Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

فتوی

 *کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت*

*مندرجہ ذیل مسلہ میں کہ*

*ایک گروپ ہے علمائے اہلسنت*

*وسنی دانشوران قوم وملت کی*

بنام *الجامعہ السبحانیہ  اطہر العلوم*

*زید نے اس گروپ میں لکھا کہ اس گروپ میں*

*کچھ جہنمی شامل ہو گئے ہیں*

  *١/زید کا ایسا لکھنا ازروءے شرع کیسا ہے؟*

 *٢/زید پر  یا زید کے اس جملے*

*پر متفق ہونے والے ممبران پہ*

 *اللہ ورسول(جل جلالہ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا کیافرمان ہے؟*

*٣ اہل گروپ کے اعتراض کرنے پر زید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ نقلی سید بنتے ہیں وہ جہنمی ہیں تو کیا زید پر توبہ ہے اگر تو ٹھیک ہے ورنہ زبردستی توبہ کروانے والوں پر کیا حکم شرع ہے*


*توضیح فرمائیں اور اجر عظیم* 

*کے مستحق ہوں*

*المستفتی*

*جہانگیر القادری ضیائی گوونڈی ممبئی*

 *الجواب* بعون الملک الوھاب

اگر چہ یہ صحیح ہے کہ جو بھی غیر سید سید ہونے کا دعویٰ کرے اس کے لیے جہنم کی وعید آئی ہے، چناں چہ حدیث شریف میں ہے:

لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَی لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا کَفَرَ وَمَنِ ادَّعَی قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.(بخاري، الصحيح، كتاب المناقب، باب نسبة اليمن إلى إسماعيل، 3: 1292، رقم: 3317، بيروت)

ترجمہ :جس شخص نے جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور سے اپنا نسب جوڑا اس نے کفر (کفران نعت) کیا،اور جس نے کسی ایسی قوم سے ہونے کا دعویٰ کیا جس میں سے وہ نہیں ہے تو اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے. لیکن گروپ میں شامل لوگ متعین اور مشخص ہوتے ہیں اور کسی ایسے گناہ کی بنیاد پر جو کفر نہ ہو قطعی طور پر کسی متعین شخص کے جہنمی ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ دیکھی*کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت*

*مندرجہ ذیل مسلہ میں کہ*

*ایک گروپ ہے علمائے اہلسنت*

*وسنی دانشوران قوم وملت کی*

بنام *الجامعہ السبحانیہ  اطہر العلوم*

*زید نے اس گروپ میں لکھا کہ اس گروپ میں*

*کچھ جہنمی شامل ہو گئے ہیں*

  *١/زید کا ایسا لکھنا ازروءے شرع کیسا ہے؟*

 *٢/زید پر  یا زید کے اس جملے*

*پر متفق ہونے والے ممبران پہ*

 *اللہ ورسول(جل جلالہ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا کیافرمان ہے؟*

*٣ اہل گروپ کے اعتراض کرنے پر زید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ نقلی سید بنتے ہیں وہ جہنمی ہیں تو کیا زید پر توبہ ہے اگر تو ٹھیک ہے ورنہ زبردستی توبہ کروانے والوں پر کیا حکم شرع ہے*


*توضیح فرمائیں اور اجر عظیم* 

*کے مستحق ہوں*

*المستفتی*

*جہانگیر القادری ضیائی گوونڈی ممبئی*

 *الجواب* بعون الملک الوھاب

اگر چہ یہ صحیح ہے کہ جو بھی غیر سید سید ہونے کا دعویٰ کرے اس کے لیے جہنم کی وعید آئی ہے، چناں چہ حدیث شریف میں ہے:

لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَی لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا کَفَرَ وَمَنِ ادَّعَی قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.(بخاري، الصحيح، كتاب المناقب، باب نسبة اليمن إلى إسماعيل، 3: 1292، رقم: 3317، بيروت)

ترجمہ :جس شخص نے جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور سے اپنا نسب جوڑا اس نے کفر (کفران نعت) کیا،اور جس نے کسی ایسی قوم سے ہونے کا دعویٰ کیا جس میں سے وہ نہیں ہے تو اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے. 

لیکن گروپ میں شامل لوگ متعین اور مشخص ہوتے ہیں اور کسی ایسے گناہ کی بنیاد پر جو کفر نہ ہو قطعی طور پر کسی متعین شخص کے جہنمی ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔دیکھیے رشوت لینے دینے والے پر جہنمی ہونے کی وعید آئی ہے، لیکن کسی متعین رشوت لینے دینے والے کو یوں نہیں کہا جائے گا کہ  فلاں جہنمی ہے، جب تک اس کو حلال نہ سمجھے۔ ہاں! یہ کہنا صحیح ہے کہ رشوت لینے دینے والے جہنمی ہیں۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:

"نماز نہ پڑھنا سخت کبیرہ ہے مگر اس کے جہنمی ہونے پر یقین نہیں ہوسکتا کہ کفر کے سواسب گناہ زیر مشیت الہٰی ہیں"۔

(فتاوی رضویہ ج ١۴ص٦٨۵)

اور اگر گروپ میں کوئی نقلی سید نہیں ہے تو زید کا مذکورہ قول غلط ہے، بلا وجہ اس طرح کی بات کہنا ناجائز ہے، حدیث شریف میں ہے :

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تحاسدوا ولا تناجشوا ولا تباغضوا ولا تدابروا ولا يبع بعضكم على بيع بعض و كونوا عباد الله إخوانا ، المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله ولا يحقره ، التقوى ههنا ، ويشير إلى صدره ثلاث مرات، بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم ، كل المسلم على المسلم حرام : دمه ، وماله و عرضه . 

ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تم ایک دوسرے سےحسد نہ کرو ، نہ خرید وفروخت میں بولی بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکہ دو ، نہ باہم بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرواور نہ یک دوسرے کے سودے پر سودا کرو، اے اللہ کے بندو تم بھائی بھائی بن جاؤ ، مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرے ، نہ اسے حقیر سمجھےاور نہ اس کو  بے سہارا چھوڑے اور اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا : تقویٰ یہاں ہے، مزید فرمایا : ایک شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ، ہر مسلمان کا خون ،اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔(الصحیح لمسلم جلدثانی صفحہ ٣١٧مجلس برکات مبارکپور )

لہذا زید اس طرح کی بات کہنے سے احتیاط لازم پکڑے.

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

Post a Comment

0 Comments