*عصر حاضر میں بچوں کی تربیت - مسائل وامکانات*
کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
اولاد اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے،اس کی قدروقیمت کا کامل احساس اسی کو ہوسکتا ہے جو اس عظیم نعمت سے محروم ہے،نیک اولاد زینتِ حیات ہونے کے ساتھ سرمایہ آخرت بھی ہیں ،ولد صالح کی دعا والدین کے حق میں مقبول اور بعد وفات مفید ہوتی ہے، بچوں کے نیک اعمال والدین کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں.
ظاہر ہے یہ سب تبھی ہوگا جب اولاد نیک اور صالح ہوں ،ان کا ایمان و عقیدہ مضبوط،عمل صالح، اخلاق بلند، کردار صاف،فکر پاکیزہ اوران کی شخصیت انسانیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو.
اس میں شک نہیں کہ ان اوصاف و کمالات کا جامع وہی ہوسکتا ہے جس کی تعلیم بھی عمدہ سے عمدہ اور تربیت بھی اعلی درجے کی ہو،تطہیرِ فکر وشعور کے ساتھ تزکیہ قول وعمل بھی کیا گیا ہو،تعلیم کے ساتھ تعمیر ذات پر بھی توجہ دی گئی ہو.
*تربیت کا مطلب*
تربیت کا عام مفہوم بچوں کو ایمان راسخ، عمل صالح اور اعلی اخلاق وکردار جیسے اوصاف کا حامل بنانا ہے، ایک قول کے مطابق
برے اخلاق وعادات اور غلط ماحول کو اچھے اخلاق وعادات اور ایک صالح ماحول سے تبدیل کرنے کا نام تربیت ہے۔
*تربیت کے دو پہلو*
تربیت دو طرح کی ہوتی ہے: ١-ظاہری تربیت،٢-باطنی تربیت.
اول سے مراد اسلامی طرز تربیت کے ساتھ بچوں کے ظاہری اخلاق وکردار، عادات واطوار، وضع قطع اور رہن سہن کو سنوارنا ہے، جب کہ باطنی تربیت سے مراد بچوں کے ایمان وعقیدے،افکار وخیالات اور سوچنے سمجھنے میں دینی روح پیدا کرنا ہے.
*تربیت کا قرآنی ونبوی طریقہ*
کتاب وسنت میں متعدد مقامات پر بچوں کی تربیت کا حکم دیا گیا ہے،درج ذیل قرآنی ارشادات ملاحظہ فرمائیں :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(پ ۲۸، تحریم : ۶)
ترجمہ : اے ایمان والو اپنی جانوں اوراپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤجس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت کرّےفرشتے مقرر ہیں جو اللہ کاحکم نہیں ٹالتے اورجوانہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں ۔
مزید ارشاد ہے :
وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِﳳ-اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْم.
ترجمہ :اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اے میرے بیٹے! کسی کواللہ کا شریک نہ کرنا ، بیشک شرک یقینا بڑا ظلم ہے( لقمان :١٣)
نبوی تربیت کا یہ انداز لائق دید اور قابل تقلید ہے : حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پلیٹ میں کبھی اِدھر پڑتا،کبھی اُدھر۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز سے سمجھایا کہ انہیں محسوس ہی نہیں ہوا کہ غلطی پر ٹوکا جارہا ہے یا آداب سکھائے جارہے ہیں،چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"يَا غُلاَمُ، سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيك" اے بچے!جب کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام لو،اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔
(صحیح بخاری:کتاب الاطعمۃ:باب التسمیۃ علی الطعام والاکل بالیمین:حدیث ٥٣٧٦)
یہ ارشاد بھی مشعلِ راہ ہے:
"مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا، وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْر"یعنی اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں مارو۔
(سنن ابی داؤد:کتاب الصلاۃ:حدیث٤٩٥)
مزید ارشاد رسول (علیہ السلام) ہے:
’’تم سب نگراں ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔بادشاہ نگراں ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ آدمی اپنے اہل وعیال کا نگراں ہے اس سے اس کے اہل وعیال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولادکی نگراں ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب العتق، باب کراہیۃالتطاول ۔۔۔۔الخ، الحدیث ۲۵۵۴، ج۲، ص۱۵۹)
*موجودہ تعلیمی نظام میں تربیت کا تصور*
عصر حاضر میں ہمارے موجودہ تعلیمی نظام کی سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ اس میں صرف پڑھنے پر زور دیا جاتا ہے ،علم کے ساتھ شوق عمل پیدا کرنے کی طرف توجہ نہ کے برابر ہے،جب کہ پڑھنے کا مقصد کرنا ہی ہوتا ہے،تعلیم کے ساتھ تربیت بے حد ضروری ہے، اس کے بغیر تعلیم کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا ہے.
اسی لیے ہمارے اسلاف نے طلبہ کی تعلیم کے لئے مدرسوں کے ساتھ ان کی تربیت کے لئے خانقاہوں کی بنیاد رکھی، درس گاہوں سے تعلیم تو خانقاہوں سے تربیت کا آب زلال پلایا گیا، علم کے ساتھ عمل کا خوگر بنایا گیا،ان کے اخلاق وکردار کی مشاطگی کی گئی،ایمان وعقیدےکو مضبوطی فراہم کی گئی، اعمال صالحہ کی عملی مشق کرائی گئی ، اوراد ووظائف کی تلقین کی گئی، اس طرح کے نظام تعلیم سے فارغ ہونے والے بچے وقت کےغوث اور قطب ہوتے تھے، جن کے حال وقال زمانے میں انقلاب برپا ہوا کرتے تھے اور جن کی نگاہوں سے تقدیریں بدل جاتی تھیں.
عصر حاضر میں ہمیں اپنے نصاب اور نظام تعلیم میں جزوی طور پر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے،درسی کتابوں میں تصوف اور تہذیب اخلاق جیسے مضامین کی شمولیت ناگزیر ہے،بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ان کے ظاہر وباطن کی تربیت کے بغیر ایک صالح معاشرے اور قوم کے روشن مستقبل کا تصور صحرا میں سراب دیکھنے کی مانند ہے.
*طریقہ تربیت*
عصر حاضر میں دنیا اور نظام دنیا میں حیرت انگیز تبدیلی رونما ہو چکی ہے، اس لیے ہمیں بچوں کی تربیت کا انداز بھی بدلنا ہوگا، پہلے مارپیٹ اور تادیب وسرزنش کے ذریعے تربیت ہوتی تھی مگر اس وقت ان سب باتوں کو اپنا کر تربیت کرنا مشکل ہے،مارپیٹ کے بجائے پیار اور محبت سے تربیت کرنے کی ضرورت ہے،اس حوالے سے عظیم مورخ اور ماہر تعلیم ابن خلدون لکھتے ہیں:
" تعلیم میں سختی خصوصا چھوٹے بچوں کے لیے سخت مضر ہے، طالب علم کی تربیت کا دار و مدار سختی پر ہوگا تو اس کا انبساط و نشاط فنا ہو جائے گا۔ اور یہ سختی اس میں بھی کاہلی پیدا کرے گی، اور سزا سے بچنے کے لیے اس کو جھوٹ ، فریب اور نفاق کی طرف مائل ہونا پڑے گا۔ اور یہ چیزیں اس کی ایک عادت بلکہ اس کا خلق بن جائے گی۔" ( اسلامی نظام تعلیم، ص:٧٧)
امام غزالی فرماتے ہیں:
" طلبہ کو بد اخلاقی سے اشارہ کنایہ میں جہاں تک ہو سکے روکا جائے ، اور اس کی تصریح نہ کی جائے ، اور مہربانی کا طریقہ رکھا جائے ، ڈانٹ ڈپٹ نہ کی جائے ، کیوں کہ تصریح ہیبت کا پردہ چاک کر دیتی ہے" ۔ (اسلامی نظام تعلیم، ص:۷۸)
عہد ماضی کے عظیم محقق اورتعلیمی امور کے ماہر قاضی ابن جماعہ فرماتے ہیں:
" اگر کسی طالب علم سے کوئی بات تہذیب کے خلاف سرزد ہو تو اس شخص کے سامنے نرمی سے سمجھایا جائے ، جس کے سامنے بد تہذیبی کی گئی ہو، اگر وہ باز نہ آئے تو پوشیدہ طور پر اسے سمجھایا جائے، اگر یہ بھی کارگر نہ ہو تو اسے سخت الفاظ میں اعلانیہ تنبیہ کی جائے، اگر یہ ڈانٹ ڈپٹ بھی کام نہ آئے تو اس صورت میں اس لڑکے کو علاحدہ کر دینے میں کوئی حرج نہیں، خصوصا اگر اس کا اثر دوسرے طالب علموں میں پھیل جانے کا اندیشہ ہو۔ (اسلامی نظام تعلیم ص: ۷۶)
ان اقتباسات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلامی طرز تربیت کی صحیح صورت کیا ہے اور عصر حاضر میں بچوں کی تربیت کا طرز و طریقہ کیا ہونا چاہیے۔
*چند قابل لحاظ امور*
عصر حاضر میں بچوں کی تربیت کے وقت ان امور کا لحاظ رکھا جائے :
١-بچوں کی تربیت کا مقصد ان کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنا اور ملک وملت کے لیے انہیں کارآمد فرد بنانا ہو.
٢-تربیت میں تدریج ملحوظ رکھی جائے،دھیرے دھیرے ان کو درجہ کمال تک پہنچانے کی کوشش کی جائے.
٣-تربیت کے لئے اپنا بہترین وقت دیا جائے، تھکا ہوا انسان بچوں کی صحیح تربیت نہیں کرسکتا، اس لیے بچوں کی تربیت کے لئے اپنا بہترین وقت صرف کیا جائے.
٤-پہلے بچوں کو ایمان کی مضبوطی، پھر عمل صالح کی عادت، پھر سماجی اور معاشرتی اخلاق واقدار کی تلقین کی جائے.
٥- سزادینے سے پہلے یا دینے کے بعد بچے کو اس کے جرم اور اس کی سنگینی کا احساس دلایا جائے۔
٦- سزا کا مقصد اصلاح ہو انتقام نہیں۔
٧-سز ا بقدر جرم ہو، نہ کم نہ زیادہ۔
٨- سزا کے کچھ آسان طریقے بھی اپنائے جاسکتے ہیں، مثلاً حساس بچوں کے لیے خفگی کا اظہار کرنا، کسی کاہل بچے سےکوئی رفاہی کام لے لینا ، وغیرہ۔

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں