Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

معمار ملت

 *معمار ملت* 


معمار ملت ،محبوب العلما ،معتمد مشائخ، خلیفہ حضور اختصاص ملت وشارح بخاری ،حضرت علامہ محمد کوثر خان نعیمی علیہ الرحمہ سابق شیخ الحديث وصدرالمدرسین جامعہ عربیہ اظہار العلوم جہاں گیر گنج، علاقہ بھانبھر، بلرام پور کی ان عظیم المرتبت شخصیات میں سے ہیں جنھوں نے علم دین کی ترویج، ملت بیضا کی تبلیغ، قوم مسلم کی تطہیر اور امت مسلمہ کی زلف پریشاں کی مشاطگی میں پوری زندگی وقف کردی،علم کے ساتھ عمل کے بھی دھنی تھے،بزرگوں کی چوکھٹ سے وابستگی اور احترام اکابر نے آپ کو علم وفضل کے ساتھ مسند روحانیت کا تاج دار بھی بنا دیا تھا.

آپ کو میں نے براہ راست دیکھا نہیں مگر آپ کی زریں خدمات کے آئینے میں آپ کے جلوے صاف نظر آتے ہیں ، علاقے کی وہ عبقری ہستیاں جن کے حال وقال سے متاثر ہوا ان میں سے ایک ذات آپ کی بھی ہے.

معتمد معمار ملت ،حضرت مولانا انتظار خان نعیمی دامت برکاتھم کی خواہش اور شہزادہ معمار ملت حضرت مولانا محمد جیلانی مصباحی برکاتی کے حکم پر  معمار ملت کی حیات و خدمات پر راقم نے ٢٧٠ دوسو ستر صفحات کی ایک کتاب مرتب کی تھی، جو حضرت مولانا محمد انتظار خان نعیمی کے زیر اہتمام شائع ہوئی تھی،جس پر اویس زماں، حضرت علامہ سید اویس میاں صاحب دامت برکاتھم نے درج ذیل تقریظ رقم فرمائی تھی:

 " مولانا محمد مرتضی سلمہ کے ذریعہ معلوم ہوا کہ معمار ملت، حضرت مولانا کوثر خاں نعیمی علیہ الرحمہ کے حالات واخلاق، خدمات وعمل پر ایک کتاب ترتیب دی گئی ہے جس کو مولانا کمال احمد صاحب علیمی استاذ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی نے مرتب کیا ہے۔

حضرت نعیمی صاحب علیہ الرحمہ علم واخلاق ،عمل وکردار کے اعتبار سے ایک سچے عالم دین تھے، بڑوں کی تعظیم، چھوٹوں پر شفقت اور حسن اخلاق میں آپ کی شخصیت لائق تقلید تھی، آپ نے کبھی اپنے عالمانہ شان ووقار کو دنیا اور اہل دنیا کے لیے مجروح نہیں ہونے دیا، ہر موقع پر شریعت اور خودداری کو مقدم اور ملحوظ خاطر رکھا، بہت سے معمولاتِ اور اصول زندگی میں حضرت نعیمی صاحب سے متاثر ہوکر اس کا پابند ہوں، جہانگیر گنج اور اس کے اکناف واطراف میں اہل سنت، مسلک اعلیٰ حضرت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا بہت وسیع اور مضبوط کارنامہ حضرت نعیمی صاحب کے مرہون منت ہے، جامعہ عربیہ اظہار العلوم جہانگیر گنج کی تعلیمی اور تعمیری نشوونما، عروج وارتقا آپ کے مرہون آپ کی کاوش اور اخلاص، مذہبی غیرت اور ذمہ داری کی عظیم شاہکار ہے، اکابر علما ومشائخ کے بہت قدرداں تھے، میرے بڑے ابا، قطب بلگرام، حضرت مولانا مفتی سید میر زین العابدین صاحب علیہ الرحمہ عمر کے اخیر حصے میں تقریباً 22/ سال تک گوشہ نشین رہے، علماومشائخ کو ملاقات کے لیے اندر آنے کی اجازت ملتی تھی، نعیمی صاحب کو ان سے بہت عقیدت تھی، جب میں مدرسہ سے گھر آتا تو فرماتے کہ حضرت سے کہیے ملاقات کے لئے بلالیں، ابا سے کہا تو فرمایا: کہہ دو ملاقات ہوگی، زندگی میں تو ملاقات نہیں ہو پائی لیکن وصال کے بعد آپ نے ابا کو غسل وکفن دیا، اور بڑے ابا کی بنڈی توشہ آخرت بنا کر لے گئے، ضرورت تھی کہ آپ کی خدمات اور کارناموں کو محفوظ کیا جائے، آپ کے طریقہ تعلیم وتبلیغ کو دوسروں تک پہونچایا جاۓ۔

اللہ تعالیٰ مولانا کمال احمد علیمی صاحب کے علم وقلم میں وسعت، برکت وقوت عطا فرمائے ۔آمین."

کل ٥ اکتوبر ٢٠٢٣ کو جہاں گیر گنج میں معمار ملت کمیٹی کی طرف سے حضرت کا عرس مبارک منایا جا رہا ہے، اس لیے ان چند سطروں کے ساتھ کتاب خوان مطالعہ پر پیش کرتے ہوئے یک گونہ خوشی کا احساس ہورہا ہے اس عرض کے ساتھ:

اوروں کی طرف پھینکے ہیں گل اور ثمر بھی

اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی


 *عقیدت کیش*


 *کمال احمد علیمی نظامی* 

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Post a Comment

0 Comments