Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

بدگمانی

 *بدگمانی حرام ہے*


انسان دست قدرت کا حسین شاہ کار ہے،جب اسے دولت ایمان مل جائے تو اس کا حسن ظاہر حسن باطن سے مل کر معراج کمال تک پہنچ جاتا ہے،اسی لیے ایک بندہ مومن کی عزت و حرمت خانہ کعبہ کی عظمت وجلال سے بھی بڑی ہے،اسی عظمت ورفعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس بات کا مکلف فرمایا کہ اس کے بندوں کے ساتھ اچھا گمان رکھیں، ان کے اقوال وافعال کو حتی الامکان محمل حسن پر محمول کریں، بظاہر کچھ غلط لگے تو شرعی حدود میں رہ کر مناسب تاویل کریں. 

 *قرآن مجید کی بات* 

کتاب ہدایت میں بدگمانی سے اجتناب کی سخت تاکید موجود ہے، اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد لائق دید ہے:

(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ(پ۲۶، الحجرات: ۱۲)

ترجمہ:’’اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہو گا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔‘‘

بدگمانی تبھی پیدا ہوتی ہے جب انسان اس چیز کی ٹوہ میں پڑتا ہے جس کا اسے علم نہیں ہوتا، نہ ہی اس سے اس کا کوئی خاص تعلق، اسی لئے قرآن مجید ناطق ہے:

وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ، اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلًا.(بنی اسرائیل۱۷: ۳۶) 

 ’’اور جس چیز کا تمھیں علم نہیں، اس کے درپے نہ ہو کیونکہ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر چیز سے پرسش ہونی ہے۔‘‘

بدگمانی مہلک مرض ہے، قوموں کی تباہی کا سبب ہے، سلطنتوں کی بربادی کی وجہ ہے،آفاق وانفس میں اس کی تباہ کاریاں عام ہیں، قرآن مجید کی یہ حقیقت بیانی قابل غور ہے :

وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْئِ وَکُنْتُمْ قَوْمَا م بُوْرًا.(الفتح : ١٢)

’’تم نے ایک دوسرے کے بارے برا گمان رکھا اور تم برباد ہونے والی قوم تھے.

بدگمانی پر دنیوی عذاب کے ساتھ اخروی ہلاکت کی وعید بھی ہے،عذاب شدید اور اللہ کی لعنت ہے، ارشاد ربانی ہے :

{ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ} “یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لئے خرابی ہے آگ کی” ۔

مزید ارشاد ہے : {الظَّانِّينَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا} [الفتح :٦]”

ترجمہ :جو اللہ تعالی کے بارے میں بد گمانیاں رکھنے والے ہیں در اصل بری گردش انھیں پر پڑےگی، اللہ ان سےناراض ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے” ۔ 

 *حدیث شریف کی بات* 

کائنات کے محسن اعظم نے بدگمانی کو" اکذب حدیث" قرار دیا،کہ یہ بہت ساری غلط باتوں کی جڑ ہے،بہت سارے سچے لوگوں کو جھوٹا بنا دیتی، بہت سارے رشتوں کو ختم کر دیتی ہے،ارشاد رسول ہے :

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:إيَّاكم والظنَّ، فإن الظنَّ أكذبُ الحدیث (صحیح البخاری کتاب الوصایا ۱/۳۸۴)

 *اللہ تعالیٰ کے ساتھ بدگمانی* 

اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ظن باعث سعادت اور سوء ظن وجہ شقاوت ہے،انسان اپنے رب کے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے اس کے ساتھ من جانب اللہ ویسا ہی سلوک ہوتا ہے، چناں چہ جلیل القدر صحابی رسول 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی نے فرمایا : میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں ، اگروہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو میرا معاملہ اس کے ساتھ ویسا ہی ہے اور اگروہ میرے بارے میں برا گمان رکھتا تو معاملہ اس کے ساتھ ویسے ہی ہے ۔

 *بدگمانی کی شرعی حیثیت* 

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں  :مسلمان پر بدگمانی خود حرام ہے جب تک ثبوتِ شرعی نہ ہو۔( فتاوی رضویہ،۶ / ۴۸۶)

 مزید فرماتے ہیں :

"مسلمانوں  پر بدگمانی حرام اور حتّی الامکان اس کے قول وفعل کو وجہ ِصحیح پر حمل واجب. ( فتاوی رضویہ،۲۰ / ۲۷۸)

 *تہمت کی جگہ سے بچیں* :

فقیہ اسلام صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ اپنے ایک فتوی میں فرماتے ہیں :

" بے شک مسلمان پر بد گمانی حرام ہے مگر جب کہ کسی قرینہ سے اس کا ایسا ہونا ثابت ہوتا ہو تو اب حرام نہیں  ،مثلاً کسی کو بھٹی میں  آتے جاتے دیکھ کر اسے شراب خور گمان کیا تواِس کا قصور نہیں، اُس نے موضعِ تہمت سے کیوں  اِجتناب نہ کیا۔( فتاوی امجدیہ، ۱ / ۱۲۳)

 *بے ثبوت بدگمانی شدید حرام*

اس دور میں بلا ثبوت شرعی کسی کی تکفیر وتضلیل اورتفسیق و تردید عام سی بات ہے،عوام وخواص بھی خواہی نخواہی بدگمانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں،اس حوالے سے فتاوی رضویہ سے ایک استفتا اور فتوی ملاحظہ فرمائیں :

مسئلہ ۶۶۴: ۸ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایک شخص مسجد اہلسنت وجماعت کا امام اور وہ بھی مدعی ہے کہ میں سنی ہوں مگر اس کی رشتہ داری وقرابت روافض سے ہوئی ہے ، اس کی پھُپھاں بھی روافض کو منسوب ہوئیں اور اس کی ہمشیر گان کے روافض سے نکاح ہوئے اور اس نے اپنا نکاح بھی روافض میں کیا ایسی حالت میں اس کا دعویٰ قبول ہوگا یا نہیں، تقیہ جو روافض کا شعار ہے اور اس کے ذریعہ سے اہلسنت کے عبادات کو ضائع کرنا باعث نجات خیال کرتے ہیں محمول ہو کہ ایسے شخص کے پیچھے اہلسنت کو نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں ، بفرض محال اس کے دعوی کو سچ سمجھا جائے اور اس کو سنی خیا ل کیا جائے تو نکاح اس کا اور اس کی ہمشیرگان کا صحیح ہوا یا نہیں، اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھیں اس کا اعادہ ضروری ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا

 *الجواب* : اگر چہ رافضیوں کے یہاں بیاہت کرنے سے خود اس شخص کا خواہی نہ خواہی رافضی ہوناواضح نہیں ہوتا کہ بعض احمق نادان جاہل سنی بھی اس بلائے عظیم میں محض اپنی جہالت سے مبتلا ہیں اور بعض وہ بھی ہیں کہ اسے برا سمجھتے ہیں اور پھر اپنی اگلی رشتہ داری وغیرہا بیہودہ وجوہ کے سبب اس میں مبتلا ہوتے ہیں اور پُھپھیوں بہنوں کے نکاح میں وہ بھی عذر کرسکتا ہے کہ یہ فعل اس کے باپ دادا کا ہے بلکہ شاید اپنے نکاح میں بھی یہی کہے کہ باپ نے کردیا اور ایسی وجہ سے کسی کے قلب و عقیدہ پر حکم نہیں لگا سکتے، اور جب وہ اپنے آپ کو سنی کہتا ہے اور اس کی کوئی بات عقیدہ اہلسنت کے خلاف نہیں تو بدگمانی کر کے رافضی ٹھہرادینے کی اجازت نہیں۔

مزید ایک جگہ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

"اور بے ثبوت شرعی مسلمانوں کو سمجھ لینا کہ ناپاکی کی حالت میں مسجد میں داخل ہوئے بدگمانی ہے اور بدگمانی حرام ۔(فتاویٰ رضویہ ٨/ ١٤)

یہ فتویٰ بھی لائق مطالعہ ہے:

ایک شخص بروئے حلف یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں وہابی نہیں، اللہ کو ایک جانتا ہوں رسول اللہ کو نبی برحق اور اولیائے عظام کو برابر جانتا ہوں، کرامت کا قائل ہوں، حنفی مذہب کا پابند ہوں، جو لوگ پھر بھی اعتبار نہ کریں تو کیا کیا جائے، قرآن اور اللہ پر یقین نہ کرنے والوں کو کیا کہا جائے؟

 *الجواب* :اگر اس میں کوئی بات وہابیت کی نہ دیکھی، نہ کوئی قوی وجہ شبہہ کی ہے تو بلاشبہہ شبہہ نہ کیا جائے بدگمانی حرام ہے ، اور اگر اس میں وہابیت پائی تو ثابت شدہ بات اس کی قسموں سے دفع نہ ہوجائے گی، وہابی اکثر ایسی قسمیں کھایا کرتے ہیں. (فتاویٰ رضویہ ١٤/ ٧١)

*بدگمانی کی مختلف صورتیں* 

روزمرہ کی زندگی میں ہم بہت سارے مواقع پر بدگمانی کربیٹھتے ہیں جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا، مثلاً کسی کو نماز کے وقت مسجد کے بجائے ہوٹل پر دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ وہ پکا بے نمازی ہے، ممکن ہے وہ کسی عذر شرعی کی وجہ سے مسجد نہ گیا ہو، یابعد میں نماز پڑھ لے، یا پڑھ کر بیٹھا ہے، اسی طرح سے کسی کو روزے کے وقت کھاتا پیتا دیکھ کر اسے تارک صوم سمجھ بیٹھتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ حالت سفر میں ہو، یا اور کوئی شرعی عذر ہو، یوں ہی کسی کو کسی خاتون کے ساتھ دیکھ کر گمان کرلیتے ہیں کہ وہ اجنبیہ کے ساتھ عیاشی کررہا ہے، ممکن ہے وہ اس کی بیوی یا بہن ہو،ایک شخص سے  بات کرتے ہوئے فون کٹ جاتا ہے تو ہم سوچنے لگتے ہیں کہ جان بوجھ کر کاٹا ہے، ممکن ہے کٹ گیا ہو،یا نیٹ ورک پرابلم ہو،یا کسی اہم کام میں پڑ گیا ہو،ایک شخص مسجد سے دوسرے کا جوتا پہن گیا، ہم راے قائم کرلیتے ہیں کہ وہ چور ہے، ہوسکتا ہے وہ غلطی سے پہن کر چلا گیا ہو، کسی نے ہم سے ہنسی مذاق میں کوئی بات کہی، ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اس نے سنجیدگی سے طنزاً کہی ہے، پھر بات دور تک چلی جاتی ہے،کسی سے اپنے خلاف کوئی بات سنی،اس پر سوچ لیا کہ فلاں نے یہ بات کہی ہوگی،ملازمت چلی گئی، ہم نے سوچ لیا کہ فلاں نے نوکری سے نکلوائی ہے، یہ بھی بدگمانی ہے، بچی کا رشتہ کٹ گیا، ہم نے گمان کرلیا کہ فلاں نے آگ لگا کر کٹوایا ہے، کسی کے بارے میں گمان کرلیا کہ اس نے جھاڑ پھونک کرادی ہے،گاڑی میں ٹھوکر لگی، ہم نے سوچا جان بوجھ کر مارا، وغیرہ، یہ سب سماج میں رائج غلط فہمیاں اور بدگمانیاں ہیں،اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے.

**حسن ظن کی اہمیت* 

بندگان خدا کے بارے میں خوش گمانی کو حسن ظن کہتے ہیں،کسی بھی فرد یا جماعت کو جب ہم اپنی مخصوص نظر سے دیکھتے ہیں تب بدگمانی راہ پاتی ہے، اگر ہم شریعت اور فطری اخوت کی نگاہ سے دیکھیں تو خوش گمانی کی دولت میسر ہو ،بہت سارے معاملات بدگمانی سے بگڑتے ہیں،سماج میں اگر حسن ظن کا رواج ہوجائے تو صدہا مفاسد کے دروازے خود ہی بند ہوجائیں گے.


اس تناظر میں رسول کریم علیہ السلام کا یہ ارشاد کتنا معنی خیز ہے:


( *اے کعبہ!)تو کتنا پاکیزہ ہے، تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے، تو کتنا معظم ہے، تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، لیکن اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی جان ہے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک ایک مؤمن، اس کے مال، اس کے خون، اس کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی حرمت تیری حرمت سے بھی زیادہ ہے* ۔‘‘(ابن ماجہ، کتاب الفتن،ج ٢،ص ٣١٩)


 *کمال احمد علیمی نظامی* 

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Post a Comment

0 Comments