السلام عليكم ورحمۃ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرح متین مسئلے ذیل کے بارے میں کہ جودیہات یہ گاوں میں علماء پڑھاتے ہیں جو تنخواہ دی جاتی ہے اس میں ایک شرط لگائی جاتی ہے کہ اسی پیسے میں امامت بھی کرنا ہے اوربچوں کو بھی پڑھانا ہے توتنخواہ صرف مدرسے سے دی جاتی ہے تو مدرسے میں جو رقم آتی ہے زکاة صدقہ فطرہ ہرقسم کی رقم آتی ہے مدرسے ہی کےپیسے سےتو کیا مقتدیوں کی نماز ہو گی یا نہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں آپ کی بہت مہربانی ہوگی
احمد حسین نظامی استاد جگنی سعداللہ نگر بلرامپور
*الجواب* بعون الملک الوھاب
زکوٰۃ اور صدقے کی رقم کے مخصوص مصارف ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے،ان کے علاوہ کسی اور مد میں دیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، ادائیگی زکوٰۃ کے لیے تملیک فقیر ضروری ہے، اس لیے زکوٰۃ کی رقم سے بغیر حیلہ شرعی کیے مدرسے کے استاذ یا مسجد کے امام کی تنخواہ نہیں دے سکتے ہیں، ہاں دینی مدارس کی بقا کے لئے زکوٰۃ کی رقم سے بربنائے ضرورت حیلہ شرعی کے بعد مدرسے میں پڑھانے والے استاذ کو دے سکتے ہیں،اس کے پیچھے نماز صحیح ہے ،چناں چہ فقیہ اسلام، صدرالشریعہ، علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :
"صدقہ فطر و زکوٰۃ نہ تعمیر مدرسہ میں صرف کی جاسکتی ہے نہ تنخواہ مدرسین میں۔ یہ صرف فقرااور مساکین کا اور ان لوگوں کا حق ہے جن کو قرآن پاک میں ذکر فرمایا گیا۔
مگر اگر اس قسم کی مدوں کو نکال دیا جائے تو مدرسے کی آمدنی اس زمانے میں اتنی کم رہ جائے گی جس سے اس کا چلنا دشوار ہو جائے گا اور تحصیل علم کا دروازہ بند ہوتا نظر آئے گا۔ لہذا ان چیزوں میں زکوۃ اور صدقہ فطر بطور حیلہ کے صرف کیا جائے کہ اس قسم کے امور خیر کے لیے حیلہ کرنے میں کسی قسم کی کراہت یا قباحت نہیں۔
اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہ رقمیں کسی فقیر یا مسکین کو بطور تملیک دے دی جائیں، وہ اپنی طرف سے مدرسے کو دے دے تو اب اس رقم کا تنخواہِ مدرسین و عمارت میں صرف کرنا جائز ہوجائے گا۔ اور زکاۃ و صدقہ فطر ادا ہو جائے گا چنانچہ عموماً مدارس میں ایسا ہی کیا جاتا ہے۔
[فتاویٰ امجدیہ،کتاب الزکوۃ،ج: ١، ص: ٣٧٦]
رہی بات مدرسے کے استاذ سے کارِ امامت لینے کی اور مدرسہ کی رقم سے امام کو تنخواہ دینے کی تو اگر حیلہ شرعی کرنے والے فقیر نے یہ کہہ کر زکاة کی رقم مدرسہ کے ذمہ داروں کو دی ہو کہ اس روپیے سے مدرسہ کے اخراجات اور مسجد کے امام کی تنخواہ دی جائے تو امام کی تنخواہ میں دے سکتے ہیں لیکن اگر صرف مدرسہ کے مدرسین کی تنخواہ اور مدرسہ کے دیگر اخراجات کے لیے دی ہو تو اس کا کوئی حصہ مسجد کے امام کی تنخواہ میں نہیں دے سکتے، بلکہ اس کے لیے مسجد کی آمدنی سے یا مسجد کے لیے الگ سے چندہ کرکے انتظام کریں۔اور دونوں میں خرچ کرنے کی جائز صورت یہ ہے کہ حیلہ شرعی کرنے والے فقیر سے یہ کہیں کہ وہ مالک بننے کے بعد یہ کہہ کر رقم واپس کرے کہ مدرسہ کے انتظام اور مسجد کے امام کی تنخواہ میں یہ رقم خرچ کی جائے۔
واللہ اعلم بالصواب.
کتبہ : *کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
٧رجب ١٤٤٥ ھ/١٩ جنوری ٢٠٢٤ ء
التصديق :مفتی *محمد نظام الدین قادری* صاحب دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں