کیا عورت اپنے جیٹھ، اس کے لڑکے اور بیوی کے ساتھ عمرہ کرسکتی ہے؟
افروز عالم لکھنؤ
*الجواب* بعون الملک الوھاب
عورت کا اپنے جیٹھ یا اس کے لڑکے کے ساتھ عمرہ پر جانا گناہ ہے، اگر گئی تو عمرہ تو ہوجائے گا مگر گنہ گار ہوگی.
فتاویٰ رضویہ میں ہے :
" عورت کے ساتھ جب تک شوہر یا محرم بالغ قابل اطمینان نہ ہو جس سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے سفر حرام ہے، اگر کرے گی حج ہوجائے گا مگر ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔" (فتاوی رضویہ ١٠/ ٧٢٦،رضافاونڈیشن،لاہور)
مزید فرماتے ہیں:
"حرام عورتوں میں چچی کوشمار نہ فرمایا نہ شرح میں اس کی تحریم آئی تو ضرور وہ حلال عورتوں میں ہے"
(فتاوی رضویہ ج ٥ ص ٢٣٠)
مزید ارشاد فرماتے ہیں :
’’جیٹھ، دیور، بہنوئی ، پھپا، خالو، چچازاد، ماموں زاد، پھپی زاد ، خالہ زاد بھائی یہ سب لوگ عورت کے لئے محض اجنبی ہیں۔“
(فتاوی رضویہ ٢٢/ ٢١٧ ، رضافاؤنڈیشن ، لاھور)
بہار شریعت میں ہے :
”عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے،خواہ وہ عورت جوان ہو یا بڑھیا۔محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لئے اس عورت کا نکاح حرام ہے،خواہ نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو،جیسے باپ،بیٹا،بھائی وغیرہ یا دودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو،جیسے رضاعی بھائی،باپ،بیٹا وغیرہ یا سسرالی رشتہ سے حرمت آئی،جیسے خسر،شوہر کا بیٹا وغیرہ۔“
(بھار شریعت،جلد١،صفحہ ١٠٤٤،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں