Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

فتوی

 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎۔

*سوال۔۔*

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان شرع متین اس مسٸلہ میں کہ جامع مسجد کے امام نے نمازِ جمعہ میں سورہ تکاثر پڑھا "*ثم کلا سوف تعلمون*  کے بعد  *ثم کلا لو تعلمون علم الیقین* یعنی ثم زیادہ کیا پھر دوبارہ ایک آیت قبل سے پڑھ کر سھی کر لیا اور آخر میں سجدہ سہو بھی کیا تو نماز کا حکم بیان کریں 

زید کہتا ہے نماز دہرانا ہوگی 

قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی


سائل ۔محمد سراج الدین قادری دیوسر ایم پی


الجواب بعون اللہ الوھاب 


مذکورہ صورت میں نماز دہرانے کی ضرورت نہیں،نماز ہوگئی، چناں چہ فتاوی عالم گیری میں ہے:

"(ومنها) زيادة كلمة لا على وجه البدل، الكلمة الزائدة إن غيرت المعنى وجدت في القرآن نحو أن يقرأ:"والذين آمنوا وكفروا بالله ورسله أولئك هم الصديقون"، أو لم يوجد، نحو: أن يقرأ: "إنما نملي لهم ليزدادوا إثماً و جَمَالاً" تفسد صلاته بلا خلاف، وإن لم تغير المعنى،فإن كانت في القرآن، نحو أن يقرأ: " إن الله كان بعباده خبيرا بصيرا" لا تفسد بالإجماع، وإن لم تكن في القرآن، نحو أن يقرأ: "فيها فاكهة ونخل وتفاح ورمان" لا تفسد صلاته عند عامةالمشايخ. هكذا في المحيط."

(كتاب الصلاة،الباب الرابع في صفةالصلاة، الفصل الخامس في زلةالقاري،١/ ٨٠)

اسی میں ہے :

"ذكر في ‌الفوائد لو قرأ في الصلاة بخطأ فاحش ثم رجع وقرأ صحيحا قال عندي صلاته جائزة."

(كتاب الصلاة،الباب الرابع في صفةالصلاة، الفصل الخامس في زلةالقاري،١/٨٢)

ہاں امام کو سجدہ سہو نہیں کرنا چاہیے تھا، کیوں کہ(١)  اگر قراءت کے درمیان ایک رکن یعنی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے مقدار خاموش رہ کر سوچنے میں وقت نہ گزرا نہ ہو تو سجدہ سہو لازم نہیں (٢) اور اگر بالفرض قراءت کے درمیان تین تسبیح کی مقدار خاموش رہ کر سوچنے میں وقت گزارا ہو یا   سجدہ سہو واجب کرنے والا کوئی دوسرا سبب پایا گیا ہو تب بھی نماز جمعہ وعیدین کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ان نمازوں میں اگر سہو ہوجائے اور جماعت میں شریک لوگوں کی تعداد زیادہ ہو تو سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ، چناں چہ در مختار مع ردالمحتار میں ہے:

"(والسهو في صلاة العيد والجمعة والمكتوبة والتطوع سواء) والمختار عند المتأخرين عدمه في الأوليين لدفع الفتنة كما في جمعة البحر، وأقره المصنف، وبه جزم في الدرر.

(قوله: عدمه في الأوليين) الظاهر أن الجمع الكثير فيما سواهما كذلك كما بحثه بعضهم ط وكذا بحثه الرحمتي، وقال خصوصا في زماننا. وفي جمعة حاشية أبي السعود عن العزمية أنه ليس المراد عدم جوازه، بل الأولى تركه لئلا يقع الناس في فتنة. اهـ.

(قوله: وبه جزم في الدرر) لكنه قيده محشيها الواني بما إذا حضر جمع كثير، وإلا فلا داعي إلى الترك"(١/٩٢)


پھر بھی اگر امام صاحب نے سجدہ سہو کرلیاتونماز کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، چناں چہ خلاصة الفتاوى میں ہے: 

"إذا ظنّ الإمام أنّه عليه سهواً فسجد للسهو وتابعه المسبوق في ذلك، ثمّ علم أنّ الامام لم يكن عليه سهو، فيه روايتان ... وقال الإمام أبو حفص الكبير: لايفسد، والصدر الشهيد أخذ به في واقعاته، وإن لم يعلم الإمام أنّ ليس عليه سهو لم يفسد صلاة المسبوق عندهم جميعاً".(١/١٦٣)

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ:کمال احمد علیمی نظامی 

دارالعلوم علیمیہ جماد شاہی بستی

التصدیق:حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین قادری صاحب دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی 

۱۱جمادی الآخرۃ ۱۴۴۵ھ/ ۲۵ دسمبر۲۰۲۳ء

Post a Comment

0 Comments