شب براءت شب رحمت
آفتاب غروب ہونے کو ہے، پوری کائنات پر تاریکی چھانے والی ہے، ہر شی ظلمت شب کی سیاہ چادر اوڑھ کر چھپنے والی ہے،مگر آج کی شب میں اللہ کی رحمتیں اپنے بندوں کو اپنی آغوش میں چھپانے کو تیار ہیں، آسمان دنیا پر تجلیات خداوندی جلوہ گر ہو چکی ہیں،بندگان خدا کو صداے رحمت دی جارہی ہے :
- إذا كان ثُلُثُ الليلِ أو شَطْرُه يَنزِلُ اللهُ إلى سماءِ الدنيا فيقولُ هل من سائلٍ فأُعطيَه هل من داعي فأستجيبَ له هل من تائبٍ فأتوبَ عليه هل من مستغفِرٍ فأغفرَ له حتى يَطْلُعَ الفجرَ
الراوي : أبو هريرة الصفحة أو الرقم: 498 | خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح على شرط الشيخين ۔التخريج : أخرجه ابن أبي عاصم في ((السنة)) (498)
آج ارحم الراحمين اپنے بندوں کو سب کچھ دے دینا چاہتا ہے :
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیں
آج کی شب سب کی موت وحیات کا فیصلہ ہونے والا ہے، رزق کی تقسیم ہونے والی ہے :
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا’’ کیا تم جانتی ہو کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟‘‘ میں نےعرض کی کی یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ فرمایئے ۔ ارشاد ہوا کہ ’’آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس رات میں لوگوں کے (سال بھر کے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کو مقررہ رزق اتاراجاتا ہے ۔ (مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277)
اس شب خیر میں اللہ جل شانہ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے، ہاں کچھ بدبخت ایسے بھی ہیں آج کی شب رحمت میں بھی حرماں نصیب ہوتے ہیں :
ان الله تبارک وتعالیٰ ينزل ليلة النصف من شعبان الی سماء الدنيا فيغفر لاکثر من عدد شعر غنم کلب.
’’بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات آسمان دنیا پر تجلی فرماتا ہے، پس بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ گنہگاروں کو بخشش دیتا ہے‘‘۔
(سنن الترمذی، رقم الحديث: 739)
«إنَّ اللهَ تعالى لَيطَّلِعُ في ليلةِ النصفِ من شعبانَ فيغفرُ لجميعِ خلْقِه، إلا لمشركٍ أو مشاحنٍ» (صحيح الجامع [1819]).
اس شب مغفرت میں سب کی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں :
3۔ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں:
خمس ليال لا ترد فيهن الدعاء: ليلة الجمعة، و أول ليلة من رجب، و ليلة النصف من شعبان، و ليلتی العيدين.
(عبد الرزاق، المصنف، 4: 317، رقم: 7927)
راتیں تو سب رب کی ہیں مگر کچھ راتیں خاص ہوتی ہیں، ان راتوں کی قدر کریں، اپنے رب کی بارگاہ میں احساس ندامت کے ساتھ توبہ واستغفار کریں، دعائیں مانگیں،رحمت حق سب کے لیے عام ہوتی ہے :
رحمت حق بہانہ می جوید، بہا نمی جوید
قلب خاشع، روح مزکی اور اشک ندامت کے ساتھ اپنے رب سے دعا مانگیں، وعدہ الہی ہے:
ادعونی استجب لکم
مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا
آج کی شب میں اپنے خالق حقیقی سے ایمان کی زندگی اور ایمان پر خاتمہ کی التجا کریں، اعزہ واقربا کی سلامتی کی دعا کریں، وسعت رزق حلال کی دعا کریں، استقامت علی الدین کی دعا مانگیں،خدمت دین کی توفیق مانگیں، قلب مصفی اور روح مطھر مانگیں،محبت رسول، اور تحفظ ناموس رسالت کا جذبہ صادق طلب کریں.
مجھ گنہ گار کے لیے بھی دعا فرمائیں، اللہ ہم سب کو توفیق خیر دے.
خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ
یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد
الٰہی رحم اب کیا دیر ہے تنزیل رحمت میں
مدد فرما مدد کا وقت ہے ہم ہیں مصیبت میں
گنہ گار آنکھ میں بھر لائے ہیں آنسو ندامت کے
نہ اب آیا تو کب جوش آئے گا دریائے رحمت میں

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں