Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

مثالی استاذ

 *مثالی استاذ ومربی* 

زمانہ طالب علمی میں جس شخصیت کے علم وعمل سے سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ استاذ گرامی قمرالعلما حضرت علامہ محمد قمر عالم اشرفی (شیخ صاحب) کی ذات ہے، یوں تو ہمارے تمام اساتذہ لائق تکریم ہیں، سب ہمارے سروں کا تاج ہیں،آج ہم جو کچھ ہیں انہیں کے طفیل ہیں، مگر حضرت کی مقناطیسی شخصیت کا جواب نہیں،دل کی طرح چہرہ بھی منور وتابناک ہے، علم کے ساتھ عمل، شریعت کے ساتھ طریقت،علمیت کے ساتھ روحانیت آپ کی دستار کرامت کا طرہ امتیاز ہے.

آپ اصول کے بڑے پابند ہیں،نماز باجماعت کی پابندی آپ کی عادت اور فرائض کی بروقت ادائیگی آپ کی فطرت ہے،بزرگوں سے خصوصی لگاو، اکابر سے سچی عقیدت اور اصاغر پر بے پناہ شفقت آپ کے خصوصی اوصاف ہیں.

عہد طالب علمی میں آپ کی بارعب شخصیت سے ہم سب سے زیادہ مرعوب رہتے تھے،نماز کے اوقات میں آپ کی آواز ہمارے لیے "اذان ثانی" ثابت ہوتی جس کے بعد "فاسعوا الی ذکراللہ" کا منظر قابل دید ہوتا، سچی بات یہ کہ آپ کی پابندی نماز دیکھ کر ہمارے دلوں میں نماز کی محبت پیدا ہوئی جو الحمد للہ اب تک باقی ہے.

درس گاہ میں آپ ایک مثالی استاذ ہوتے،کامل انہماک کے ساتھ عبارت خوانی کرواتے، سبق سنتے اور پھر نپی تلی تقریر فرماکر سبق سمجھاتے، میں یہ اعتراف کرنے میں حق بجانب ہوں کہ آج میں جو کچھ بھی عربی عبارت خوانی کی اہلیت رکھتا ہوں وہ حضرت ہی کی نگاہ کرم کا فیضان ہے.

منقولات کے ساتھ معقولات کی کئی کتابیں آپ سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، ایک بات میں نے نوٹ کیا تھا کہ اگر مطالعہ اچھا کرکے گئے اور کامل توجہ کے ساتھ سبق سنا تو مشکل سے مشکل بحثیں بھی ذہن میں بیٹھ جاتیں ،اور دیر تک دماغ میں رہتی بھی تھیں،کم عقلی، کاہلی اور لاپرواہی کی وجہ سے کچھ اسباق سمجھ میں نہیں آتے مگر حضرت کی درس گاہ بڑی بافیض تھی، امتحان کے وقت سارے اسباق یکساں سمجھ میں آجاتے اور جب تدریسی زندگی میں آیا تو من وعن آپ کے الفاظ میں طلبہ کے سامنے سبق پڑھ دیتا، یہ حضرت کا علمی فیضان تھا.

تدریس کے شروع کے چند سالوں تک مجھے جہاں بھی کوئی دشواری محسوس ہوتی بلا تکلف حضرت سے رجوع کرتا اور انشراح صدر کے ساتھ واپس آتا، الحمد للہ آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے.

ایک چیز اور محسوس ہوئی کہ جو طلبہ حضرت کی خدمت میں رہے وہ نیک اور صالح بن کر نکلے، علم کے ساتھ نور علم لے کر فارغ ہوئے.

تلاوت قرآن، مطالعہ کتب خصوصاً فتاوی رضویہ شریف کا مطالعہ آپ کے معمولات میں شامل تھا، بغیر مطالعے کے کوئی کتاب پڑھاتے بھی نہیں تھے جو ہمارے بزرگوں کا طریقہ بھی رہا ہے. 

تقریباً بائیس سال کا طویل عرصہ حضرت کے سایہ کرم میں بسر ہوا، آپ کی صبح و شام دیکھی، لیل ونہار دیکھے، جلوت وخلوت دیکھی ہر حال میں، ہر پہلو سے میں نے آپ کو ایک اچھا استاذ پایا،ایک بہترین انسان محسوس کیا اور ایک مثالی مربی دیکھا.

آج حضرت کی گورنمنٹی ملازمت کا آخری دن ہے، یہ چند سطریں بارگاہ عالی جاہ میں بطور خراج عقیدت پیش ہیں، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور حضرت کو عمر خضری عطا فرمائے، ہم سب کی عمر حضرت کو لگ جائے.


اگر خموش رہوں میں تو تو ہی سب کچھ ہے 


جو کچھ کہا تو ترا حسن ہو گیا محدود

نیاز مند :

 *کمال احمد علیمی نظامی* 

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

٢٧ شعبان ١٤٤٣ /٣١ مارچ ٣

Post a Comment

0 Comments