Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

کشتہ عشق رسالت

 *تمہاری شان میں جو کہوں اس سے سوا تم ہو* 


 *_کمال احمد_* علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی 


کشتہ عشق رسالت،پاسبان عظمت نبوت،امام عشق ومحبت، شناور بحر معرفت،جاں نثار شمع بزم نبوت،جس کی زندگی علم، عمل اور عشق رسول کا مثلث تھی، جس کی ہر ہر ادا سے محبت کی خوشبو پھوٹتی تھی، جو عرب وعجم کا قبلہ نما تھا،جس کی فقہی عبقریت کا ایک جہان معترف تھا، جس کی ذات فقہ بوحنیفہ،تحقیق امام شیبانی، تفقہ بویوسف،تصوف غزالی، حکمت رازی،اور حدیث دانی شیخ محقق دہلوی کا مظہر تھی، جس نے اپنے اشہب قلم سے ایوان بدمذہبیت میں زلزلہ برپا کردیا، جس کا قلم من جانب اللہ محفوظ عن الخطا، جس کی شان علمیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا، جس کا دماغ کمپیوٹر سے زیادہ برق رفتار، جس کی فکر گوہر آب دار، جس کی صبح وشام خدمت دین سے معطر، جس کی حیات طیبہ کا ہر لمحہ نور علم ومعرفت سے منور، جس کے قلم حقیقت رقم کا ایک ایک لفظ سند، جس کی زبان فیض ترجمان کا ایک ایک کلمہ معتمد ومستند،جو ہزار سے زائد کتب ورسائل کا مصنف، جو متعدد علوم وفنون کا موجد، جو پچپن سے زائد فنون میں راسخ اور اپنے وقت کا مجدد تھا.

جو روے زمین عظمت خداوندی کی دلیل تھا،جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا، جو بزرگوں کی عظمت وکرامت کا پرتو تھا،جس کی تحقیقات پر ایک صدی سے تحقیقات جاری ہیں، مگر ابھی بھی اس کے کارناموں کو سمیٹا نہ جاسکا، جس کی تحقیق حرف آخر، جس کی دلیل قاہر تھی.

آج اسی عبقری شخصیت کا یوم ولادت ہے، دنیا جسے امام اہل سنت، غواص بحر معرفت، کنزالکرامت، اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے نام سے جانتی ہے، اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے،وہ چاہے تو کوزہ میں دریا سمو دے، فرد واحد کو علوم ومعارف کا گنجینہ بنا دے،قدرت خداوندی کا دلکش نظارہ کرنا ہو تو تاجدار بریلی کی ذات دیکھ لیں، ان کی ذات میں اللہ جل شانہ نے علم وعمل کا حسین امتزاج ودیعت فرمایا تھا، وہ بیک وقت عبقری مفسر، بے نظیر محدث، بے مثال فقیہ، متکلم، معقولی، مناظر،شاعر، سائنس داں، مفکر اور مدبر تھے، زہد وتقوی میں معاصرین میں ممتاز تھے، شریعت وطریقت کا مجمع البحرين تھے،ان کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے علوم ومعارف کے انوار بھر دیے تھے .

وقت کے دانشوروں نے جن کی مدح سرائی کی، ممتاز سائنس دانوں نے جن کی عظمت کو سلام پیش کیا،متعدد غلط سائنسی نظریات جن کے تیشہ قلم سے پارہ پارہ ہوگیے، اس مختصر سی تحریر میں ان کے بارے میں کیا کیا لکھا جائے، حقیقت یہ ہے کہ :

زفرق تابہ قدم ہرکجا کہ می نگرم

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست.

ان کے بارے میں کیا لکھوں جن کی شان میں ایک کہنہ مشق شاعر نے یہ کہہ کر قلم رکھ دیا :

:جی میں ہے اَحمدِ ہِندی کا قصیدہ لکھّوں

ایک مشکل یہ پڑی ہے کہ میں کیا کیا لکھّوں


حُجَّۃُ اللّٰہِ عَلَی الْاَرْض کہوں ذات تری

حاملِ ورثۂ نُطقِ لَبِ یُوحیٰ لکھّوں


اہلِ حکمت کو کہوں تیری فروع و اَعراض

تجھ کو میں اَصل کہوں جَوہرِ اُولیٰ لکھّوں


گر گراؤں میں حَدِ اَوسَطِ حُکم و حُجَّت

چار اَشکالِ فقاہَت کا نتیجہ لکھّوں


نقشِ اعجاز و معارف خَطِ اِرشاد و ہُدیٰ

تجھ کو تَوضیحِ حقائق کا صحیفہ لکھّوں


حشر ٹھہرا ہے ترے علم کی عزَّت کے لیے

تجھ کو میں بَرزخِ کبریٰ کا کنارہ لکھّوں


تُو کہ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِم کا ہے مصداقِ صحیح

تجھ کو تکمیلِ ہدایت کا ضمیمہ لکھّوں


آیۂ آدَمَ الاَسمَاء کی جو تفسیر کروں

پُشتِ آدم کا تجھے دُرِّ مصَفَّا لکھّوں


کَیفِ باطن میں کہوں تجھ کو لِسانِ غَیبَت

تجھ کو اَحوالِ طریقت کا سراپا لکھّوں


تجھ کو اَسرارِ شریعت کی کہوں فتحِ قدیر

تجھ کو میں فقہِ نبوَّت کی ہدایہ لکھّوں


تیری تقلید میں رکھّوں میں فقیہانِ جہاں

ابنِ ثابت کی تجھے مَسندِ اِفتا لکھّوں

Post a Comment

0 Comments