خدمت دین کے بہت سارے ذرائع ہیں،ان میں فتوی نویسی سب سے مفید اور بابرکت ذریعہ ہے، حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق دنیا میں اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر فرمانا چاہتا ہے اسے فقہ کا علم عطا فرماتا ہے، شیطان پر ایک فقیہ ہزار عبادت گزار لوگوں سے زیادہ بھاری ہے
ادھر جب سے شوشل میڈیا کا رواج ہوا، لوگوں نے اس پراسرار دنیا سے جہاں حددرجہ نقصان اٹھایا وہیں سعادت مند لوگوں نے اس سے فائدہ بھی خوب اٹھایا،اللہ تعالیٰ دنیا کی کوئی شی بیکار نہیں بنائی، اب یہ دنیا والوں پر منحصر ہے کہ اس کا استعمال خیر میں کریں یا شر میں،اس میدان سے جڑے کچھ اہل علم حضرات نے اس پلیٹ فارم کو شرعی مسائل کی ترویج و اشاعت کے لئے استعمال کیا،اس طریقہ کار سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچا، سوال کرنا بھی آسان ہو گیا اور جواب دینا بھی،پہلے ایک فتویٰ حاصل کرنے میں مہینے لگ جاتے تھے اب شوشل میڈیا نے اس کام کو آسان بنا دیا ہے،لوگوں کے لئے سہولت ہوگئی ہے.
المیہ یہ ہے کہ ہمارا فریق مخالف جب میدان مار لیتا ہے تب ہم میدان میں قدم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں،شوشل میڈیائی فتوی نویسی میں بھی یہی ہوا،اس میدان کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے دیوبند اور بنوریہ نے اپنی پوری ٹیم لگا کر اس شعبے میں زبردست پیش رفت کی، جب کہ ہمارے یہاں اس طرف بالکل التفات نہ کیا گیا، نیٹ پرکوئی بھی مسئلہ سرچ کرنے پر سرفہرست غیروں کے فتاوی سامنے آنے لگے،
زیر نظر کتاب "فتاوی غوث وخواجہ"شوشل میڈیا پر آنے والے سوالات کے شرعی جوابات کا حسین مرقع ہے،جس میں کتاب الحظر والاباحۃ. سے متعلق فتاوی جمع کیے گئے ہیں، شروع کے چند فتاوی نظر سے گزرے،علمی قحط کے اس دور میں ہمارے مفتیان کرام نے امید کا چراغ جلایا ہے،ان کی محنت اور فتوی نویسی میں درک دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ ان شاء اللہ تعالیٰ فتوی نویسی کا مستقبل ان کے نور قلم سے تابندہ ہوگا، امت مسلمہ ان کے علمی افادات سے مستفید ہوگی،دین مصطفی کا سورج دمکتا رہے گا، شرعی عدالت کی شان باقی رہے گی.

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں