Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

فتوی

 سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے میں کہ بکر سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہے وہ اپنی دوکان کے افتتاح کے موقع پر خالد جو سنی جامع مسجد کا امام ہے اس کو مدعو کیا تو وہ وہاں گئے اب زید نے امام سے کہا کہ آپ بکر کی دوکان میں کھا رہے تھے امام نے کہا ہاں کیا ہوا ۔ تو زید نے 

بغیرکسی ثبوت شرعی کے کہا کہ بکر کا باپ دیوبندی ہے اس کے باپ سے اس کے عقیدے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا اس کا عقیدہ اہلسنت و جماعت کا ہے ۔ اب زید کا یہ کہنا کہ بکر کا باپ دیوبندی ہے کیسا ہے اور یہ کہنا کہ امام صاحب کا بکر کی دوکان میں جانا وہاں کھانا پینا جائز نہیں اور اسی وجہ سے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا ہےاور دوسرے بھائیوں کو منع بھی کرتا ہے تو اب زید پر شریعت کا کیا حکم ہے۔ اور ایسے شخص  کو مسجد کی کے کمیٹی  میں رکھنا کیسا ہے ؟ کہ جو کہ فاسق معلن بھی ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں


سوال 2: اگر زید کا باپ دیوبندی ہے تو کیا زید اپنے باپ کو کھانا کپڑا دوا و غیر کے لئے روپئے دے سکتا ہے اور زید جو سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہے اس کے دوکان سے سامان خریدنا اور وہاں کھانا پینا جائز ہے کہ نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔


 معراج الدین پپرا کنک ضلع کشی نگر



*الجواب* بعون الملک الوھاب 


١-جب بکر اور اس کا باپ دونوں سنی صحیح العقیدہ ہیں تو زید کا امام صاحب پر اعتراض کرنا غلط ہےاور بالفرض اگر بکر کا باپ دیوبندی ہو بھی تو بھی اس دیوبندی باپ کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور اس کا بیٹا اگر اس سے بیزار ہو تو بیٹے کا بائیکاٹ نہیں کیا جائے گا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے :

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى(النجم :٣٨)

ترجمہ:

۔(وہ بات یہ ہے) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی.

اس لیے اگر زید نے بلا تحقیق کسی پر دیوبندیت کا الزام لگا کر امام کو بھی تکلیف پہنچائی تو اس پر لازم ہے کہ وہ امام صاحب سے معافی مانگ کر توبہ واستغفار کرے اور آئندہ ایسی حرکت سے اجتناب کرے. 

*اور ایسا شخص جو فاسق معلن ہو اور اپنے فسق سے توبہ نہ کرے تو اس کو کمیٹی سے معزول کرنا واجب ہے، چناں چہ فتاوی بحرالعلوم میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے:

درمختار میں ہے:وینزع وجوبا لو غیر مامون او عاجزا او ظھر بہ فسق(٦/ ٤٥٣)(٥/ ٧٥)

البحر الرائق میں ہے:

 ولا یولی إلا أمین قادر بنفسہ أو بنائبہ؛ لأن الولایة مقیدة بشرط النظر، ولیس من النظر تولیة الخائن (البحر الرائق، ج۵ ص۳۷۸)واللہ اعلم


٢-دیوبندی باپ کا خرچ بیٹے پر نہیں، کیوں کہ علماے عرب وعجم کے یہاں بالاتفاق دیوبندی اپنے کفریہ عقائد کی وجہ سے کافر مرتد ہیں، اور مرتد کے لیے مسلمان پر کوئی حق نہیں. 

فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے :


"ماں باپ اگرگناہ کرتے ہوں  ان سے بہ نرمی وادب گزارش کرے، اگرمان لیں  بہتر ورنہ سختی نہیں  کرسکتا بلکہ ان کے لئے دعا کرے، اوران کا یہ جاہلانہ جواب دینا کہ یہ توضرور کروں  گا یا توبہ سے انکارکرنا دوسراسخت کبیرہ ہے، مگر مُطْلَقاً کفرنہیں،  جب تک کہ حرامِ قطعی کوحلال جاننا یاحکمِ شرع کی توہین کے طور پرنہ ہو، اس سے بھی جائز باتوں  میں  ان کی اطاعت کی جائے گی *ہاں  اگر مَعَاذَ اللہ یہ انکاربروجہ ِکفر ہو تووہ مُرتَد ہوجائیں  گے، اورمرتد کے لئے مسلمان پرکوئی حق نہیں* ۔( فتاویٰ رضویہ، ۲۵ / ۲۰۴-۲۰۵)

-زید جب سنی صحیح العقیدہ ہے تو اس کی دکان سے خرید وفروخت کرنے میں کچھ حرج نہیں. واللہ اعلم بالصواب۔

کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

التصحیح:حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین قادری صاحب استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی.

٢٣ جمادی الاولی ١٤٤٥ ھ / ٨ دسمبر ٢٠٢٣ء

Post a Comment

0 Comments