*آفریں بر ہمت مردانہ تو*
*کمال احمد* علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی اور بھی تیرے لیے دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گر ما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
بہت پہلے شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال کے یہ اشعار نظر سے گزرے تھے، تب ذہن میں یہ خیال آیا تھا کہ کیا اس عہد قحط الرجال میں بھی ان صفات کا حامل کوئی قائدپیدا ہو سکتا ہے،رب قدیر ہر شی پر قدرت رکھتا ہے، وہی انسانوں کا خالق ہےاور وہی ہر دور میں کسی ایسی ہستی کو پیدا فرماتا ہے جو امت مسلمہ کی سچی قیادت کا فریضہ انجام دیتی ہے، ہم نے اسلاف کی قیادت کی تاریخ بھی پڑھی ہے اور الحمد للہ اپنے عہد میں کچھ ایسے قائدین بھی دیکھے ہیں جن کی قیادت وامامت نے امت مسلمہ کی رہنمائی کے ساتھ ان کے دلوں میں عشق رسالت کی تپش اور ان کی روح میں دین برحق پر مر مٹنے کی تڑپ بھی پیدا کی ہے، ماضی قریب میں وارث علوم اعلی حضرت، فخر ازہر، قائد امت، حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کا زریں دور بھی دیکھا ہے، آپ کی حیات طیبہ کے جس پہلو نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ آپ کا عشق رسول، اپنے اسلاف کی طرح وہ سچے عاشق رسول تھے، آپ ہی کا ارشاد ہے:
جہاں میں عام پیغام شہ احمد رضا کردیں
پلٹ کر پیچھے دیکھیں پھر سے تجدید وفا کردیں
نبی سے ہو جو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں
پدر ، مادر ، برادر ، مال و جاں ان پر فدا کردیں
آپ کی رحلت کے بعد دل مضطرب تھا کہ امت مسلمہ کی قیادت اب کون کرے گا،تحفظ ناموس رسالت پر مرمٹنے کا جذبہ صادق دل میں کون پیدا کرے گا، مسلک برحق مسلک اعلی حضرت کا جام شیریں کون پلائے گا،مگر خدا کی شان بھی عظیم ہے، اللہ کب کس کو کس کام کے لیے چن لے یہ کوئی نہیں جانتا،مگرشاعر مشرق لکھتے ہیں :
نہ اُٹھّا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہزاروں سے
وہی آب و گِلِ ایراں، وہی تبریز ہے ساقی
نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی
شہربریلی جو شہر محبت ہے، جو امام عشق ومحبت کے عشق رسالت اورتحفظ ناموس نبوت کی سرزمین ہے، جس کے ذرے ذرے سے امام اہل سنت کی محبت رسول اور دین برحق کی پاسداری کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، جو اہل سنت کا مرکز عقیدت بھی ہے اور مرکز علم وحکمت بھی، جہاں سے کبھی سرکار مفتی اعظم ہند نے شریعت مطہرہ کی حفاظت وصیانت کرتے ہوئے حکومت وقت کو چیلنج کیا تھا، وہیں کی سرزمین سے ایک بار پھر سے ایک مرد قلندر اٹھا ہے،جس کی شان یہ ہے:
نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے
کل جب نگاہوں نے بریلی شریف میں شہزادہ حضور تاج الشریعہ، قاضی القضاۃ فی الھند، حضرت علامہ مفتی عسجد رضا خان صاحب دامت برکاتھم کی قیادت میں دیوان گان عشق رسالت کا جم غفیر دیکھا تو آنکھوں سے اشک مسرت چھلک پڑے، دل مضطر پکار اٹھا :
جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے
جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے
ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
اللہ کی ہزاروں رحمتیں نازل ہوں اس عظیم قائد پر جس نے خانوادہ رضا کے ایثار وتضحیہ کی یاد تازہ کرادی، جس کی للکار سے آج عالم کفر سکتے میں ہے، جس نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ بریلی کل بھی مرکز اہل سنت تھا اور آج بھی ہے.
ان شاء اللہ سرزمین بریلی سے عشق رسالت کی جو چنگاری پھوٹی ہے وہ گستاخان رسول کے نشیمنوں کو خاکستر کردے گی:
کلک رضا ہے خنجر خوں خوار برق بار
اعدا سے کہہ دو خیر منائیں نہ شر کریں
بریلی شریف کی عظمت کو سلام، قائد ملت کی جرات وعزیمت کو سلام، امام اہل سنت کی کرامت کو سلام:
فروغ کہکشاں کو ناز ہے جن کی جبینوں پر
یہ تلقینِ خودی پیدا کی وہ نوجواں تو نے
انھیں کے زور بازو سے ہے اب گردش زمانے کی
بدل کر رکھ دیا آخر مزاج آسماں تو نے.
کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں