Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

فتوی

 اگر کسی شخص نے کہا کہ "میں اگر ایسا کروں  یا نہ کروں تو میں کافر ہوجاؤں" تو استحسانا اسے قسم مانا جائے گا، اگر وہ شخص اس قسم کے خلاف کرے گا تو اس پر کفارہ لازم ہوگا،اس شخص کو کافر قرار دینے میں مشائخ کا اختلاف ہے،مختار ومفتی بہ یہ ہے کہ اگر قائل نے یہ نیت کرکے مذکورہ قول کیا ہے کہ جب وہ کام کرے گا تو کافر ہوجائے گا تو وہ شخص اس کام کے کرنے سے رضا بالکفر کے سبب کافر ہوجائے گا، اور اگر اس کی نیت یہ تھی کہ اس کام کے کرنے یا نہ کرنے سے وہ کافر نہیں ہوگا تو اس کے کرنے کے بعد وہ کافر نہیں ہوگا.ھکذا فی الفتاوی الھندیۃ و الدرالمختار مع ردالمحتار. 

فتاوی عالمگیری میں ہے :

ولو قال إن فعل کذا فہو یہودی أو نصرانی أو مجوسی أو بریٔ من الإسلام أو کافر أو یعبد من دون اللہ أو یعبد الصلیب أو نحو ذلک مما یکون اعتقادہ کفرا فہو یمین استحسانًا کذا فی البدائع ۔ حتی لو فعل ذلک الفعل یلزمہ الکفارۃ ، وہل یصیر کافرا اختلف المشائخ فیہ قال شمس الأئمۃ السرخسی رحمہ اللہ تعالی : والمختار للفتوی أنہ إن کان عندہ أنہ یکفر متی أتی بہذا الشرط ، ومع ہذا أتی یصیر کافرا لرضاہ بالکفر وکفارتہ أن یقول لا إلہ إلا اللہ محمدٌ رسول اللہ ، وإن کان عندہ أنہ إذا أتی بہذا الشرط لا یصیر کافرًا لا یکفر ۔۔۔۔الخ(عالمگیری ج ٢ص٥٤)

درمختار مع ردالمحتار میں ہے :

(و) القسم أيضا بقوله (إن فعل كذا فهو) يهودي أو نصراني أو فاشهدوا علي بالنصرانية أو شريك للكفار أو (كافر) فيكفر بحنثه لو في المستقبل، أما الماضي عالما بخلافه فغموس.

واختلف في كفره (و) الأصح أن الحالف (لم يكفر) سواء (علقه بماض أو آت) إن كان عنده في اعتقاده أنه (يمين وإن كان) جاهلا. و (عنده أنه يكفر في الحلف) بالغموس وبمباشرة الشرط في المستقبل (يكفر فيهما) لرضاه بالكفر.

(قوله وعنده أنه يكفر) عطف تفسير على قوله جاهلا. وعبارة الفتح: وإن كان في اعتقاده أنه يكفر به يكفر لأنه رضي بالكفر حيث أقدم على الفعل الذي علق عليه كفره وهو يعتقد أنه يكفر إذا فعله اه.(الدر المختار مع رد المحتار: (٣/ ٧١٨، مطبع: دار الفکر بیروت)

     صورت مسئولہ میں قائل پر حکم کفر نہیں، کیونکہ وہ مسلم بھی ہے اور عالم بھی،جس سے ظاہر ہے کہ اس کی نیت انصاف پر عزم مصمم ہے،کہ وہ انصاف ضرور کرے گا،بلکہ انصاف ہی کرے گا مسلمان کی اس طرح کی قسم ایسے ہی عزم صادق پر محمول ہو گی،تو یہاں رضابالکفر کا کوئی سوال ہی نہیں۔لھذا قائل پر حکم کفر نہیں۔   یہاں ایک احتمال اور بھی اسلام کا ہے،اس لئے قائل اپنی قسم  سچی کرے ، حنث کی صورت میں کفارہ قسم دینا ہوگا۔ 

قائل پر لازم ہے کہ آئندہ ایسی بات نہ بولے جولو گوں کی بد گمانی اور  وحشت کا سبب بنے،خدا نہ کردہ اگر کسی عامی نے یہ لفظ سن کر اسے کافر کہ دیا توا س کا انجام کیا ہو گا،علما پر حفظ دین عوام بھی ضروری ہے. 

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

٢٨ محرم الحرام ١٤٤٤/ ٢٧ اگست ٢٠٢٢

Post a Comment

0 Comments