*آج پھر تیری یاد آئی ہے*
*کمال احمد علیمی نظامی*
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
رمضان المبارک کی انتیسویں شب کبھی نہ بھولے گی، گزشتہ شب بڑے کرب و اضطراب میں گزری، رہ رہ کر میرے عظیم ترین محسن *حضرت علامہ معین الحق صاحب علیمی* علیہ الرحمہ کی یاد آتی رہی، ان کا نورانی چہرہ، درخشندہ پیکر، ان کی فکر ونظر، ان کی نفاست ونظافت، ان کی زیر لب مسکراہٹ، علیمیہ سے ان کی بے لوث محبت، علما ومشائخ سے ان کی عقیدت، بزرگوں سے ان کی قلبی ارادت، طلبہ سے ان کی غیر معمولی مودت، حاجت مندوں پر ان کی نگاہ عنایت،ان کی بے مثال سخاوت، ان کا شاہانہ شان وشوکت ،مشکلات میں ان کا صبر وعزیمت، ان کی سادگی، روح کی تابندگی، قلب کی رخشندگی، اصول کی پابندی،خدمت دین سے معمور زندگی....کیا کیا یاد کروں:
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
ان کے احسانات، ان کی عنایات، ناچیز کے حق میں ان کی خصوصی توجہات.... کیا کیا یاد کروں.
وہ صحیح معنوں میں معین العلما تھے، اہل علم کے لیے ان کا دل بھی کشادہ تھا اور ان کا دستر خوان بھی، علیمی دربار ہوٹل ممبئی کا دروازہ ہر کسی کے لیے کھلا رہتا تھا، مجھے اچھی طرح سے یاد ہے، جب میں سخت بیمار تھا، ممبئی علاج کے لیے بلایا، مہنگے ہاسپٹل میں علاج کرایا، ڈاکٹر نے مقوی غذا کی صلاح دی، حضرت نے مجھ سے فرمایا :مولانا! میرے ہوٹل میں جو سب سے اچھا کھانا بنتا ہے آپ وہ کھائیں اور پانی کی جگہ پر فروٹ کا جوس پئیں:
آج کیا لوٹتے لمحات میسر آئے
یاد تم اپنی عنایات سے بڑھ کر آئے
علیمیہ ان کی کرامت ہے، یہاں کا معیاری نصاب ونظام تعلیم ان کی بے نظیر خدمت ہے، یہاں کے ہر گل بوٹے میں ان کے خون جگر ک رنگت ہے،علیمیہ ہی ان کا حیز طبعی تھا، وہی ان کی توجہات کا قبلہ تھا، وہی ان کا سرمایہ حیات اور توشہ آخرت تھا، جب بھی جمدا شاہی آتےموسم کی سردی وگرمی برداشت کرکے علیمیہ ہی میں بودوباش اختیار فرماتے، اساتذہ کے ساتھ ان کی نورانی مجلسیں یاد ہیں، طلبہ کے ساتھ ان خصوصی نشستیں یاد ہیں، ہم سب پر ان کی شفقتیں، ان کی رحمتیں سب یاد ہیں...
خوش دلی مہربانیاں شفقت
حسن شبنم مزاجیاں نکہت
علیمیہ ان کی زندگی تھا، اس سے فرقت موت تھی، علیمیہ سے دست برداری کے بعد میں نے انہیں کبھی کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا،آخری عمر میں کئی ملاقاتیں رہیں مگر اب پہلے والے "علیمی صاحب" سے ملاقات نہیں ہوتی تھی بلکہ خاموشی اور رنج وغم کی چادر اوڑھے ہوئے ایک بوڑھے انسان سے ملاقات ہوتی تھی، اللہ تعالیٰ انہیں قبر میں شاد فرمائے.
وفات کے پانچ چھ مہینے بعد خواب میں دیکھا، وہی دمکتا چہرہ، چہرے پر حسین مسکراہٹ، قیمتی پوشاک زیب تن کیے ہوئے شان سے بیٹھے تھے، خواب سے بیدار ہوا تو زبان پر ساختہ یہ آیات کریمہ آگئیں :
(( يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ))
اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے.
بڑھتی جاتی ہے زخموں کی تعداد
بڑھتا جاتا ہے درد سینے کا
حوصلہ اب نہیں ہے جینے کا
یاد ماضی عذاب ہے یا رب
*کمال احمد علیمی* نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں