کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین کہ زید عالم ہے جمداشاہی وروناہی کا فارغ بتاتا ہے اور اپنی تقریر میں کہتا کہ شیطان انبیاء کی صورت اختیار نہی کرسکتا ہاں خدا کی صورت اختیار کر سکتا ہے عوام میں بڑی بے چینی ہے لہذا مفتی دوراں سے گزارش ہے کہ جلد سے جلد اس کا جواب دیکر عنداللہ ماجور ہوں ۔المستفی محمد ایوب سدھارتھ نگر
*الجواب* بعون الملک الوھاب
اللہ تعالیٰ شکل وصورت سے پاک ہے، لہٰذا زید کا قول "شیطان انبیاء کی صورت اختیار نہی کرسکتا ہاں خدا کی صورت اختیار کر سکتا ہے" باطل ہے، اس پر توبہ وتجدید ایمان لازم ہے.
شعب الایمان میں ہے:
"وہو المتعالي عن الحدود والجہات، والأقطار، والغایات، المستغني عن الأماکن والأزمان، لا تنالہ الحاجات، ولا تمسّہ المنافع والمضرّات، ولا تلحقہ اللّذّات، ولا الدّواعي، ولا الشہوات، ولا یجوز علیہ شيء ممّا جاز علی المحدثات فدلّ علی حدوثہا، ومعناہ أنّہ لایجوز علیہ الحرکۃ ولا السکون، والاجتماع، والافتراق، والمحاذاۃ، والمقابلۃ، والمماسۃ، والمجاوزۃ، ولا قیام شيء حادث بہ ولا بطلان صفۃأزلیۃ عنہ،ولا یصح علیہ العدم" (،باب في الإیمان باللّٰہ عزوجل،فصل في معرفۃأسماءاللّٰہ وصفاتہ،ج۱، ص۱۱۳)
شرح المقاصد میں ہے :
" طریقۃ أہل السنّۃ أنّ العالم حادث والصانع قدیم متصف بصفات قدیمۃ لیست عینہ ولا غیرہ، وواحد لا شبۃ لہ ولا ضدّ ولا ندّ ولانہایۃ لہ ولا صورۃ ولا حدّ ولا یحلّ في شيء ولا یقوم بہ حادث ولا یصحّ علیہ الحرکۃ والانتقال ولا الجہل ولا الکذب ولا النقص وأنہ یری في الآخرۃ"(’’شرح المقاصد‘‘، ج۲، ص۲۷۰)
المعتقدالمنتقد میں ہے :
" ولما ثبت انتفاء الجسمیۃ ثبت انتفاء لوازمہا، فلیس سبحانہ بذي لون، ولا رائحۃ، ولا صورۃ، ولا شکل إلخ" ( ’’المعتقدالمنتقد‘‘،ص ۶۴: ملتقطاً)
بہار شریعت میں ہے :
ﷲ تعالٰی جہت ومکا ن و زمان و حرکت و سکون و شکل و صورت وجمیع حوادث سے پاک ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
یکم ربیع النور ١٤٤٤/ ٢٨ ستمبر ٢٠٢٢

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں