Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی

 "وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی"

=========================================


                  اکتوبر 2019 بحیثیت مدرس جامعہ قادریہ بشیرالعلوم بھوجپور مرادآباد جانا ہوا دل میں یہ تمنا بار بار پیدا ہوتی تھی کہ" جامع معقول و منقول امام المنطق حضرت علامہ ہاشم صاحب قبلہ رضوی نعیمی کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل ہو مگر درسگاہ کی ذمّہ داریوں نے پیر میں بیڑی ڈالے رکھا اور حاضری کی سعادت سے مشرف نہ ہوسکا۔

                 آج بتاریخ ٢١ /شوال المکرم ١٤٤٣ ھ مطابق ٢٣ /مئی٢٠٢٢ بروز دوشنبہ بعد نماز فجر اوراد و وظائف کے بعد دارالعلوم امجدیہ ناگپور کے ایک موقر استاذ حضرت علامہ شفیق الرحمن علیمی ثقافی کے ہمراہ" شہنشاہ ہفت اقلیم حضرت سید بابا تاج الدین علیہ الرحمۃ والرضوان "کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ دارالعلوم پہونچنے کے بعد جیسے ہی نظر موبائل کی اسکرین پر پڑی فوراً " جامع معقول و منقول امام المنطق حضرت علامہ ہاشم صاحب قبلہ رضوی نعیمی مرادآبادی "کے سانحۂ ارتحال کی خبر موصول ہوئی۔ دل دھک سے ہوا یقین نہیں ہورہا تھا کہ حضرت اب ہمارے مابین نہ رہے۔ خیر :

                   " مرضئ مولٰی از ہمہ اولٰی "

دل سے کلمۂ استرجاع زبان پر جاری ہوا۔ حضرت کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ علم وفضل کے وہ درخشندہ ستارہ تھے جس کی نظیر فی زماننا ملنا بہت مشکل ہے۔ اہل علم کے مابین یکساں مقبول، مشہور و معروف تھے۔ ہمعصر علماء و فضلاء آپ سے اکتسابِ فیض کرکے خود کو شرسار  فرماتے۔ اور بڑی عزت کے ساتھ پیش آتے۔

                    بھوجپور قیام کے دوران حضرت کے" سوانحی خاکہ " کے متعلق محب گرامی حضرت مولانا ناظرالقادری صاحب قبلہ مصباحی کافی کوشاں تھے جو" سہ ماہی عرفان رضا" رسالہ میں شائع ہونا تھا جس کی وجہ سے آپ حضرت سے انٹرویواور ملاقات کی غرض سے حاضر ہوتے رہتے۔حضرت کے متعلق آپ سے کافی تبادلہ خیال ہوتا رہتا جس کی بنا پر آپ کی عظمت و رفعت دل کے نہاں خانے میں اس قدر جگہ بنالی جو ناقابل بیان ہے۔ بہر حال آپ کے فضل و کمال کا ایک جہاں معترف ہے۔

                  الحمدللہ:مولاناناظرالقادری صاحب کی کوشش رنگ لائی۔ کافی محنت اورجدوجہدکےبعدرسالہ"عرفان رضا"(اپریل،مئی،جون) میں آپ کا "سوانحی خاکہ" منظر عام پر آ چکا ہے ۔ جو کافی معلوماتی پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

                واقعی آپ کا سانحۂ انتقال جماعت اہلسنت کے لیے ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے۔ ان کے انتقالِ پر ملال سے جماعت اہلسنت رنجیدہ اور سوگوار ہے۔ یہ ناچیز دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹر کے جملہ اراکین و اساتذۂ کرام کی طرف سے آپ کے متعلقین،متوسلین،محبین اور جملہ پسماندگان کو تعزیت پیش کرتا ہے۔

                 دعاء ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں حضرت کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے اور جماعت اہلسنت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔ اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

           سوگوار: عبدالجبارعلیمی ثقافی بستی یوپی۔

           خادم: دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹر

Post a Comment

0 Comments