Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

حفیظ اشرفی کی نعتیہ شاعری

 [2/23, 09:24] کمال احمد علیمی نظامی: قائد ملت حضرت مولانا حفیظ اللہ اشرفی صاحب کی ذات گوناگوں صفات سے متصف تھی،علم، عمل،جہد مسلسل، سعی پیہم،جذبہ تبلیغ، شوق تعلیم،جیسے عظیم اوصاف آپ کی دستار کرامت کے درخشندہ لعل وگہر تھے،جن سے ایک عالم نے نور علم وعمل کشید کیا مگر ان تمام اوصاف وکمالات میں محبت رسول آپ کا وہ وصف خاص تھا جس نے آپ کے وجود کو نور عشق وعرفان سے منور کردیا،سعادت سرمدی نے آپ کی ہم رکابی کو باعثِ شرف سمجھا،اور اسی خوبی نے آپ کی ذات بابرکات کو ملت اسلامیہ کے لیے سرمایہ افتخار بنا دیا.

محبت رسول کا لازمی تقاضا ذکر رسول ہے، ذکر رسول کے متعدد طرق و ذرائع میں سے ایک نہایت خوبصورت اور بابرکت طریقہ نعت خوانی بھی ہے، نعت کبھی بشکل نثر ہوتی ہے کبھی بطور نظم، یہاں مقصود حضرت قائد ملت کی نعتیہ شاعری پر کلام کرنا ہے.

قائد ملت بہترین نعت گو شاعر تھے، جہان ادب میں حفیظ اشرفی تخلص رکھتے تھے، متعدد نعت، منقبت اور قصیدے دیکھنے کا اتفاق ہوا، معیار وادبیت سے قطع نظر ایک چیز جو بار بار محسوس ہوتی ہے وہ ان کا عشق رسول ہے، اسی عشق میں تڑپتے ہیں، مرغ بسمل کی طرح مضطرب رہتے ہیں،اور اسی کیف وسرشاری کو متاع حیات سمجھتے ہیں.

نعت خوانی کی آرزو ان الفاظ میں کرتے ہیں :


نعت خوان رسول ہوجاؤں

پھر تو گلشن کا پھول ہوجاؤں

زندگی میری بھی چمک اٹھے

ان کے قدموں کا دھول ہوجاؤں

مزید فرماتے ہیں :


نعت سرکار مل کر کے گائیں گے سب

ان کی عظمت کا پرچم اڑائیں گے سب

آج بھی ان کا پرچم اڑاتے چلو

مومنو نعت سرکار گاتے چلو

سرور انبیاء شاہ دنیا ودیں

خلق کے راہبر لامکاں کے مکیں

اے رؤف ورحیم وکریم وامیں

آپ کے در کا منگتا حفیظ وحزیں

بخت خوابیدہ میرا جگاتے چلو

مومنو نعت سرکار گاتے چلو

مومنو مومنو مومنو

نعت سرکار گاتے چلو


آپ کے کلام میں محبت رسول کے ساتھ حب صحابہ کا سبق بھی ملتا ہے، یہ اشعار دیکھیں :

بو بکر کی صداقت کا چرچہ کرو 

اور عمر کی عدالت کا چرچہ کرو

پھر سخی کی سخاوت کا چرچہ کرو

اب علی کی شجاعت کا چرچہ کرو


مل گیا عشق احمد مجھے جب

 کیا کروں لے کے میں  جام ومینا

مانگنے سے سوا بھی ملے گا

چاہیے مانگنے کا قرینہ


سب صحابہ ہیں مانند تارے

چاند ہیں تاجدار مدینہ

غوث وخواجہ کا دامن نہ چھوٹے

ہیں نبی تک پہونچنے کا زینہ


بزرگوں کی سچی عقیدت آپ کی حیات طیبہ کا طرہ امتیاز تھا، زندگی بھر اسی کا درس دیا، اپنے اشعار میں بھی اس تعلق سے بڑی قیمتی باتیں کہی ہیں، ملاحظہ فرمائیں :

غوث وخواجہ کا دامن نہ چھوٹے

ہیں نبی تک پہونچنے کا زینہ

آپ کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف حب رسول ہے، محبت رسول کی خوش بو سے معطر یہ چند مصرعے عجیب کیفیت پیدا کرتے ہیں :

خزاں رسیدہ چمن میں بہار آجائے

الم کے بعد سکون وقرار آجائے

کلی کلی پہ یقینا نکھار آجائے

جو طیبہ ہو کے نسیم بہار آجائے

الٰہی جس گھڑی ہنگامہ نزع ہو میرا

نظر کے سامنے ان کا مزار آجائے

عطا ہو ساقی کوثر وہ جام عرفانی

کہ جس کو پینے سے اک دم خمار آجائے

مدینہ جلد بلالو بڑا کرم ہوگا

دل حزیں کو سکون وقرار آجائے


برجستگی اور روانی سے لبریز یہ کلام بھی محبت رسول کی شیرینی سے معمور ہے :

 سر میں سودا رسول عربی کا

دل ہے شیدا رسول عربی کا

بزم امکاں میں نہ ہوا کوئی

مثل وہمتا رسول عربی کا

نجدی بے حیا نے نہ جانا

کیا ہے رتبہ رسول عربی کا

قدسیوں کا جہاں ہے حج ہوتا

وہ ہے روضہ رسول عربی

روز محشر کا جس کو کہتے ہیں

ہے وہ میلہ رسول عربی کا

عرش اعظم نے بھی خدا کی قسم

پاؤں چوما رسول عربی کا

جس کا جبرئیل نے لیا بوسہ

ہے وہ تلوا رسول عربی کا

جس سے تاریکیاں ہوئیں زائل

ہے وہ چہرہ رسول عربی کا

رب عالم نے خود کیا ہے حفیظ

ذکر اونچا رسول عربی کا

آپ کی شاعری میں محض لفاظی نہیں ہوتی بلکہ عقیدہ وعمل، فکروشعور، گہرائی وگیرائی،اور بہت سارے پیغامات بھی پائے جاتے ہیں،چند چیزیں حاضر ہیں :

 *استغاثہ* 

ظلم پیرا زمانے میں کفار ہیں 

اور ہمارے مٹانے کو تیار ہیں

آپ کے لطف واکرام درکار ہیں

آپ کی پیاری امت میں سرکار ہیں


سبز گنبد کا منظر دکھا دیجئے

سوئی قسمت بھی میری جگا دیجئے

مجھ کو طیبہ میں آقا بلا لیجئے

کالی کملی میں اپنی چھپا لیجئے

 *عقائد معمولات اہل سنت کا ذکر* 


جان لو رب نعمتیں کیا ہے

ہے یہ صدقہ رسول عربی کا

حشر کے دن گنہ گاروں کو

ہے سہارا رسول عربی کا

مغفرت کے لئے سیہ کارو

ہے وسیلہ رسول عربی کا


شاہ دنیا ودیں سرور انبیاء

جگ کے حاجت رواں سب کے مشکل کشاں

جن کی تعظیم کو کعبہ بھی جھک گیا

 *رد بدمذہبیت*

رب سلام خود بھیجے شرک تم بتاتے ہو

اس سے صاف ظاہر ہے مصطفی سے ان بَن ہے

ان کا خیال آیا تو باطل ہوئی نماز

نجدی لعیں خبیث کا باطل خیال ہے


ہر شئی پہ ہے قادر خدا اور جھوٹ بھی شئی ہے

یہ نجد کے دیوانوں کا سب سے سوال ہے


ہم ان کے بھکاری ہیں وہ داتا ہیں ہمارے 

ہم ان سے مانگتے ہیں تجھے کیوں ملال ہے


جن کی انگلی کے اشارے پر چلے شمس وقمر

رب کا پیارا جگ کا داتا مالک ومختار ہے

مالک ہر دوجہاں میں قاسم نعمت ہے وہ

مانگ لے ہر کوئی ان سے  جو جسے درکار ہے


تمام انبیاء کرے رہے ذکر ان کی آمد کا

لبِ عیسیٰ پہ اے آقا تیرا ذکر ولادت ہے

 *مسلک اعلیٰ حضرت*

شیر سنت نے ہم کو یہ سمجھا دیا

مسلک اعلی حضرت بڑی چیز ہے

 **حب صحابہ اور رد رافضیت* 


بو بکر کی صداقت کا چرچہ کرو 

اور عمر کی عدالت کا چرچہ کرو

پھر سخی کی سخاوت کا چرچہ کرو

اب علی کی شجاعت کا چرچہ کرو


مل گیا عشق احمد مجھے جب

 کیا کروں لے کے میں  جام ومینا

مانگنے سے سوا بھی ملے گا

چاہیے مانگنے کا قرینہ


سب صحابہ ہیں مانند تارے

چاند ہیں تاجدار مدینہ

غوث وخواجہ کا دامن نہ چھوٹے

ہیں نبی تک پہونچنے کا زینہ


 *صنعتوں کا استعمال*

کسی بھی منظوم کلام کے حسن ومعیار میں کمال اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب اس میں محسنات معنویہ کے ساتھ محسنات لفظیہ کا بھی خیال رکھا جائے،یہ اور بات ہے کہ یہ محسنات مقصود نہیں ہوتے، مقصود سے اصل معنی مراد ہی ہوتا ہے، ابوالفیض کے بقول :

’’صنعتیں بذات خود شاعری کا مقصد نہیں ہوتیں،لیکن شاعری کا مقصدان کے بغیر پورا بھی نہیں ہوتا کیوں کہ ان کے ذریعے شعر کے تاثر میں اضافہ ہوتا ہے‘‘۔(درسِ بلاغت، ابوالفیض ،ص:۳۹)

ذیل میں حضرت کی شاعری میں موجود چند صنعتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات کو ختم کرنا چاہتا ہوں.

صنعت تلمیح

شعری‬‫اصطلاح میں کسی تاریخی واقعہ ‪ ،‬مذہبی حکم ‪ ،‬لوک داستانوی ‬‫کردار وغیرہ کو اس انداز سے نظم کیا جائے کہ اس اس واقعے کے علم نہ ہونے کی صورت میں شعر کی تفہیم مکمل نہ ہو اور واقعہ کا علم ہونے شعر کا مضمون‬‫پُرلطف اور زوردار ہو جائے تو اسے تلمیح یا صنعت تلمیح کہتے ہیں .


مثالیں

شکیل بدایوانی لکھتے ہیں



مئے کوثر پلاتے ہیں جناب مصطفی شاید


علی اصغر کے رونے کی صدا کم ہوتی جاتی ہے



اس شعر میںکربلا میں حضرت علی اصغر کی پیاس اور شہادت کا اشارہ ہے ۔



امام احمد رضا خان بریلوی رجعت شمس اور شق القمر کے واقعہ کو اس طرح تلمیح کرتے ہیں ۔



تیری مرضی پا گیا ، سورج پھرا الٹے قدم


تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجا چر گیا 

حدائق بخشش


حفیظ اشرفی کے کلام میں اس صنعت کا جا بجا التزام ہے، مثلاً :


بہر تعظیم نبی کعبہ جھکا

کہہ رہا تھا الصلاۃ والسلام 


پنجۂ بو جہل میں بھی سنگ پارے کہہ اٹھے

ہم تمہارے تم ہمارے الصلاۃ والسلام


جن کی انگلی کے اشارے پر چلے شمس وقمر

رب کا پیارا جگ کا داتا مالک ومختار ہے

مالک ہر دوجہاں میں قاسم نعمت ہے وہ

مانگ لے ہر کوئی ان سے  جو جسے درکار ہے


شاہ دنیا ودیں سرور انبیاء

جگ کے حاجت رواں سب کے مشکل کشاں

جن کی تعظیم کو کعبہ بھی جھک گیا

صنعت اقتباس

شاعری میں صنعت اقتباس سے مراد یہ کہ شاعر اپنے شعر میں قرآن پاک یا حدیث مبارکہ میں سے کچھ الفاظ حوالے کے لئے استعمال کرے ۔ یہ صنعت بہت مہارت اور احتیاط کی متقاضی ہے ۔


مثالیں

مرزا غالب ، علامہ اقبال اور امام احمد رضا بریلوی کے کلام میں اس کی مثالیں ملتی ہیں ۔


دھوپ کی تابش آگ کی گرمی


"و قنا ربنا عذاب النار "


مرزا غالب



رنگ ِ "او ادنی " میں رنگیں ہو کے اے ذوق طلب


کوئی کہتا تھا کہ لطف ما خلقنا " اور ہے


علامہ اقبال



ورفعنا لک ذکرک کا ہے سایہ تجھ پر


بول بالا ہے تیرا ذکر ہے اونچا تیرا



"من رانی قد رای الحق " جو کہے


کیا بیاں اس کی حقیقت کیجئے


امام احمد رضا خان بریلوی


حفیظ اشرفی کے کلام میں بھی اس صنعت کا اہتمام کیا گیا ہے، مثلاً :

بفیض سرور دنیا ودیں جشن ولادت ہے

مرے آقا میرے مولا یہی میری محبت ہے

نبی کا تذکرہ چھیڑو مناو عید اے لوگو

ورفعنا لک ذکرک سے اس کی تو صراحت ہے.

تشبیہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے لغوی معنی مشابہت، تمثیل اور کسی چیز کو دوسری چیز کی مانند قرار دینا ہیں۔ علم بیان کی رو سے جب کسی ایک چیز کو کسی خاص صفت کے اعتبار سےیامشترک خصوصیت کی بنا پر دوسری کی مانند قرار دے دیا جائے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔


صنعت تشبیہ

ایسا شعر جس میں تشبیہ استعمال کی گئی ہو صنعت تشبیہ کا حامل شعر کہلاتا ہے ۔


مثالیں


دل کرو ٹھنڈا مرا، وہ کف پا چاند سا


سینہ پہ رکھ دو ذرا، تم پہ کروڑوں درود


امام احمد رضا خان بریلوی


کف پا کو چاند سا کہا گیا ہے ۔


حفیظ اشرفی کے کلام میں صنعت تشبیہ کے جلوے جابجا ملتے ہیں، مثلاً :


سب صحابہ ہیں مانند تارے

چاند ہیں تاجدار مدینہ

غوث وخواجہ کا دامن نہ چھوٹے

ہیں نبی تک پہونچنے کا زینہ

صنعت استعارہ

اس صنعت کو کہتے ہیں کہ شاعر اپنے کلام میں کسی لفظ کے حقیقی معنی ترک کرکے اس کو مجازی معنی میں استعمال کرے اور ان حقیقی اور مجازی معنوں میں کوئی نہ کوئی تشبیہ کا علاقہ ہو ۔ مثلا امام احمد رضا خان بریلوی کے یہ شعر دیکھیں


مثالیں

آنکھیں ٹھنڈی ہوں جگر تازے ہوں جانیں سیراب


سچے سورج وہ دل آرا ہے اجالا ہے تیرا


امام احمد رضا خان بریلوی


"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

اس شعر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو "سچا سورج " کہا گیا ۔ اسی طرح


نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا


ساتھ ہی منشی ءِ رحمت کا قلمدان گیا

حفیظ اشرفی کی نعت و منقبت میں دیگر محسنات کے ساتھ اس خوبی کا بھی بھر پور التزام کیا گیا ہے، مثلاً :

کملی والے کو اگر دل سے پکارا ہوتا

اپنا ایمان ہے موجوں میں کنارا ہوتا

ڈوب سکتی نہیں کشتی مقدر ان کی

ہاں اگر سرور عالم کو پکارا ہوتا


ان کے گیسو ہیں رحمت کے بادل

مشک وعنبر سے بہتر پَسینہ

*ذکر معراج*

شبِ معراج میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے نعلین شریف سمیت عرشِ معلا پر تشریف لے جانے سے متعلق ایک روایت کو نعت گو شعرا نے کافی نظم کیا ہے ، اس کے مفہوم سے پہلے چند مشہور شعرا کے اشعار ملاحظہ کریں      ؎


نعلینِ پا سے عرشِ معلا کو ہے شرَف


روح الامیں ہے غاشیہ بردارِ مصطفی


                                                                        (بیدمؔ وارثی)


حکم موسیٰ کو ’’فاخلع‘‘ مگر معراج میں


تاجِ فرقِ عرشِ بریں ہے نعلینِ پائے مصطفی


                                                                        (وہبیؔ لکھنوی)


ان کے نعلین کا مقام فلک


ان کے نعلین تک مری پرواز


                                                                        (بشیر حسین ناظمؔ )


عرشِ اعلا کا بھی اعزاز بڑھا ہے اُن سے


سلسلہ فیض کا ایسا ترے نعلین میں ہے


                                                                        (غلام قطب الدین فریدؔ )


سُن کے جس کے نام کو جھک جائے عقیدت کی جبیں


جس کی نعلین کہ اتری نہ سرِ عرشِ بریں


                                                                        (ادیبؔ رائے پوری)


یانبی دیکھا ہے رتبہ آپ کی نعلین کا


عرش نے چوما ہے تلوا آپ کی نعلین کا


                                                                        (نثار علی اجاگرؔ ) 


عرش اعظم نے بھی خدا کی قسم

پاؤں چوما رسول عربی کا


جس کا جبرئیل نے لیا بوسہ

ہے وہ تلوہ رسول عربی کا


رب عالم نے خود کیا ہے حفیظ

ذکر اونچا رسول عربی کا

*استغاثہ* 



ظلم پیرا زمانے میں کفار ہیں 

اور ہمارے مٹانے کو تیار ہیں

آپ کے لطف واکرام درکار ہیں

آپ کی پیاری امت میں سرکار ہیں


سبز گنبد کا منظر دکھا دیجئے

سوئی قسمت بھی میری جگا دیجئے

مجھ کو طیبہ میں آقا بلا لیجئے

کالی کملی میں اپنی چھپا لیجئے.

[2/23, 09:52] کمال احمد علیمی نظامی: نعت گوئی بہت بڑی سعادت ہے،جس کے دل میں حب رسول جس قدر موجود ہوتا ہے اسی قدر اس کی زبان نعت رسول سے تر رہتی ہے، یہ وظیفہ قرآن ہے، سنت رحمن ہے، طریقہ صحابہ ہے، سچ یہ ہے کہ پورا قرآن نعت رسول کی برکتوں سے معمور ہے،نعت رسول سے لبریز یہ چند آیات ملاحظہ فرمائیں :


١۔ اِنَّآ اَرْسَلْنٰـکَ بِالْحَقِّ بَشِيْراً وَّنَذِيْراً وَّلَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِيْمِ(البقرۃ، 2 : 119)

’’بے شک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اہلِ دوزخ کے بارے میں آپ سے پرسش نہیں کی جائے گیo‘‘


٢۔ فَکَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّةٍ م بِشَھِيْدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآءِ شَھِيْدًا(النساء، 4 : 41)

’’پھر اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گےo‘‘


٣۔ لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْکُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌo(التوبۃ، 9 : 128)


’’بے شک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول ( ﷺ ) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لیے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزومند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لیے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیںo‘‘

٤۔ عَسٰٓی اَنْ يَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo(الإسرائ، 17 : 79)

’’یقینا آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظمیٰ جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)

٥۔ اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَo وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَo الَّذِيْٓ اَنْقَضَ ظَهْرَکَo وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَo(الم نشرح، 94 : 1-4)


’’کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (انوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لیے) کشادہ نہیں فرما دیاo اور ہم نے آپ کا (غمِ امت کا وہ) بار آپ سے اتار دیاo جو آپ کی پشتِ (مبارک) پر گراں ہو رہا تھاo اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر (اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر دنیا و آخرت میں ہر جگہ) بلند فرما دیاo‘‘

نعت رسول سے متعلق کچھ حدیثیں بھی دیکھیں :

١۔ عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ لِحَسَّانَ : إِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ لَا یَزَالُ یُؤَيِّدُکَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللهِ وَرَسُوْلِهِ، وَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ ، یَقُوْلُ : ھَجَاھُمْ حَسَّانُ، فَشَفَی وَاشْتَفَی۔ قَالَ حَسَّانُ :


ھَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ

وَعِنْدَ اللهِ فِي ذَاکَ الْجَزَاءُ


ھَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا حَنِيْفًا

رَسُوْلَ اللهِ شِيْمَتُهُ الْوَفَاءُ


فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي

لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَاءُ

(أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب : المناقب، باب : من أحب أن لا یسب نسبه، 3 / 1299، الرقم : 3338) 

٢-عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ رضی الله عنه أَنَّ حَسَّانَ رضی الله عنه قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيْھِمْ أَبُوْ هُرَيْرَةَ رضی الله عنه : أَنْشُدُکَ اللهَ یَا أَبَا ھُرَيْرَةَ، أَسَمِعْتَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ : أَجِبْ عَنِّي أَيَّدَکَ اللهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ؟ فَقَالَ : اَللَّھُمَّ، نَعَمْ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالطَّبَرَانِيُّ۔


6 : أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب : فضائل الصحابۃ، باب : فضائل حسان بن ثابت رضی الله عنه، 4 / 1933، الرقم : 2485)

حضرت ابن مسیّب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے حلقہ میں جہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، ان سے دریافت کیا : اے ابوہریرہ! میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : (اے حسان! ) میری طرف سے (کفار و مشرکین کو) جواب دو، اللہ تعالیٰ روح القدس (یعنی حضرت جبرائیل ں) کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے گا؟ تو انہوں نے جواب دیا : ہاں، اللہ کی قسم! میں نے سنا ہے۔

[2/23, 09:55] کمال احمد علیمی نظامی: عنوان :

 *"حفیظ اشرفی" کی نعتیہ شاعری - ایک تجزیاتی مطالعہ*


از: کمال احمد علیمی نظامی

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

Post a Comment

0 Comments