Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

امام پر تہمت لگانے کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ زید نے ایک عالم دین پر بغیر کسی وجہ شرعی کے اپنے ذاتی حسد وجلن کی بنیاد پراپنے گاؤں کے امام پر تہمت لگایا کہ حضرت آپ جھوٹ بولتے ہیں آپ زانی ہیں وپاپی ہیں لیکن جب اس کے قول پر لوگوں نے اس کی گرفت کی کہ اگر ان کے اندر وہ ساری برائیاں موجود ہیں جو آپ نے کہا تو وہ جواب دینے سے عاجز وقاصر ہے ایسی صورت میں جبکہ زید بغیر کسی دلیل ووجہ شرعی ایک عالم دین کو بدنام کرنے کےلیے اس طرح کا کام کیا شریعت کا اس حوالے سے کیا حکم ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل ومفصل جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں

المستفتی

محمد نظام الدین قادری جامعی

 *الجواب* بعون الملک الوھاب

 زید سخت گنہ گار، مرتکب کبیرہ، فاسق وفاجر ہے، بغیر کسی دلیل شرعی کے محض ذاتی حسد وجلن کی وجہ سے امام صاحب پر کذب وزنا کی تہمت لگانا نہایت قبیح بات ہے، اعاذنااللہ تعالیٰ منہ.

 *قرآن مجید* میں ہے :

{وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا } [الأحزاب: ٥٨-٥٩]

مزید ارشاد ہے :

 وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلاَ تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ() 

 *حدیث شریف* میں ہے :

 *١* - عن عبد الرحمن بن أبي نعم عن أبي هريرة قال سمعت أبا القاسم {صلى الله عليه وسلم} يقول من قذف مملوكه وهو بريء مما قال جلد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال(الجمع بين الصحيحين البخاري ومسلم (٣/ ٧٧)

 *٢* -عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا , وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا , وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ ۔

 (صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب : ١٠١)

 *٣* -عن علي قال: البهتان على البراء أثقل من السموات''. (كنز العمال (٣/ ٨٠٢)

 *٤* -'' لا ینبغي لصدیق أن یکون لعانًا''۔ (مشکاة المصابیح۲؍۴۱۱)

 *٥* -''لا یرمي رجلٌ رجلاً بالفسوق ولا یرمیه بالکفر إلا ارتدت علیه إن لم یکن صاحبه کذلک'' ۔ (صحیح البخاري، باب ما ینهی عن السباب واللعن،٢/ ۸۹۳ )

 *البحر الرائق* شرح كنز الدقائق میں ہے :

" ومن أبغض عالماً من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر، ولو صغر الفقيه أو العلوي قاصداً الاستخفاف بالدين كفر، لا إن لم يقصده".(٥/ ١٣٤)

 *مجمع الأنهر* میں ہے :

، ومن ابغض عالماً من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر.(١/ ٦٩٥)

 *فتاوی رضویہ شریف* میں ہے :

کسی مسلمان کو تہمت لگانی حرامِ قطعی ہے خصوصاً مَعَاذَﷲ اگرتہمتِ زنا ہو۔ (فتاویٰ رضویہ ٢٤/ ٣٨٦)

 *اسی میں ہے :* 

 اگر عالمِ کو اس لئے بُرا کہتا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہےاور بوجہِ علم اس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دُنْیَوی خُصومت کے باعث برا کہتا ہے گالی دیتا  تحقیر کرتا ہے تو سخت فاجر ہےاور اگر بے سبب رنج  رکھتا ہے تو مَرِیْضُ الْقَلْب وَخَبِیْثُ الْبَاطِن  اور اس  کے کفر کا اندیشہ ہے۔ خلاصہ میں ہے : مَنْ اَبْغَضَ عَالِماً مِنْ غَیْرِ سَبَبٍ ظَاھِرٍخِیْفَ عَلَیْهِ الْکُفْر ۔

( فتاویٰ رضویہ،٢١/ ١٢٩، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور )

 *اسی میں ہے :* 

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :

"اورعالم سُنّیُّ العقیدہ کی توہین جاہل کو جائز نہیں اگرچہ اس (بےعمل عالم) کے عمل کیسے ہی ہوں ۔ ”

(فتاوی رضویہ ٢١/ ٢٩٤رضا فاؤنڈیشن لاہور)

 *زید پر لازم ہے کہ سچے دل سے توبہ کرے، امام صاحب سے معافی مانگے،توبہ نہ کرے تو اس کا بائیکاٹ کیا جائے اور اس کے پاس اٹھنے بیٹھنے سے احتراز کیا جائے.* 

واللہ اعلم بالصواب


کتبہ *:کمال احمد علیمی نظامی* 

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

١٧ ذوالحجہ ١٤٤٣/ ١٧ جولائی ٢٠٢٢

Post a Comment

0 Comments