Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

فتوی

 السلام علیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ 


کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے والد نے زمین خریدتے وقت پیسے کم ہونے کی وجہ سے (قرض)سود کی شکل میں لیکر زمین خریدی تو کیا اس زمین پر گھر بنانا یا اس زمین پر کھیتی کرکے فاںٔدہ حاصل کرنا کیسا ہے…؟ 

بینوا توجروا


محمد صابر حسین

مقام:سلطان پور

 ضلع: سیوان

صوبہ: بہار 

الہند

 *الجواب* بعون الملک الوھاب

بلا ضرورت شرعیہ سودی قرض لینا سخت گناہ اور حرام ہے.

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۔ الایۃ“

ترجمہ:”اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود ۔ “(القرآن سورۃ البقرۃ:٢٧٥)

حدیث شریف میں ہے :

"لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ “

اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے،اس کے لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (الصحیح لمسلم ٢/ ٢٧،باب الربا) 

فتاوی رضویہ میں ہے :

سودلینا، مطلقاً عموماً قطعاً سخت کبیرہ ہے اور سود دینا اگر بضرورت شرعی و مجبوری ہو تو جائز ہے ، ہاں بلاضرورت جیسے بیٹی بیٹے کی شادی یا تجارت بڑھانا، یا پکا مکان بنانے کے لئے سودی روپیہ لینا حرام ہے۔“(فتاوی رضویہ ١٧/ ٣٥٩مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور) عام حالات میں زمین خریدنے کے لیے ایسی ضرورتِ شرعیہ متحقق نہیں ہوتی جس سے سودی قرض کے جواز کی گنجائش نکلے۔اس لیے زید کے والد پر سودی قرض لینے کی وجہ سے توبہ و استغفار لازم ہے، ہاں سودی قرض سے اگر زمین خریدلی گئی تو چوں کہ عام خریداریوں میں عقد و نقد حرام زرِ نقد پر جمع نہیں ہوتے اس لیے یہ سودی قرض ناجائز اور حرام ضرور ہے مگر اس روپیہ سے جو زمین خرید لی اس کا وہ مالک ہوجائے گا اور اس پر مکان بنانے یا اس میں کھیتی کرنے میں کوئی حرج نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ:کمال احمد علیمی نظامی

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

التصحیح:محمد نظام الدین قادری

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

٤ ربیع الاول ١٤٤٥/ ٢٠ ستمبر ٢٠٢٣

Post a Comment

0 Comments