امتثال بالاوامر،اجتناب عن النواہی اور معرفت الہی کے لیے ایمان و عقیدے کی درستگی کے بعد کسی مرشد برحق سے بیعت ہونا ضروری ہے،اس عمل خیر کا ثبوت کتاب وسنت اور اسلاف کرام کے ارشادات سے مثل خورشید واضح اور مبرہن ہے.
اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان عَلَیْہِ الرحمہ فرماتے ہیں:بیعت بیشک سنَّتِ محبوبہ ہے، امام اَجل، شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عوارف شریف سے شاہ ولیُّ ﷲ دِہلوی کی”قولُ الجمیل“ تک اس کی تصریح اور اَئمہ و اکابر کا اس پر عمل ہے اور رَبُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ- (پ۲۶،الفتح :۱۰)
ترجَمۂ کنزالایمان:وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللّٰہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہا تھوں پر اللّٰہ کا ہاتھ ہے۔(فتاویٰ رضویہ ،۲۶/۵۸۶ )
مگر مرشد سے فیض کامل کا اکتساب اسی وقت ممکن ہے جب وہ ان چار صفات کا حامل ہو جن کا ذکر فتاویٰ رضویہ جلد٢١صفحہ ٦٠٣پر ان الفاظ میں موجود ہے:
(۱)صحیح العقیدہ سنّی ہو۔(۲)اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں سے نکال سکے ۔(۳)فاسقِ مُعلِن نہ ہو(۴)اس کا سلسلۂ بیعت نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک متّصل ہو.
سلسلۂ بیعت کے اتصال سے مراد یہ ہے کہ اس کا شجرہ طریقت نبی کریم علیہ السلام سے ملتا ہو،چناں چہ فتاوی رضویہ ہی میں ارشاد ہے :
"شجرہ حضور سیّدِ عالَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم تک بندے کے اِتصال کی سندہے جس طرح حدیث کی اسنادیں۔ “
شجرہ خوانی سے بہت سارے دینی ودنیوی برکات وحسنات حاصل ہوتے ہیں، چناں چہ امام اہل سنت فرماتے ہیں :
" شجرہ خوانی سے متعدد فوائد ہیں : اوّل : رسولُ اﷲ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم تک اپنے اتصال کی سند کاحفظ۔ دُوُم : صالحین کا ذکر کہ مُوجِب نُزُولِ رحمت ہے۔سِوُم : نام بنام اپنے آقایانِ نعمت کو ایصالِ ثواب کہ اُن کی بارگاہ سے موجبِ نظر عنایت ہے۔چہارم : جب یہ اوقاتِ سلامت میں ان کا نام لیوا رہے گا۔ تو وہ اوقاتِ مصیبت میں اس کے دستگیر ہوں گے ۔ رسول ﷲ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم فرماتے ہیں : تَعَرَّفْ اِلَی ﷲ ِفیِ الرَّخَاءِ یَعْرِفْکَ فِی الشِّدَّۃِ تُو خوشحالی میں ﷲ تعالیٰ کو پہچان وہ مصیبت میں تجھ پر نظر کرم فرمائے گا۔(فتاوی ٢٦/ ٥٩٠-٥٩١)
زیر نظر رسالہ جہان تصوف کی عبقری شخصیت، خطیب البراہین، حضرت علامہ صوفی محمد نظام الدین قادری برکاتی علیہ الرحمہ کی مختصر حیات و خدمات اور آپ کے شجرہ مبارکہ پر مشتمل ایک نہایت پاکیزہ قلمی تحفہ ہے، جسے محب مکرم، ذوالمجد والکرم ،حضرت مولانا محمد طاہر القادری نظامی مصباحی صاحب دامت برکاتھم نے بہت پہلے تیار کیا تھا،فی الحال اپنے فرزند ارجمند کی دستار بندی کے موقع پر ہندی زبان میں اس کی اشاعت کراکے تمام نظامی بھائیوں کی خدمت میں عظیم سوغات پیش کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے.
مرتب موصوف ایک متحرک وفعال مخلص عالم دین ہیں، زبان وقلم کے دھنی ہیں،لیاقت علمی کے ساتھ حرکت عملی کے بھی حامل ہیں، نظامیات میں گہرا درک رکھتے ہیں،رب العالمین آپ کی خدمات قبول فرمائے اور مزید خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے.
*کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں