*راتب رفاعیہ پر اعتراضات اور ان کے جوابات*
اقطاب اربعہ میں سے عظیم بزرگ حضرت امام، سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ کی شخصیت جہان علم وروحانیت میں نہایت نمایاں ہے،آپ نے وقت کے اکابر علما ومشائخ سے علمی و روحانی فیوض وبرکات کشید کیے،پھر رب کی عطا سے بہت جلد جامع شریعت وطریقت بن گیے،علوم دینیہ کی اشاعت، سنت نبویہ کی طرف دعوت، روحانیت کے ساتھ علم ظاہر کی نصرت وحمایت آپ کی زندگی کے بلند کارنامے ہیں.
آپ کے سلسلے کا فیضان آپ کے بعد ہر سلسلے کو ملا،اکثر بڑے علما ومشائخ آپ سے بلا واسطہ یا بالواسطہ فیض یاب ہوئے ،بلاد عرب اور کچھ بلاد عجم میں آپ کا سلسلہ نہایت ہی مقبول ہوا.
ہندوستان میں بھی اس سلسلے کو کافی عروج ملا، صدیوں سے یہ سلسلہ بر صغیر ہند وپاک کو اپنے نور علم اور ضیاے روحانیت سے تابندگی بخش رہا ہے.
سلسلہ رفاعیہ کا ایک خاص معمول راتب رفاعیہ بھی ہے، یہ راتب دو طرح کا ہوتا ہے، ایک تو محض ذکر واذکار کی مجلس، اس طرح کے راتب کے جواز میں کوئی شبہ نہیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مجلس یا جلوس میں مخصوص طرح سے کچھ حیرت انگیز کام کرکے دکھائے جاتے ہیں جیسے جسم میں سیخ وغیرہ چبھونا،تلوار بازی کرنا،آگ سے کھیلنا وغیرہ.
دوسری نوع کے راتب میں کیے جانے والے امور بطور لہو ولعب ہوں تو حرام ہیں، ورنہ جو باتیں خلاف شرع ہیں وہ ناجائز ہیں، مگر جو باتیں فقہ شافعی کی روشنی میں جائز ہیں ان کا انکار کرنا یا ان پر طعن تنقید کرنامناسب نہیں.
اس حوالے سے کافی تحقیق کی گئی،تمام تحقیقات تحفہ رفاعیہ میں ذکر کردی گئی ہیں ،ذیل میں راتب رفاعیہ
پر کیے جانے والے چند اعتراضات کے عقلی ونقلی جوابات دیے گئے ہیں،ان کو پڑھ کر بہت سارے شکوک وشبہات دور ہوسکے ہیں.
مزید تفصیل کے لیے راتب رفاعیہ کا مطالعہ سود مند رہے گا.

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں