کتاب مستطاب " *حکیم ترمذی اور مسئلہ ختم نبوت* " پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، اصول تحقیق کا لحاظ رکھتے ہوئے محقق علام، گرامی مرتبت حضرت مولانا طارق انور مصباحی نے ایک اہم مسئلہ پر نہایت محققانہ کلام فرمایا ہے.
دراصل کچھ دنوں پہلے میرے پاس ایک استفتا آیا تھا جس میں ختم نبوت کے متوارث، متداول اور متواتر مفہوم کے حوالے سے حکیم ترمذی، عارف باللہ، امام اجل محمد بن علی حکیم ترمذی (م٣٢٠ھ) کی کتاب "ختم الاولیا "سے ایک عبارت نقل کرکے یہ دکھانے کی ناپاک جسارت کی گئی تھی کہ حکیم ترمذی کے یہاں بھی ختم نبوت کا وہی مفہوم ہے جو امام الدیابنہ مولوی محمد قاسم نانوتوی (م١٨٨٠ء) اور ملعون مرزا غلام احمد قادیانی (م ١٩٠٨)اور ان کے اتباع نے مراد لیا ہے،استفتا درج ذیل ہے :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ھذا میں کہ :
اہل سنت کے ایک عظیم بزرگ حضرت حکیم ترمذی علیہ الرحمہ کی کتاب " ختم الاولیاء " کے صفحہ 341 پر مندرجہ ذیل عبارت مرقوم ہے :
*یظن ان خاتم النبیین تاویلہ انہ اخرھم مبعثا فایّ منقبة فی ھذا ؟ و ایّ علم فی ھذا ؟ ھذا تاویل البلہ الجھلة*
*ترجمہ* : یہ جو گمان کیا جاتا ہے کہ خاتم النبیین کی تاویل یہ ہے کہ اپ مبعوث ہونے کے اعتبار سے اخری نبی ہیں ، بَھلا اس میں اپ کی کیا فضیلت و شان ہے ؟ اور اس میں کون سی علمی بات ہے ؟ یہ تو احمقوں اور جاہلوں کی تاویل ہے ۔
دیابنہ اس عبارت کو تحذیرالناس صفحہ 3 کی عبارت کے دفاع میں پیش کرتے ہیں ۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ حضرت حکیم ترمذی اور نانوتوی کی عبارت یکساں ہے یا الگ الگ ؟
بر تقدیرِ ثانی ۔۔۔ دونوں میں کیا فرق ہے ؟
بر تقدیر اول ۔۔۔ حسام الحرمین میں جو حکم نانوتوی پر لگایا گیا ہے ، وہی حکم حضرت حکیم ترمذی پر لگے گا یا نہیں ؟
تشفی بخش جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔
العارض : عبدالقادر رضوی ( ممبئی )
اس خطرناک سوال کا اگر بروقت جواب نہ دیا جاتا تو اس کے کتنے برے اثرات عوام وخواص پر مرتب ہوتے اس کا اندازہ قارئین خود لگا سکتے ہیں، حکیم ترمذی کی مذکورہ عبارت سے(اگر اس کی نسبت امام موصوف کی طرف صحیح مان لی جائے تو)اس سے دو ظاہری فساد پیدا ہوں گے ، ایک تو یہ کہ اس عبارت سے علماے دیوبند اورمرزائیوں سمیت تمام منکرین ختم نبوت کی تائید و تصدیق ہوگی، دوسرے یہ کہ عہد رسالت سے لے عصر حاضر تک کے ان علما کے نظریہ کی صاف تکذیب وتردید ہوگی جو "خاتم النبیین "سے "آخرالانبیا" کا مفہوم مراد لیتے ہیں، پھر بات اسی نظریہ تک آکر نہیں رکے گی بلکہ اہل سنت و جماعت کے دوسرے نظریات بھی شک کے دائرے میں آجائیں گے، پھر اہل سنت و جماعت کے عقائد و نظریات پر طعن وتنقید اور تشکیک و تکذیب کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا.
اس استفتا کو دیکھ کر میں خود بھی تشویش میں پڑ گیا کہ اتنی عظیم الشان، جلیل القدر شخصیت جسے امام اہل سنت نے "عارف باللہ" اور" امام اجل" کہا ہے وہ یک لخت اس نظریے کا انکار کیسے کرسکتی ہے جو کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے، سردست مجھے نبیرہ حضور صدرالشریعۃ، معروف محقق ومصنف، حضرت مولانا فیضان المصطفی صاحب کا ایک عربی مضمون اس حوالے سے ملا جو فتاوی حسام الحرمین (عربی ایڈیشن ) کے ساتھ بطور ضمیمہ لگا ہے، جس میں حضرت نے پرزور انداز میں مذکورہ عبارت کو الحاقی ثابت کرنے کی کوشش فرمائی، مضمون مختصر اور ضرورت بھر تھا اس لئے قدرے تشفی ہوگئی مگر طبیعت "ھل من مزید" کی تلاش میں تھی اس لئے محب مکرم، متکم وقت حضرت مولانا طارق انور مصباحی سے رابطہ کیا،بروقت حضرت دیگر کاموں میں لگے تھے اس لئے اس طرف توجہ نہیں دے پائے، پھر دو تین دن پہلے آپ نے یہ بشارت سنائی کہ اس موضوع پر مستقل رسالہ تیار ہوچکا ہے، مسودہ بھی بھیج دیا، دیکھا، طبیعت باغ باغ ہوگئی، دل کے خدشات دور ہوگئے،کچھ مسائل پر اضطراب تھا،جو آپسی گفتگو سے دفع ہو گیا، میں اس رسالے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے اس کے مندرجات سے متفق ہوں.
حضرت مصباحی صاحب نے بھی اس رسالے میں مذکورہ بالا عبارت کو الحاقی ثابت کیا ہے جس پر عقل ونقل سے مضبوط دلائل بھی پیش فرمائے ہیں، ساتھ ہی حل کی ایک صورت اور بتائی ہے کہ حکیم ترمذی علیہ الرحمہ اکابر اولیا میں سے تھے، اور اولیاے کی زبان سے مخصوص حالات میں کچھ ایسی باتیں صادر ہوجاتی ہیں جن کا ظاہر قابل اعتراض اور شرعی اصولوں سے متصادم ہوتا ہے، ایسی باتوں کو شطحیات سے تعبیر کرتے ہیں، ان اقوال کی مناسب تاویل کی جاتی ہے، جس کی بہت ساری نظیریں موجود ہیں، یہ جواب مجھے بہت پسند آیا، شاید قارئین کو بھی پسند آئے.
بہر حال کافی عرصہ سے چل رہے اس مسئلہ کی کامل تحقیق اس رسالے میں پیش کرکے فاضل محقق نے حق تحقیق ادا کیا ہے جو انہیں کا حق تھا، اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کو اجر عظیم عطا فرمائے.
*کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
١٧ شعبان ١٤٤٣/ ٢١ مارچ ٢٠٢٢

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں