ )
’’اورتم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے‘‘
حدیث شریف میں ہے :
و لا تجالسوھم و لا تواکلو ھم و لا تشاربوھم و لا تناکحوھم و لا تخالطوھم ولا تعودوا مرضاھم و لا تصلوا معھم و لا تصلوا علیھم.
(صحیح ابن حبان،۱/۲۷۷،سنن البیھقی الکبری،۱۰/۲۰۵)
دوسری حدیث میں ہے :
ایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم
’’گمراہوں سے دور بھاگو ، انہیں اپنے سے دور کرو ، کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں‘‘
(صحیح مسلم،۱/۱۲،دار احیاء التراث العربی،بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
وہابیہ وغیر مقلدین ودیوبندی ومرزائی وغیرہم فرقے آج کل سب کفار مرتدین ہیں، ان کے پاس نشست وبرخاست حرام ہے، ان سے میل جول حرام ہے، اگرچہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں۔قال ﷲ تعالٰی: واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین o وقال تعالٰی : لا تجد قوما یومنون باﷲ و الیوم الاخر یوادون من حاد ﷲ و رسولہ ولو کانوا آبائہم او اخوانہم اوعشیرتہم۔
اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں،کما بیناہ فی المحجة الموتمنہ۔
ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شک رکھتاہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلاشبہ خود کافر ہے۔فتاوٰی بزایہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا میں ہے :من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر*_ اوراگر ان کو یقینا کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگر چہ اس قدر سے کافر نہ ہوگا مگر فاسق ضرور ہے”(فتاوی رضویہ ج٩ نصف آخر ص ٣١١ )
*لہذا مدرسے کا جو ممبر بدمذہبوں سے دوری کا عہد کرنے کے باوجود ان کے یہاں اپنے لڑکے کا نکاح کرنے جا رہا ہے، اگر کربھی لے تو اس کو بلا تاخیر مدرسے کی ممبری سے خارج کر دیا جائے، اس کی دعوت میں شرکت نہ کی جائے،شرکت پر جو دباو بنائے وہ گنہ گار ہے.*
قرآن مجید میں ہے :
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدۃ :٢)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ: *کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
*الجواب صحیح* محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ سے جڑنے کے لیے مندرجہ ذیل وہاٹشپ نمبر پر میسج کریں ۔
(مولانا) عبد الجبار علیمی نیپالی جمدا شاہی
+918795979383

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں