اگر رات سھاگ کی ہو اور عورت حالت ناپاکی میں ہو تو مردبیچارہ کیاکرے اور ایسی صورت میں بیوی کو کیا کرنا چاہیے جب کہ پہلی قربت نا ہونے کی صورت مرد کے دماغی توازن بگڑ نے کاخدشہ ہو.
ناپاکی کی حالت میں مرد کا عورت سے ہم بستری کرنا حرام ہے، قرآن مجید میں ہے :
وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(البقرۃ :٢٢٢)
ترجمہ:اور تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تم فرماؤ: وہ ناپاکی ہے تو حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک پاک نہ ہوجائیں پھر جب خوب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس وہاں سے جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیاہے ، بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
اس لیے ناپاکی کی حالت میں شوہر عورت سے قربت نہیں کرسکتا ہے،دماغی توازن کے بگڑنا یقینی نہیں، محض اس کا ڈر ہے، لہذا اس غیر یقینی چیز سے یقینی حرمت نہیں اٹھ جائے گا.فقہ کا مشہور قاعدہ ہے :
"الیقین لا یزول بالشک" (القواعد الفقہیہ ص ١٤)
شک سے یقین زائل نہیں ہوتا. واللہ اعلم بالصواب
کمال احمد علیمی نظامی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں