اللہ جل شانہ نے کائنات کی تخلیق فرما کر تمام مخلوقات میں انسان کو سب سے زیادہ عزت وکرامت بخشی،اور اسے بےشمار انعامات سے نواز کر ساری کائنات میں تمغہ امتیاز بخشا.
رب کریم کی بے پایاں عنایات کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے خالق ومالک پر ایمان لائے، اس کی وحدانیت کا اقرار کرے،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے،اسی کو اپنا سب کچھ مانے،اس کی ذات اور صفات پر یقین کامل رکھے، اسی کو معبود حقیقی سمجھے، دل سے ان باتوں کی تصدیق کرے، زبان سے اقرار کرے اور عمل سے اظہار کرے، اسی کو ایمان باللہ کہتے ہیں.
*ایمان کی لغوی تحقیق :*
التعريفات میں ہے :
الایمان فی اللغۃ :التصديق بالقلب.
شرح عقائد میں ہے :
والایمان فی اللغۃ : التصدیق أی اذعان حکم المخبر وقبوله، وجعله صادقا. إفعال من الأمن کان حقیقۃ “امن بہ” امنه التکذیب والمخالفۃ . یعدی باللام کما فی قولہ تعالیٰ حکایۃ عن إخوۃ یوسف علیہ السلام: “وماأنت بمؤمن لنا” أی بمصدق، وبالباء کما فی قولہ علیہ السلام: “الایمان أن تؤمن بالله. الحدیث، أی تصدق
(شرح عقائد، ص ۱۲۵، مجلس برکات)
ترجمہ :اور ایمان لغت میں تصدیق کا نام ہے، یعنی خبر دینے والے کی بات کا یقین کرلینا اور اس کو مان لینا اور اس کو سچ قرار دینا، افعال کا مصدر ہے أمن سے ماخوذ ہے، گویا کہ “اٰمن بہ” کا حقیقی معنی ہیں اس کو تکذیب اور مخالفت سے مامون کردیا. لام کے ذریعہ متعدی ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی حکایت کے طور پر “وما أنت بمؤمن لنا” میں، یعنی بمصدق، اور باء کے ذریعہ (متعدی ہوتا ہے)جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول “الإیمان أن تؤمن باللہ” میں تؤمن بمعنی تصدق ہے
*ایمان کا شرعی معنی* :
عقیدہ طحاویہ میں ہے :
و الایمان ھوالاقرار باللسان و التصديق بالجنان.(٩٢)
ترجمہ :ایمان زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کو کہتے ہیں.
التعريفات میں ہے :
وفی الشرع :ھوالاعتقاد بالقلب والاقرار باللسان ،قیل من شھد وعمل ولم یعتقد فھو منافق ومن شھد ولم یعمل واعتقد فھو فاسق ،ومن اخل بالشھادۃ فھو کافر. (ص ٣٧)
ترجمہ :
بہار شریعت میں ہے :
عقیدہ (۱):اصلِ ایمان صرف تصدیق کا نام ہے، اعمالِ بدن تو اصلاً جزو ایمان نہیں، رہا اقرار، اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تصدیق کے بعد اس کو اظہار کا موقع نہ ملا تو عند اللہ مومن ہے اور اگر موقع ملا اور اُس سے مطالبہ کیا گیا اور اقرار نہ کیا تو کافر ہے اور اگر مطالبہ نہ کیا گیا تو احکام دنیا میں کافر سمجھا جائے گا، نہ اُس کے جنازے کی نماز پڑھیں گے، نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں گے، مگر عند اللہ مومن ہے اگر کوئی امر خلافِ اسلام ظاہر نہ کیا ہو۔
عقیدہ (۲):مسلمان ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیز کا انکار نہ کرے جو ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ باقی باتوں کا اقرار کرتا ہو، اگرچہ وہ یہ کہے کہ صرف زبان سے انکار ہے دل میں انکار نہیں ، ۔۔۔۔(بہار شریعت)
*ایمان کی مختلف صورتیں* :
ایمان کی پانچ صورتیں ہیں، چناں چہ التعريفات میں ہے :
الایمان علی خمسۃ اوجہ :ایمان مطبوع، ایمان مقبول، وایمان معصوم وایمان موقوف وایمان مردود، فالایمان المطبوع ھو ایمان الملائکۃ و الایمان المعصوم ایمان الانبیاء و الایمان المقبول ھوایمان المومنین ،والایمان الموقوف ھو ایمان المبتدعین و الایمان المردود ھو ایمان المنافقین.
ترجمہ :ایمان کی پانچ صورتیں ہیں :ایمان مطبوع، ایمان مقبول، ایمان معصوم، ایمان موقوف، ایمان مردود.
تو ایمان مطبوع ملائکہ کا ایمان ہے، ایمان معصوم انبیا کا ایمان ہے، ایمان موقوف مبتدعین کا ایمان ہے،اور ایمان مردود منافقین کا ایمان ہے.
*ایمان باللہ کا شرعی حکم*
اللہ تعالیٰ پر ایمان ارکان اسلام میں سے ایک عظیم رکن اور دین کی بنیاد ہے، انسان مکلف پر سب سے پہلا فرض جو عاید ہوتا ہے وہ ایمان باللہ ہے، ارشاد ربانی ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(النساء :۱۳۶)
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کی (ان سب پرہمیشہ) ایمان رکھو اور جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کو نہ مانے تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں جاپڑا۔
*ایمان باللہ کا کا صلہ*
جو فرض جتنا عظیم ہوتا ہے اس کا صلہ بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲)وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَؕ-خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(البقرۃ :۶۳)
بیشک ایمان والوں نیزیہودیوں اورعیسائیوں اور ستاروں کی پوجا کرنے والوں میں سے جو بھی سچے دل سے اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان لے آئیں اور نیک کام کریں توان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔اور یاد کروجب ہم نے تم سے عہد لیا اور تمہار ے سروں پر طورپہاڑ کو معلق کردیا(اور کہا کہ) مضبوطی سے تھامو اس (کتاب) کو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے اور جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے اسے یاد کرواس امید پر کہ تم پرہیز گار بن جاؤ.
دوسری جگہ ارشاد ہے :
اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـٴُـھُمُ الطَّاغُوْتُۙ- یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۲۵۷)
ترجمہ: کنزالعرفان
اللہ مسلمانوں کا والی ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں ۔ یہی لوگ دوزخ والے ہیں ،یہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
تیسری جگہ ارشاد ہے :
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ-یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۵۵)
ترجمہ: کنزالعرفان
اللہ نے تم میں سے ایمان والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ ضرورضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کوخلافت دی ہے اور ضرورضرور اِن کے لیے اِن کے اُس دین کو جما دے گا جو ان کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور ضروران کے خوف کے بعد ان( کی حالت)کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ نافرمان ہیں ۔
مزید ارشاد ہے :
وَعَدَ اللهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَمَسٰکِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ط وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللهِ اَکْبَرُ ط ذٰلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ.
(التوبة:٧٢)
ترجمہ :اللہ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ، ان میں ہمیشہ رہیں گے اور عدن کے باغات میں پاکیزہ رہائشوں کا (وعدہ فرمایا ہے) اوراللہ کی رضا سب سے بڑی چیز ہے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے.
*ایمان باللہ پر نجات کا دارومدار ہے*
انسان کی نجات کا دارومدار اس کے عمل پر نہیں بلکہ ایمان پر ہے،ایمان کے بغیر عمل مقبول ہی نہیں،جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ ناجی ہوگا، جیسا کہ بخاری شریف میں ہے:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَا أَوِ الْحَيَاةِ شَكَّ مَالِكٌ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً”، قَالَ وُهَيْبٌ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو الْحَيَاةِ، وَقَالَ: خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ.(.)
ترجمہ :ہم سے اسماعیل نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ان سے مالک نے، وہ عمرو بن یحییٰ المازنی سے نقل کرتے ہیں، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو۔ تب (ایسے لوگ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے۔ (یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ اوپر کے راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے۔ وہیب نے کہا کہ ہم سے عمرو نے ( «حياء» کی بجائے) «حياة»، اور ( «خردل من ايمان») کی بجائے ( «خردل من خير») کا لفظ بیان کیا۔
قرآن مجید میں جہاں بھی عمل صالح کا ذکر ہے وہاں عمل سے پہلے ایمان کا تذکرہ کیا گیا ہے، مندرجہ ذیل آیات ملاحظہ فرمائیں :
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (بقرۃ:٨٢)
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ(بقرۃ:٢٧٧)
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَانِهِمْ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (یونس:٩)
ان آیات میں ایمان کا ذکر پہلے کرکے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ ایمان عمل صالح کی روح ہے، اسی مدار نجات ہے.
ایک مقام پر اس کی صراحت بھی کردی گئی ہے؛ ارشاد ہے:
وَمَنْ يَکْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ ز وَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَo(المائدۃ :٥)
ترجمہ :اور جو شخص (احکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا.
*ایمان باللہ کے تقاضے*
اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اولین تقاضا یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، چناں چہ ارشاد ہے:
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا [سورة الكهف:١١٠].
اوامر پر اور نواہی سے اجتناب کیا جائے،ارشاد ربانی ہے :
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ﳝ- وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ﱠ كَزَرْعٍ اَخْرَ جَ شَطْــٴَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَؕ-وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠(الفتح :۲۹)
ترجمہ: کنزالعرفان
محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ، آپس میں نرم دل ہیں ۔ تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا ،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں ، ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان سے ہے ۔یہ ان کی صفت تورات میں (مذکور) ہے اور ان کی صفت انجیل میں (مذکور) ہے۔ (ان کی صفت ایسے ہے) جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی باریک سی کونپل نکالی پھر اسے طاقت دی پھر وہ موٹی ہوگئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی، کسانوں کو اچھی لگتی ہے (اللہ نے مسلمانوں کی یہ شان اس لئے بڑھائی) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلائے۔ اللہ نے ان میں سے ایمان والوں اور اچھے کام کرنے والوں سے بخشش اور بڑے ثواب کاوعدہ فرمایا ہے۔
دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہو، کہ یہی خشیت تمام حسنات کا سرچشمہ ہے.
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ(الانفال: ۲)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿٢٧٨ البقرة﴾
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٠٢ آل عمران﴾
ترجمہ:
ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈرجائیں اور جب اُن پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں
حلال اور پاکیزہ رزق کھائی جائے، ارشادہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ﴿١٧٢ البقرة﴾
ریاکاری سے اجتناب کیا جائے، ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ﴿٢٦٤ البقرة﴾
عدل و انصاف سے کام لیا جائے؛ ارشاد ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴿١٣٥ النساء﴾
تکبر سے بچا جائے،کہ تکبر رب العالمین کی شان ہے، ارشاد ہے:
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(الحشر:۲۳)
ترجمہ: کنزالایمان
وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ نہایت پاک سلامتی دینے والا امان بخشنے والا حفاظت فرمانے والا عزّت والا عظمت والا تکبر والا اللہ کو پاکی ہے ان کے شرک سے.
رسول کریم علیہ السلام کی اطاعت وپیروی کی جائے،کہ دراصل اطاعت رسول اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے، ارشاد ربانی ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠( النساء :۵۹)
ترجمہ: کنزالعرفان
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے حکومت والے ہیں ۔ پھر اگر کسی بات میں تمہارا اختلاف ہوجائے تواگر اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اس بات کو اللہ اور رسول کی بارگاہ میں پیش کرو۔ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے۔
*ایمان باللہ کی شاخیں*
ایمان باللہ کی متعدد شاخیں ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں :
١-وجود باری تعالیٰ پر ایمان
٢-اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان
٣-اللہ تعالیٰ کی صفات پر ایمان
اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی پر ایمان
٤-اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان
٥-اللہ تعالیٰ کے فرشتوں پر ایمان
٦-اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان
٧-تقدیر پر ایمان
*وجود باری تعالیٰ پر ایمان*
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دلائل کے ذریعے وجود باری تعالیٰ پر ایمان لانے کی ترغیب دی گئی ہے، چند آیات ملاحظہ فرمائیں :
إِنَّ اللهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ذَلِكُمُ اللَّهُ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ‘‘(الانعام :٩٥)
’’بے شک اللہ تعالى دانے اور گٹھلی کو چیرنے والا ہے زندہ کو مردہ سے نکالنے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا یہ ہے اللہ! تم کہاں اوندھے جاتے ہو‘‘
مزید ارشاد ہے :اللّهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ‘‘[الرعد :٢]
’’اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا، تم انہیں دیکھتے ہو، پھر اس نے عرش پر جلوہ فرمایا اور اس نے سورج او رچاند کو اپنے نظام پر کار بند فرما دیا ہر ایک اپنی مقرر مدت تک گردش کررہا ہے، وہی دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے وہ آیتوں کی تفصیل فرماتا ہے تاکہ تم کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے کا یقین ہو‘‘-
مزید ارشاد ہے :
’’وَ إِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ‘
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ لِلّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ‘‘[ لقمان :٢٥ /٢٦]
’’اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین تو ضرور کہیں گے اللہ نے تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں؛ اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا‘‘-
سوره الاسراء میں فرمایا:
’’وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنْسَانُ كَفُوْرًا‘‘[٦٧]
’’اور جب تمہیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے سوا جنہیں پوجتے ہیں سب گم ہوجاتے ہیں پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہو اور آدمی بڑا ناشکرا ہے‘‘-
قُلْ هُوَ اللهُ أَحَداللهُ الصَّمَد لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ‘‘(الاخلاص :
’’آپ فرما دیجئے: وہ اللہ ایک ہے- اللہ بے نیاز ہے- اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے‘‘-
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے متعدد دلائل سے وجود باری تعالیٰ پر استدلال فرما کر ذات باری تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے.

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں