*استاذ القرا.. کچھ یادیں کچھ باتیں*
*کمال احمد علیمی نظامی*
آج فخرالقراحضرت قاری شیر محمد صاحب (تغمدہ اللہ تعالیٰ بغفرانہ) انتقال کر گئے،ایک نہایت سنجیدہ فکر،معتدل مزاج،شریف النفس،خوش اخلاق،نیک خو اور باصلاحیت معلم قرآن سے ہم محروم ہو گئے.
قاری صاحب ہمارے علاقے کے ان چنندہ اہل علم میں سے تھے جو اہل سنت و جماعت کے عظیم محسن سمجھے جاتے ہیں، جن کے حال وقال سے علاقہ بھانبھر کی سنیت محفوظ رہی،آپ نے حفظ وقراءت کے میدان میں محنت شاقہ فرما کر علاقے میں اچھے ائمہ، حفاظ اور قرا کی ایک ٹیم تیار کی جن کی وجہ سے مساجد اور ان کے مصلے محفوظ ہیں.
قاری صاحب بڑے خوش اخلاق تھے،سیدھے سادے اور خاموش طبیعت کے مالک تھے،وزن دار اور نیک طینت تھے،اپنے فرائض کے تئیں نہایت حساس اور متحرک تھے.
قاری صاحب ١٥ جولائی ١٩٥٨ ء میں بمہیاں ضلع بلرام پور میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم ان کے گاؤں بمہیاں میں دارالعلوم اہل سنت ہدایت الاسلام میں ہوئی، اس کے بعد علاقے کی مرکزی درس گاہ دارالعلوم فضل رحمانیہ پچپڑوا میں تعلیم حاصل کی، اعلی تعلیم کے لئے اس وقت کے ابھرتے ہوئے دینی ادارہ جامعہ انوار العلوم تلسی پور میں داخلہ لیا، جہاں پر بابائے ملت حضرت علامہ عتیق الرحمن صاحب علیہ الرحمہ کی نگرانی میں دینی شعور میں پختگی کا سامان کیا،یہاں پر آپ نے حضرت قاری تفضل حسین صاحب سے شرف تلمذ حاصل کیا، آپ بابائے ملت کے یہاں بڑے چہیتے اور مقبول بارگاہ طالب علم تھے، قراءت میں حصول تبحر کے لئے مدرسہ فرقانیہ گونڈہ گیے، جہاں پر قراءت سبعہ میں رسوخ حاصل کیا.
تدریسی زندگی کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے دارالعلوم امجدیہ ناگ پور میں علمی فیضان عام کیا، اس کے بعد معمار ملت حضرت علامہ کوثر خان نعیمی صاحب علیہ الرحمہ کے ادارہ جامعہ عربیہ اظہار العلوم جہاں گیر گنج میں شعبہ قراءت کے استاذ کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں،وہاں سے دارالعلوم نورالحق ٹنڈوا سدھارتھ نگر تشریف لائے جہاں پر اپنےہم عصر ومصر ساتھی حضرت علامہ صوفی محمد نظام الدین نوری صاحب دامت برکاتھم کے ساتھ تدریسی فرائض انجام دیے.
یہ وہ دور تھا جب علاقہ بھانبھر میں برگدوا سیف کی سر زمین پر بڑی تیزی کے ساتھ سرکار غریب نواز رضی اللہ عنہ کے نام سے منسوب ادارہ دارالعلوم غریب نواز اپنے بال وپر نکال رہا تھا، یہ ادارہ کی ترقی کا ابتدائی دور تھا، یہاں ایک اچھے مشاق قاری کی ضرورت تھی، ارباب حل وعقدکی دعوت اخلاص پر حضرت یہاں تشریف لائے، اور اپنی محنت ولگن سے ادارے کو نئی پرواز عطا کردی، شعبہ حفظ وقراءت میں روح پھونک دی،آپ اور دیگر اساتذہ کرام کی محنت ولگن سے یہاں کا تعلیمی معیار بہت مشہور ہوگیا.
تقریباً چھبیس سال تک علمی جواہر لٹا کر ٢٠٢١ میں ریٹائرڈ ہوگیے،اس کے بعد سے گھر ہی پر رہنے لگے.
١٩٧٢ ء میں جب سرکار مفتی اعظم ہند دارالعلوم فضل رحمانیہ میں تشریف لائے تو آپ ہی کے دست اقدس پر مرید ہوئے، اور خانوادہ رضویہ کے تاحیات وفادار رہے.
آج١٩ جمادی الآخرۃ ١٤٤٤ھ/ ١٢ جنوری ٢٠٢٣ء کوقاری صاحب اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچ گئے، پرسوں لکھنؤ میں ہارٹ کا آپریشن ہوا تھا، ہوش میں تھے، اچانک صبح طبیعت بگڑی اور پھر سدھر نہ سکی، آپ اپنے پیچھے چار بیٹے اور چار ہی بیٹیاں چھوڑ گیے، آپ کے سیکڑوں تلامذہ ان پر مستزاد ہیں، آپ کی رحلت سے علاقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی،صرف ان کے اہل خانہ ہی نہیں بلکہ جماعت اہل سنت ایک باصلاحیت قاری قرآن سے محروم ہو گئی، اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.
میں حضرت کے صاحب زدگان محب مکرم حضرت قاری مسعود عالم صاحب، شاہ عالم صاحب، عزیزم مولانا مطلوب صاحب اور دیگر اہل خانہ خصوصاً رفیق محترم حضرت مولانا سعید احمد علیمی نظامی شاہ پور وغیرہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں، غم کی اس گھڑی میں ہم سب شریک غم ہیں.
مذکورہ بالا معلومات میں سے اکثر باتیں معتمد معمار ملت، حضرت علامہ *محمد انتظار خان* نعیمی صاحب استاذ دارالعلوم غریب نواز برگدوا سیف پچپڑوا کے ذریعے حاصل ہوئیں، اللہ تعالیٰ حضرت کو سلامت رکھے.
**کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں