*سوال*
*زید* جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے
لیکن وہ ہندؤں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے اور ان کے کسی فرد کے مرنے پر اس مُردے کو جَلانے بھی ساتھ جاتاہے
(منع کر نے پر کہتا ہے بس ان کے ساتھ جاتا ہوں گاڑی پر بیٹھا رہتا ہوں)
اور مندر کے افتتاح میں خوردو نوش مع روپے کی شکل میں چندہ بھی دیتا ہے اور قربانی کا گوشت بھی ان کے یہاں پہنچاتا ہے
اس شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے مع حوالہ جوب عنایت فرمائیں
الجواب بعون الملک الوھاب
غیر مسلم کے ساتھ بلا ضرورت اٹھنا بیٹھنا منع ہے،قرآن مجید میں ہے :
- لاَّ یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْکَافِرِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ فَلَیْْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْیٍٔ الا أَنْ تَتَّقُوْا مِنْہُمْ تُقَاۃً۔﴿ آلِ عمران : ۲۸)
۲- یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَائَ تُلْقُونَ اِلَیْْہِم بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَائ کُم مِّنَ الْحَقِّ ۔﴿ الممتحنہ:۱﴾
غیر مسلم کے مرنے پر مردے کو جلانے کے لیے مرگھٹ تک جانا جائز نہیں،فتاوی شارح بخاری میں ہے :
"ہندو کی ارتھی کے ساتھ ایک قدم بھی چلنا گناہ ہے، مگر اس سے اس کی بیوی اس کے نکاح سے نہیں نکلے گی۔"
اسی میں صفحہ ٥٦٠پر ہے:
" غیر مسلم مردے کے ساتھ شمشان گھاٹ جانا گناہ ہے اور اگر اس طرح جائے کہ وہ بھی ان کی بولی بولتا ہے تو کفر ہے۔ اس صورت میں یہ حکم ہے کہ توبہ و تجدید ایمان کرے، بیوی والا ہے تو تجدید نکاح بھی کرے، اور اگر بیوی والا نہیں تو صرف توبہ و تجدید ایمان کرے۔واللہ تعالی اعلم۔ ( فتاوی شارح بخاری، ج:۲، ص:۵۵۹،۵۶۰، کتاب العقائد، باب الفاظ الکفر، دائرۃ البرکات گھوسی)
مندر کی افتتاحی تقریب میں شرکت سخت ناجائز وحرام ہے،اور اگر اس میں انجام دیے جانے والے اعمال کو اچھا سمجھتے ہوئے شرکت کی تو یہ کفر ہے.فتاوی رضویہ میں کفار کے مذہبی میلے میں شرکت کرنے والوں کے تعلق سے امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں :
"ایسے لوگ فساق فجار کبائر مستحق عذاب نار وغضب جبار ہیں۔ مسلمان کو حکم ہے راہ چلتاہوا کفار کے محلہ سے گزرے تو جلد نکل جائے کہ وہ محل لعنت ہے،نہ کہ خاص ان کی عبادت کی جگہ، جس وقت وہ غیر خدا کو پوج رہے ہوں،قطعاً اس وقت لعنت اترتی ہے اور بلا شبہ اس میں تماشائیوں کا بھی حصہ ہے، یہ اس وقت ہے کہ محض تماشا مقصود ہو، اور اسی غرض سے نقد واسباب دے کر اعانت کی جاتی ہو،اور اگر ان افعال ملعونہ کو اچھا جانا، یا ان تصاویر باطلہ کو وقعت کی نگاہ سے دیکھا،یا ان کے کسی حکم کفر پر”ہوں ہاں“ کہا جیسا کہ سوال میں مذکور، جب تو صریح کفر ہے۔
غمز العیون میں ہے:
(من استحسن فعلا من افعال الکفارکفر باتفاق المشائخ)
ان لوگوں کواگر اسلام عزیز ہے اور یہ جانتے ہیں کہ قیامت کبھی آئے گی اور واحد قہار کے حضور جانا ہوگا تو ان پر فرض ہے کہ توبہ کریں اور ایسی ناپاک مجلسوں سے دور بھاگیں، نئے سرے سے کلمہ اسلام اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں ورنہ عذاب الٰہی کے منتظر رہیں۔قال اللّٰہ تعالٰی:(یٰایھا الذین اٰمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ ولا تتبعوا خطوٰت الشیطن ان الشیطن للانسان عدومبین)
(فتاویٰ رضویہ:جلد نہم:جزدوم:ص137-رضا اکیڈمی ممبئ)
مذکورہ تقریب میں چندہ دینا بھی ناجائز و حرام ہے قرآن مجید میں ہے: "وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪"
اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ (المائدہ آیت ۲)
بلکہ اگر ان کے شرکیہ اعمال میں اعانت کی نیت سے خوشی خوشی چندہ دیا تو کفر کیا۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
" ان من ساعد علیٰ ذالک فھو راض بالکفر والرضاء بالکفر کفر " (فتاویٰ عالمگیری جلد ۲، صفحہ۲۵۷، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطبع رشیدیہ پاکستان)
ہندوستان میں غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دینا جائز نہیں، فتاوی رضویہ میں ہے :
"یہاں کے کافروں کو گوشت دینا جائز نہیں وہ خاص مسلمانوں کا حق ہے"
[فتاویٰ رضویہ، جلد ٢٠، صفحہ ٤٥٧، مطبوعہ رضا فاؤنڈیش لاھور]
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں