*گنج گراں مایہ*
زیر نظر کتاب علامہ منصور علی مراد آبادی علیہ الرحمہ کی تصنیف لطیف ہے جو اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے معاصر ہیں ، اس کے ساتھ چند اور مفید رسالے ہیں جن میں علامہ محمد عبدالعلی آسی مدراسی اور محدث سورتی علیھما الرحمہ کے چند بصیرت افروز رسائل بھی بطور ضمیمہ شامل ہیں ، اس کتاب کا مرکزی موضوع رد غیر مقلدیت ہے ، یہ کتاب در اصل "الظفر المبين في رد مغالطات المقلدین " کی تردید میں لکھی گئی ہے۔ ۱۳۰۱ھ میں پہلی بار منظر عام پر آئی ،۴۶۶ علمائے کرام کے دستخط ومواہیر سے مزین یہ کتاب کئی جہتوں سے منفرد و ممتاز ہے۔ علمائے عرب و عجم بالخصوص علامہ نقی علی خان، اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی، علامہ وصی احمد محدث سورتی ، علامہ وکیل احمد سکندر پوری ( صاحب نصرة المجتہدین ) محشی ہدایۃ النحو علامہ الہی بخش اور صاحب تصانیف کثیرہ ابوالحسنات علامہ عبدالحی اور اس طرح کے متعدد علمائے کرام علیہم الرحمہ کی تائید و تصدیق نے اس کتاب کو مقبولیت کی سند عطاکردی ہے۔ رد میں لکھی جانے کے باوجود یہ کتاب بے جا تیرا بازی اور غیر مناسب طنز و تنقید سےخالی ہے، سنجیدہ اسلوب میں دعوت فکر دی گئی ہے اور غیر مقلدین کے ہفوات کا مدلل ومفصل جواب دیا گیا ہے۔
یہ کتاب محب گرامی حضرت مولانا منظم ازہری دامت برکاتھم کے ذخیرہ کتب سے دستیاب ہوئی، کتاب بہت خستہ حالت میں تھی ، کچھ صفحات تو فوٹو کاپی کے لائق ہی نہیں تھے، خیر جیسے تیسے کر کے کتاب ہم تک پہونچی، جتنا سنا تھا کتاب اس سے اچھی تھی، فورا کام شروع ہوا، کام کرنے کے لیے جن فرخندہ فال شخصیات کا انتخاب ہوا ان میں علامہ ازہری صاحب کے ساتھ حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین قادری صاحب استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی ، راقم الحروف، حضرت مولانا طیب علیمی صاحب اورحضرت مولانا غلام سید علی علیمی علیگ صاحب (اساتذۂ علیمیہ )قابل ذکر ہیں ، ہر ایک نے اپنی لیاقت وحیثیت کے مطابق کام کیا، کام بڑا مشکل تھا، اولا تو کتاب کی تخریج، دوسرے پیراگرفنگ، تیسرے کمپوزنگ شدہ میٹر کی پروف ریڈنگ، چوتھے حاشیہ نگاری اور پانچواں کام تھا جدید فہرست سازی کا ،ساتھ ہی نئے انداز میں ذیلی سرخیاں لگانا، اور عربی عبارتوں کی تشکیل بھی ایک بڑا جاں گداز کام تھا۔
ڈیڑھ سال کی طویل مدت ان کاموں کے سامنے بڑی قلیل لگتی ہے، اللہ کا فضل و احسان کہ ہر ایک نے محنت کی ، اور سب کی محنت رنگ لائی ، آج یہ کتاب زیور طباعت سے آراستہ ہو کر آپ کے ہاتھوں میں ہے کتاب کی اشاعت میں کیا دشواریاں آڑے آئیں، کتنے مصائب و آلام ہمارے پاؤں کی زنجیر بنے کتنی راتیں اس پر قربان ہو ئیں ، کتنے لوگوں نے ساتھ دیا اور کتنوں نے چھوڑا، یہ سب ذکر کرنا کچھ مفید نہیں، کام دیکھ کر آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔
کام ہوا مگر مکمل نہیں، کما حقہ ہم کام کر نہ سکے، مثلا تسہیل الفاظ کا کام یکسر چھوٹ گیا، کہیں کہیں تحشیہ کی ضرورت تھی مگر نہیں کیا جا سکا، تخریج میں بہت سارے حوالہ جات چھوٹ گئے ، جس کی سب سے بڑی وجہ کتابوں کی عدم دستیابی رہی، دستیاب کتابوں سے تخریج میں ہم نے کوتاہی نہیں کی ہے، ہاں کچھ کتابوں کے نہ ملنے کی وجہ سے ان سے ماخوذ عبارتوں کی تخریج نہیں ہوسکی، ایسی جگہوں پر ہم نے مصنف کتاب ہی کی تخریج درج کر دی ہے۔ پوری کتاب پیراگرافنگ سے عاری تھی ہم نے تا بہ مقدور پیراگرافنگ کا التزام کیا۔ عناوین اور سرخیاں حاشیہ پر درج کی گئی تھیں، ہم نے انہیں عبارتوں کے درمیان رکھا ہے تا کہ قاری مطلوبہ مواد تک آسانی سے پہنچ جائے۔ طرز کتابت میں قدیم اسلوب کتابت کا بھر پور لحاظ رکھا گیا تھا، ہم نے جدید انداز میں کتابت کرائی ہے تا کہ جدید طرز کتابت سے آشنا قارئین کوکوئی دشواری نہ پیش آئے ۔
موضوع کی مناسبت سے بر محل پیش کیے گئے اشعار اردو، عربی اور فارسی تینوں زبانوں میں تھے۔ مگر یہ نظم بشکل نثر کا بہترین نمونہ تھے، ہم نے انہیں اشعار کی شکل میں رکھا تاکہ نظم و نثر میں امتیاز رہے ۔ علامات ترقیم سے کتاب یکسر خالی تھی ہم نے ان کا لحاظ رکھا ۔
کتاب کو منظر عام پر لانے میں دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کی جماعت سادسہ ٢٠١٤ء کے شاہین صفت طلبہ نے جو مساعی جمیلہ کیے ہیں وہ نا قابل فراموش ہیں، بالخصوس محمد وسیم احمد، محی الدین ربانی ، محمد مقصود رضا ،محمد واصف رضا، جعفر علی ،خلیل الرحمن قابل ذکر ہیں، مالی قربانی ہی کیا کم تھی ، انہوں نے عملی تعاون میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ بھی کیا اپنے ان عزیز طلبہ کی وجہ سے کیا ، اگر ان کا بار بار کا اصرار نہ ہوتا، ان کے بار بار کے تقاضے نہ ہوتے تو شاید یہ علمی کام تشنۂ تکمیل رہتا، کبھی ان کے کھلے ہوئے چہرے ہمیں حوصلہ دیتے تو کبھی ان کے مرجھائے ہواوجود ہمیں کچوکے لگاتا ، ان کا جذبۂ صادق ہمارے لیے مہمیز کا کام کرتا، ان کا اخلاص ہمیں آگے بڑھنے پر مجبور کرتا اور ان کا عزم مصمم ہمیں کچھ کر گزرنے کا حوصلہ بخشتا، کس کس کا نام لیا جائے سب بے مثال ہیں ۔ ان کے اس عظیم کارنامے نے یہ ثابت کر دیاکہ:
"نہ ہو ما یو س اے اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی"
چلتے چلتے اساتذۂ کرام کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش ہے، جن کے مفید مشورے اور نیک دعا ئیں ہمارے ساتھ رہیں، علامہ منظم ازہری کا بھی شکریہ کہ انہوں نے نہ صرف اس کتاب کی نشان دہی کی بلکہ تخریج کا فریضہ بھی انجام دیا، اور برابر مفیدمشوروں سے نوازتے رہے۔
خدا کرے کہ اسی طرح علمی کام ہوتا رہے، ہمارا حال ہمارے ماضی سے اورمستقبل ہمارے حال سے بہتر ہو، جسمانی و روحانی قوت میں ایمانی حرارت سے ابال آتا رہے، اور ہم اسی طرح سے خدمت دین کرتے رہیں ۔ ( آمین )
*کمال احمد علیمی*
دار العلوم علیمیه جمدا شاہی بستی ۔

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں