کیا روضہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلند آواز سے نعرہ لگانا جائز ہے.
حاجی رضوان الہاس نگر ممبئی
الجواب
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ } (سورة الحجرات، آیت نمبر :2 )
ترجمہ:" اے ایمان والو تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے بولا کرتے ہو کبھی تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ۔
بہار شریعت میں ہے :
ہرگز ہرگز مسجد اقدس میں کوئی حرف چِلّا کر نہ نکلے۔
(۱۳) یقین جانو کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سچی حقیقی دنیاوی جسمانی حیات سے ویسے ہی زندہ ہیں جیسے وفات شریف سے پہلے تھے، اُن کی اور تما م انبیا علیہم الصّلاۃ و السلام کی موت صرف وعدۂ خدا کی تصدیق کو ایک آن کے لیے تھی، اُن کا انتقال صرف نظر عوام سے چُھپ جانا ہے۔ امام محمد ابن حاج مکی مدخل اور امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ میں اور ائمہ دین رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین فرماتے ہیں : لَا فَرْقَ بَیْنَ مَوْتِہٖ وَحَیَا تِہٖ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ مُشَاھِدَتِہٖ لِاُمَّتِہٖ وَمَعْرِفَتِہٖ بِاَحْوَالِھِمْ ونِیَاتِہِمْ وَعَزَائِمِھِمْ وَخَوَاطِرِھِمْ وَذٰلِکَ عِنْدَہٗ جَلِیٌّ لَا خِفَاءَ بِہٖ ۔ (1)
ترجمہ: حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات و وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی اُمت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں ، اُن کی نیتوں ، اُن کے ارادوں ، اُن کے دلوں کے خیالوں کو پہچانتے ہیں اور یہ سب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایساروشن ہے جس میں اصلاً پوشیدگی نہیں ۔
امام رحمہ اللہ تلمیذ اما م محقق ابن الہمام’’ منسک متوسط ‘‘ اور علی قاری مکی اس کی شرح ’’مسلک متقسط‘‘ میں فرماتے ہیں :
وَاَنَّہٗ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَالِمٌ بِحُضُوْرِکَ وَقِـیَامِکَ وَسَلَامِکَ اَيْ بَلْ بِجَمِیْعِ اَفْعَالِکَ وَاَحْوَالِکَ وَارْتِحَالِکَ وَمَقَامِکَ ۔ (2)
ترجمہ: بے شک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیری حاضری اور تیرے کھڑے ہونے اور تیرے سلام بلکہ تیرے تمام افعال و احوال و کوچ و مقام سے آگاہ ہیں ۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اب دل کی طرح تمھارا مونھ بھی اس پاک جالی کی طرف ہوگیا ،جو اﷲ عزوجل کے محبوبِ عظیم الشان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آرام گاہ ہے، نہایت ادب و وقار کے ساتھ بآوازِ حزیں و صوتِ درد آگین و دلِ شرمناک و جگر چاک چاک، معتدل آواز سے، نہ بلند و سخت( کہ اُن کے حضور آواز بلند کرنے سے عمل اکارت ہو جاتے ہیں )، نہ نہایت نرم و پست (کہ سنت کے خلاف ہے اگرچہ وہ تمھارے دلوں کے خطروں تک سے آگاہ ہیں جیسا کہ ابھی تصریحات ائمہ سے گزرا)، مجرا و تسلیم بجا لاؤ اور عرض کرو:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَیْرَ خَلْقِ اللہِ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا شَفِیْعَ الْمُذْنِبِیْنَ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحَابِکَ وَاُمَّتِکَ اَجْمَعِیْنَ (بہار شریعت حصہ ششم ص 1232)

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں