*تقریظ*
کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
اللہ جل شانہ نے اپنی ربوبیت ظاہر کرنے کے لئے انسانوں کی تخلیق فرمائی، انہیں تاج کرامت سے سرفراز فرمایا، مسجود ملائکہ بنا کر تمغہ اعزاز بخشا،اورنبی آخر الزماں علیہ السلام کو لباس بشریت میں مبعوث فرما کر بنو آدم کو معراجِ کمال عطا فرمادیا،ظاہر جس کا رتبہ بڑا ہوگا اس کی ذمہ داری بھی بڑی ہوگی،البلایا علی قدر العطایا، جس کے رتبے ہیں سوا اس کے سوا مشکل ہیں.
تخلیق انسانیت کا مقصود و مطلوب اظہار ربوبیت کے ساتھ انسانوں کی آزمائش بھی ہے، قرآن مجید ناطق ہے :
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ(سورۃ الملک :٢)
ترجمہ:وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون زیادہ اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہی بہت عزت والا،بہت بخشش والا ہے۔
بندوں کی آزمائش کے لیے رب کریم نے ان کو شریعت کا مکلف بنایا،مگر اس تکلیف میں بھی انسان کی وسعت وطاقت کی رعایت کی گئی، ارشاد ربانی ہے :
لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ(البقرۃ :٢٨٦)
ترجمہ :اللہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے ۔ کسی جان نے جو اچھاکمایا وہ اسی کیلئے ہے اور کسی جان نے جو برا کمایا اس کا وبال اسی پر ہے.
انسانی زندگی سے بہت سارے شرعی و اخلاقی حقوق متعلق ہیں، کچھ تو خالق سے متعلق ہیں کچھ مخلوق سے، توحید ورسالت پر ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کے بندوں پرےسب اہم حق نماز ہے، اور بندوں کا بندوں پر سب سے اہم حق زکوٰۃ ہے، اسی لئے کتاب وسنت میں ان کی تاکید پر متعدد آیات احادیث شاہد ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(البقرۃ :٤٣)
ترجمہ:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
قرآن و حدیث میں عموما نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے، جس کی کئی وجہیں ہیں:
*نماز بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتی ہے، جب کہ زکوٰۃ بندے اور خلق خدا کے درمیان اخوت کو فروغ دیتی ہے،ظاہر ہے سعادت انسانی کا انحصار انہیں دو باتوں پر ہے.
*نماز عبادات بدنیہ کی اصل ہے جب کہ زکوٰۃ عبادات مالیہ کی.
*نماز سے تزکیہ نفس ہوتا ہے، جب کہ زکوٰۃ سے تزکیہ مال، دونوں کا حاصل سعادت دارین سے سرفرازی ہے.
تفسير ابن عاشور میں نماز روزے کے درمیان موجود مناسبتوں کا ذکر ان الفاظ میں ہے :
"فلذلك أمروا بالصلاة والزكاة لأن الأولى عمل يدل على تعظيم الخالق والسجود إليه وخلع الآلهة ، ومثل هذا الفعل لا يفعله المشرك لأنه يغيظ آلهته بالفعل وبقول الله أكبر ولا يفعله الكتابي لأنه يخالف عبادته ، ولأن الزكاة إنفاق المال وهو عزيز على النفس فلا يبذله المرء في غير ما ينفعه إلا عن اعتقاد نفع أخروي لا سيما إذا كان ذلك المال ينفق على العدو في الدين ، فلذلك عقب الأمر بالإيمان بالأمر بإقامة الصلاة وإيتاء الزكاة لأنهما لا يتجشمهما إلا مؤمن صادق . ولذلك جاء في المنافقين { وإذا قاموا إلى الصلاة قاموا كسالى } [ النساء : ١٤٢ ] وقوله : { فويل للمصلين الذين هم عن صلاتهم ساهون } [ الماعون : ٤-٥ ] وفي «الصحيح» أن صلاة العشاء أثقل صلاة على المنافقين"(تفسیر ابن عاشور زیر آیت "واقیمواالصلوۃ")
زیر نظر کتاب " مسائل نمازو زکوٰۃ" کا بنیادی موضوع نماز اور زکوٰۃ کے فضائل ومسائل کا بیان ہے،جس میں قرآن و حدیث اور اقوال علما سے ان دونوں عبادتوں کی عظمت و فضیلت کا ذکر ہے، ساتھ ہی کچھ دیگر اہم امور مثلاً آدابِ دعا وغیرہ کا ذکر ہے.
اس کتاب کے مرتب، حضرت علامہ وبالفضل والکرم اولانا، انتظار احمد خان نعیمی صاحب ہیں، جو دارالعلوم غریب نواز برگدوا سیف ،پچپڑوا بلرام پور کے مایہ ناز استاذ ہیں،اخلاص واخلاق کے پیکر جمیل ہیں، احترام اکابر اور خورد نوازی میں بے نظیر ہیں.
علاقہ بھانبھر کی مثالی شخصیت، نمونہ اسلاف، حضرت علامہ محمد کوثر خان نعیمی صاحب نور اللہ مرقدہ کے خصوصی فیض یافتہ،اختصاص ملت ،حضرت علامہ سید اختصاص الدین نعیمی علیہ الرحمہ جیسی ہستی روحانیت چشیدہ اور مختلف مشارب علم سےآسودہ ہیں، عالم باعمل اور فاضل اجل ہیں، اللہ تعالیٰ حضرت کو سلامت رکھے.
اپنے شاگرد رشید حضرت مولانا مفتی محمد نورالحسن خان امجدی علیمی صاحب کی خواہش پر حضرت نے یہ کتاب مرتب فرمائی، کتاب مختصر مگر جامع ہے،ان شاء اللہ تعالیٰ عوام کے لئے حد درجہ مفید ثابت ہوگی.
بروقت حضرت والا علاقہ بھانبھر کے مشہور ادارہ دارالعلوم غریب نواز برگدوا سیف میں اپنا علمی فیضان عام کررہے ہیں، یہ ادارہ اس وقت اسلام وسنیت کی عظیم خدمت انجام دے رہا ہے.
رب کریم حضرت نعیمی صاحب قبلہ کو سلامت رکھے اور مزید خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے، خدا کرے یہ کاوش آپ کی دینی خدمات کا نقطہ آغاز ہو.

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں