Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

فتوی

 حضرت ابو دُجانہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہےکہ میں نے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی بارگاہ میں (جنات کی)شکایت کرتے ہوئے عرض کیا:یا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم میں بستر پر لیٹا ہوا تھا کہ اچانک میں نے اپنے گھر میں ایک آواز سنی جو کہ چکی چلنے کی طرح تھی،ایک بھنبھناہٹ سنی جوشہد کی مکھیوں کی مثل تھی اور بجلی کی چمک جیسی چمک دیکھی ،میں نے گھبراکرسراٹھا کر دیکھا تو ایک سیاہ سایہ تھا جو کہ گھر کے صحن میں بلند ہوتا جارہا تھا،میں نے اس کے قریب جا کر اس کی کھال کو چھوا تو اس کی کھال ساہی(ایک کانٹے دار کھال والا جانور) کی کھال کی طرح تھی،پھر اس نے میرے چہرے پر آگ کے چنگاریوں کی مثل کوئی چیز پھینکی تو مجھے ایسے لگا گویا اس نے مجھے جلا کر رکھ دیا ہے (یاگھر کو جلاکر رکھ دیا ہے)۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اے ابو دُجَانَہ!وہ تیرے گھر میں ایک بری چیز رہنے والی ہےاور ربِّ کعبہ کی قسم اے اَبُوْ دُجَانَہ!تیری مثل لوگ تکلیف دئیے جاتے ہیں ، پھر فرمایا :ایک کاغذ اور دوات لا ،میں دونوں چیزیں لے کر حاضر ہوا تو سرکار اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ نے حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو دےکر فرمایا: اے ابوالحسن لکھو ! انہوں نے عرض کیا کہ کیا لکھوں ؟فرمایا یہ لکھو:بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰن ِالرَّحِیْم ھٰذَا کِتَابٌ مِّنْ مُّحَمَّدِِ رَّسُوْلِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِلٰی مَنْ طَرَقَ الدَّارَمِّنَ الْعُمَّارِ وَالزُّوَارِوَالصَّالِحِیْنَ اِلَّا طَارِقاً یَّطْرُقُ بِخَیْرٍ یَّا رَحْمٰنُ اَمَّا بَعْدُ :فَاِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِیْ الْحَقِّ سَعَۃً ،فَاِنْ تَکُ عَاشِقاً مُوْلِعاً، فَاجِراً مُقْتَحِماً أَوْ رَاغِباً حَقّاً أَوْ مُبْطِلاً،ھٰذَا کِتَابُ اللہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی یَنْطِقُ عَلَیْنَا وَعَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ ،اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخ ُ مَا کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ وَرُسُلُنَا یَکْتُبُوْنَ مَاتَمْکُرُوْنَ، اُتْرُکُوْا صَاحِبَ کِتَابِیْ ھٰذَا وَانْطَلِقُوْا اِلٰی عَبْدَۃِ الْاَصْنَامِ وَاِلٰی مَنْ یَّزْعَم ُاَنَّ مَعَ اللہِ اِلٰہًا آخَر لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَ کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہ لَہُ الْحُکْمُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ یُغْلَبُوْنَ حٰم لَا یُنْصَرُوْنَ حٰم عسق، تُفَرَّقُ اَعْدَاءُ اللہ ِ،وَبَلَغَتْ حُجَّۃُ اللہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃ اِلَّا بِا اللہِ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔


حضرت اَبُوْ دُجَانَہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں: میں اس کو لپیٹ کر گھر لے آیا اوررات کو اپنے سر کے نیچے رکھ کر سو گیا، پھر میں ایک چلانے والے کی چیخ سے اٹھا ،وہ کہہ رہا تھا کہ اے ابُو دُجَانَہ ! لَات و عُزّٰی کی قسم ان کلمات نے ہمیں جلا کر رکھ دیا ہے ،تیرے صاحب کی قسم جب تو اس تحریر کو ہم سے اٹھالے گا تو ہم نہ تو تیرے گھر لوٹ کر آئیں گے(ایک روایت میں ہے کہ نہ ہم تجھے ایذا دیں گے )اور نہ تیرے پڑوس میں کبھی آئیں گےاور نہ اس جگہ آئیں گے جہاں یہ کتاب (تعویذ ) ہوگی ۔ابُو دُجَانَہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا : میرے صاحب (یعنی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ) کی قسم کہ میں اس کو اس وقت تک نہ اٹھاؤں گا جب تک نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے اجازت نہ مانگ لوں ۔اَبُوْ دُجَانَہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں: جب میں نے جنوں کی آہ و بکاسنی تھی ، میرے لیے رات لمبی ہوگئی یہاں تک کہ صبح ہوئی تو میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی اور رات کو جنوں سے ہونے والامکالمہ بیان کیا تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ نے فرمایا :اے اَبُوْ دُجَانَہ! اس قوم سے اس تعویذ کو اٹھا لو کیونکہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا!وہ قوم قیامت تک عذاب کی تکلیف میں مبتلارہے گی۔ (الخصائص الکبریٰ)

حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں :جب عورت پر بچے کی پیدائش مشکل ہوتو ایک کاغذ پر یہ دو آیات اور کلمات لکھے جائیں ، بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ وَ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم کَاَنَّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَھَا لَمْ یَلْبَثُوْا اِلَّا عَشِیَّۃً اَوْ ضُحَاھَا کَاَنّھُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَایُوْعَدُوْنَ لَمْ یَلْبَثُوْا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّھَارِ بَلَاغ فَھَلْ یُھْلَکُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُوْن ۔پھر اسے پانی میں گھول کر اس عورت کو پلادیا جائے۔(زاد المعاد لابن قیم،جلد 4،صفحہ 328)

 ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ﴾ ترجمہ : اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیزجو ایمان والوں کے لئے شفا اور رحمت ہے۔(پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت 82)

 اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں ہے:’’قال مالک: لا باس بتعلیق الکتب التی فیھا اسماء اللہ تعالی علی اعناق المرضی علی وجہ التبرک بھا اذا لم یرد معلقھا بذلک مدافعۃ العین، وعنی بذلک انہ لا باس بالتعلیق بعد نزول البلاء رجاء الفرج والبر، کالرقی التی وردت السنۃ بھا من العین، واما قبل النزول ففیہ باس وھو غریب، وعند ابن المسیب یجوز تعلیق العوذۃ من کتاب اللہ تعالی فی قصبۃ ونحوھا وتوضع عند الجماع وعند الغائط، ولم یقید بقبل او بعد، ورخص الباقر فی العوذۃ تعلق علی الصبیان مطلقاً وکان ابن سیرین لا یری باساً بالشیء من القرآن یعلقہ الانسان کبیراً او صغیراً مطلقاً وھو الذی علیہ الناس قدیماً وحدیثاً فی سائر الامصار‘‘ ترجمہ: امام مالک علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ایسا تعویذ جس میں اللہ عزوجل کے اسماء موجود ہوں، مریضوں کے گلے میں بطورِ تبرّ ک لٹکانے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اس سے مدافعۃ العین کا ارادہ نہ کرے، اس سے مراد یہ ہے کہ نزول بلا کے بعد اس کے دور ہونے کی امید کرتے ہوئے لٹکانے میں حرج نہیں جیسے نظر کا وہ دم جس کے متعلق سنت وارد ہوئی ہے، بہر حال نزولِ بلا(مصیبت آنے ) سے قبل، تو اس میں حرج ہے، (لیکن) یہ قول غریب ہے، حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے نزدیک کتاب اللہ سے لکھا ہوا تعویذ ڈبیہ وغیرہا میں لٹکانا، جائز ہے جسے جماع کے وقت اور بیت الخلاء جاتے ہوئے اتار دیا جائے، انہوں نے نزولِ بلا سے قبل و بعد کی کوئی قید نہیں لگائی، امام باقر علیہ الرحمۃ نے بچوں کے لئے مطلقاً تعویذ لٹکانے کی اجازت عطا فرمائی اور امام ابن سیرین علیہ الرحمۃ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ قرآن کریم میں سے لکھا ہوا تعویذ انسان کو لٹکایا جائے، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، اسی پر پرانے اور نئے زمانے کے تمام شہروں کے لوگوں کا اعتقاد ہے۔(تفسیر روح المعانی، تحت الایۃ 82، ج 8، ص 139، مطبوعہ بیروت)


ترمذی شریف میں ہے:’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قال: اذا فزع احدکم فی النوم، فلیقل: اعوذ بکلمات التامات من غضبہ وعقابہ وشر عبادہ ومن ھمزات الشیطان وان یحضرون، فانھا تضرہ، فکان عبد اللہ بن عمر یلقنھا من بلغ من ولدہ ومن لم یبلغ منھم کتبھا فی صک، ثم علقھا فی عنقہ‘‘ ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی خواب سے گھبرا جائے ،تو پڑھے: (ترجمہ) میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں اللہ کی ناراضی سے، اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور شیطانوں کے میرے پاس آنے سے، تو تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچے گا، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی بالغ اولاد کو یہ سکھا ے تھے اور ان میں سے نابالغوں کے گلے میں کسی کاغذ پر لکھ کر ڈال دیتے تھے۔(جامع ترمذی، ج 2، ص 192، مطبوعہ کراچی)

Post a Comment

0 Comments