مختصر سی عمر میں جن باکمال شخصیات سے متاثر ہوا اور جن کے حال وقال نے میری حیات مستعار میں انقلاب برپا کیا ان میں استاذ مکرم حضرت علامہ محمد تفسیر القادری قیامی صاحب علیہ الرحمہ کی ذات بھی ہے.
سادگی و سنجیدگی کا پیکر جمیل،تحمل و بردباری کا پتلہ نور،زیرکی ودانائی سے معمور، صفاے ظاہر وباطن سے مصفی،جلوہ علم وعمل سے مجلی،پیشانی پر سجدوں کی چمک، چہرے پر عبادت وریاضت کی دمک، ہالہ نور سے گھرا ہوا وجود،اوصاف حمیدہ سے متصف ذات مسعود، یہ ایک تصوراتی تصویر ہے اس ہستی پاک کی جس کے ذکر خیر سے مشام جاں معطر ہے.
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
حضرت قیامی صاحب قبلہ کی سادگی ہی ان کی شان امتیاز تھی، مگر اس سادگی میں بلا کی کشش تھی ، جو ملتا مرمٹتا ، ہمیشہ کے لئے آپ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوجاتا.
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
ان کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
آپ کی خاموشی میں دریا کا شور پایا جاتا تھا ، گفتار سے علم وحکمت کی خوشبو پھوٹتی تھی اور آپ کے کردار میں اسلاف کی روش کی عطربیزی پائی جاتی تھی .
آپ کا ایک وصف خاص آپ کی سلیقہ مندی اور بااصول زندگی بھی تھی،ہر قدم ناپ تول کر اٹھاتے ، ہر بات سوچ سمجھ کر بولتے اور ہرکام حزم و احتیاط سے انجام دیتے، اصول کے پکے تھے، کبھی اصول سے سمجھوتا نہیں فرماتے، زندگی کی صبح وشام، حیات کا ہر لمحہ منظم ہوتا.
ایک لمبے عرصے تک دارالعلوم علیمیہ جیسے ادارے کے کارگزار پرنسپل رہے، مگر آپ اس عہدے کی خاردار وادی سے صاف بچ کر نکل گئے، کسی کو انگشت نمائی کا موقع نہیں ملا، منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی پر ذرہ بھر ظلم و زیادتی روا نہ رکھا، انصاف کے ترازو کے ساتھ اس عہدے کو خوب نباہا.
ایک استاذ کی حیثیت سے طلبہ کے لئے ریشم سے زیادہ نرم رہتے، ان کے سکھ دکھ کا خیال رکھتے اور ہر موقع پر ان کی اشک سوئی کرتے، دور طالب علمی میں مجھ کو کئی بار پیسے کی ضرورت پڑی، حضرت سے مانگا، طلب سے سوا دیا، واپس دیا تو لے لیا، کبھی تقاضا نہیں فرمایا.
مجھ پر حد درجہ شفقت فرماتے، "نصاب فارسی نظم" کی گھنٹی تھی، میں سبق سنا رہا تھا، حضرت سن رہے تھے، مسکرا کے پوچھا کہاں کے ہو، عرض کیا بلرام پور، فرمایا بلرام پور والے کب سے پڑھنے لگے.
یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی
یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا
آپ کے اخلاص کا جواب نہیں، جب بھی کسی نے دعوت دی بلا تام جھام کے پہنچے، نہ سواری کا انتظار، نہ ہار و پھول کی للک، بس جیسے بن پڑا داعی کے یہاں پہنچ گئے، کتنے پروگراموں میں ساتھ رہا ، کبھی بھی میں نے آپ کے اندر لالچ نام کی چیز نہیں دیکھی، مل گیا تو لے لیا، نہ ملا تو صبر کیا.
جمدا شاہی اور اطراف میں آپ کی تبلیغی خدمات کے نقوش آج بھی ملتے ہیں، جہاں جائیے بڑے بزرگ بس آپ ہی کو پوچھتے ہیں، کہتے ہیں قیامی صاحب ہمارے یہاں آیا کرتے تھے، بہت اچھے انسان تھے .
باتیں بہت ہیں، پھر کبھی ان شاء اللہ،سردست یہ چند کلمات ایک مخلص استاذ کی بارگاہ میں نذر ہیں،اس عرض کے ساتھ کہ:
اگر سیاہ دلم داغ لالہ زار توام
وگر کشادہ جبینم گل بہار توام
گزشتہ رات میں حضرت ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو گیے،اپنے پیچھے ایک نیک انسان اور مخلص ومشفق استاذ کی یادیں چھوڑ گئے، اللہ تعالیٰ کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.
کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
١٩ محرم الحرام ١٤٤٤/ ١٨ اگست ٢٠٢٢

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں