السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب مفتی صاحب قبلہ
میرا نام شیخ عبد السلام ہے مجھے شریعت کے بارے میں کچھ معلوم کرنا ہے مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میرے دادا کی جائیداد (property) ہے ابھی میرے والد حیات ہیں، اگر میرے والد کا انتقال ہوجاتا ہے تو میری والدہ کا میرے دادا کی جائیداد سے کوئی حق ہوگا یا نہیں، اگر ہوگا تو کس حساب سے ہوگا، بس ان چند لفظوں کے ساتھ میں اختتام کرتا ہوں، اور میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا، اس میں مسلم پرسنل قانون میں کیا حقیقت ہے
جزاک اللہ
شیخ عبد السلام ولد محمد صاحب
9819762692
*الجواب* بعون الملک الوھاب
بہو کا خسر کی جائیداد میں کوئی حق نہیں ہے،چناں چہ فتاوی عالم گیری میں ہے :
ویستحق الإرث بإحدی خصال ثلاث: بالنسب: وہو القرابة، والسبب،: وہو الزوجیة والولاء۔ (الفتاوی الہندیة: ۶/۴۴۷)۔
فتاوی رضویہ میں ہے :
"داماد یا خُسر(سسر) ہونا اصلاً کوئی حق وراثت ثابت نہیں کرسکتا خواہ دیگر ورثاء موجود ہوں یا نہ ہوں ہاں اگر اور رشتہ ہے تو اس کے ذریعہ سے وراثت ممکن ہے مثلاً داماد بھتیجا ہے خسر چچا ہے تواس وجہ سے باہم وراثت ممکن ہے ایک شخص مرے اور دو وارث چھوڑے ایک دختر اور ایک بھتیجا کہ وہی اس کا داماد ہے تو داماد بوجہ برادر زادگی نصف مال پائے گا اور اگر اجنبی ہے تو کُل مال دختر(یعنی،بیٹی) کو ملے گا داماد کا کچھ نہیں"-(فتاوی رضویہ،کتاب الفرائض،٣٣١/٢٦)
ہاں آپ کی والدہ کو ان کے شوہر یعنی آپ کے والد کے ترکہ سے آٹھواں ملے گا.
بہار شریعت میں ہے :
اگر میّت کی بیوی کے ساتھ میت کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی نہ ہو تو اس کو کُل مال کا چوتھائی ملے گا.
اگر میت کی بیوی کے ساتھ میت کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی ہو تو اس کو آٹھواں حصہ ملے گا. (ج ٣ ح بیس ص ١١٢٦)
لہذا آپ کی والدہ کا آپ کے دادا کی جائیداد میں کوئی حق نہیں ہے.
واللہ اعلم بالصواب۔
کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
٢٠ جمادی الآخرۃ ١٤٤٤ ھ/١٣جنوری ٢٠٢٣ء

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں