Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

"الفقر فخری" حدیث نہیں

"الفقر فخری " حدیث نہیں ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام درجہ ذیل حدیث کے متعلق کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ.. الفقر فخري.. میں نےسنا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے اور بعض مقررین اس کو بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں   ایسی موضوع حدیث بیان کرنے والے پر حکم شرع کیا ہوگا  جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں

سائل محمد عامر کٹیہار


 *الجواب* بعون اللہ الوھاب

ائمہ حدیث وفقہ نے"الفقر فخری"  کو موضوع وبے اصل قرار دیا ہے اور رد وانکار ظاہر کیے بغیر موضوع حدیث کا بیان کرنا ناجائز ہے۔

اس حدیث کے موضوع اور بے اصل ہونے کے بارے میں چند ائمہ فن کی تصریحات ملاحظہ ہوں :

حضرت امام احمد بن علی بن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

الفقر فخری وبہ افتخر... جزم الاصفہانی بانہُ موضوع۔ (تلخیص الحبیر ٣/ ١٠٩)

امام شمس الدین سخاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"الفقر فخری وبہ افتخر باطل موضوع" (مختصر المقاصد الحسنہ: رقم ٢٩٢)

ملّا علی قاری علیہ الرحمۃ فرماتےہیں:

"الفقر فخری وبہ افتخر قال العسقلانی ھو باطل موضوع۔" 

 (موضوعاتِ کبیر، حرف فاء: ص: ٥٠)

شیخ محمد بن طاہر پٹنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"الفقر فخری وبہ افتخر قال شیخنا ھو باطل موضوع" (تذکرۃ الموضوعات: ص: ١٧٨)

شیخ محمد بن اسماعیل عجلونی فرماتےہیں:

"قال الحافظ ابن الحجر باطل موضوع وقال فی التمییز کا المقاصد و من الواھی فی الفقر ما للطبرانی عن شداد بن اوس رفعہ "الفقر أزین بالمؤمن من العزارِ الحسن علیٰ خدالفرش" (کشف الخفاء، رقم: ١٨٥٣)

شارح بخاری امام احمد القسطلانی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں :

"واما مایروی انہ صلی اﷲ علی و سلم قال "الفقر فخری وبہٖ أفتخر"فقال شیخ الاسلام و الحافظ ابنِ حجر ھو باطل و موضوع" (المواہب اللّدنیہ :٢/ ١٦٢)

 *فتاوی رضویہ* میں امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :

"امام ابن حجر مکی شرح ہمزیہ مبارکہ میں زیر قول ماتن امام محمد بوصیری قدس سرہ:

 وسع العالمين علما و حلما          

  فهو بحر لم تعيه الاعياء

 مستقل دنياك أن ينسب       

 الامساك منها إليه والاعطاء

(آپ علم وحلم میں تمام جہانوں سے برتر ہیں، وہ ایسا سمندر ہے جسے کوئی عیب لگانے والا عیب نہیں لگا سکتا، آپ دنیا کو حقیر وذلیل جانتے ہیں برابر ہے آپ کو غیر مستحق سے دنیا کو روکنا اور مستحق کو عطا کرنا) فرماتے ہیں :

"في السيف المسلول للتقي السبكي عن الشفاء واقره ان فقهاء الاندلس افتو باراقة دم من وصفه صلى الله تعالى عليه وسلم بالفقر في اثناء مناظرته باليتيم ثم زعم ان زهدہ لم يكن قصدا ولو قدر على الطيبات اكلها و ذكر البدر الزركشي من بعض الفقهاء المتاخرين انه كان يقول لم يكن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم فقيرامن المال و لا حاله حال الفقر بل كان اغني الناس بالله تعالى قد كفي امر الدنيا فى نفسه و عياله و كان يقول في قوله صلى الله تعالى عليه وسلم اللهم احيني مسكينا ان المراد استكانۃ القلب لا السكينة هى ان لا يجد ما يقع لو قعاس كفايته وكان يشدد التكبير على من يعتقد خلاف ذلك اھ. اما خبر الفقر فخرى و به افتخر فموضوع و قد صح انه صلى الله تعالى عليه وسلم استعاذ من فتنۃ الفقر کما استعاذ من فتنة الغنى"

ترجمہ :امام تقی سبکی نے "السیف المسلول" میں "الشفاء" سے نقل کرکے اسے ثابت رکھا ہے کہ فقہاے اندلس نے اس شخص کے قتل کا فتویٰ جاری فرمایا جس نے دوران مناظرہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فقیر و یتیم کہا اور یہ عقیدہ رکھا کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا زہد اختیاری نہ تھا اگر آپ اشیاے طیبہ پر قادر ہوتے تو انہیں استعمال میں لاتے ،  امام بدر زر کشی نے بعض متاخرین فقہا سے نقل کیا، فرمایا کرتے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذات گرامی مال کے اعتبار سے فقیر نہیں اور نہ آپ کا حال حال فقر ہے بلکہ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو تمام لوگوں سے غنی بنایا ہے آپ اپنی ذات اور عیال میں دنیا کے کسی معاملہ میں ہرگز محتاج نہیں اور یہ بھی فرماتے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا جو ارشاد گرامی ہے "اے اللہ مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھ" سے دل کی عاجزی مراد ہے نہ کہ وہ غریبی و محتاجی جو فقر کا مترادف ہے یعنی وہ محتاج جو قوت لایموت نہ رکھتا ہو، اور جو اس کے خلاف ذہن وعقیدہ رکھتا ہو اس پر سخت ناراض ہوتے۔  *رہا معاملہ حدیث "فقر میرا فخر ہے اور اس پر فخر کرتا ہوں" کا تو یہ موضوع اور من گھڑت روایت ہے کیونکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ فقر کے فتنہ سے پناہ مانگا کرتے جیسے کہ مالدای کے فتنہ سے پناہ مانگتے* ۔ (فتاوی رضویہ ١٤/ ٦٣٢)

مزید فرماتے ہیں :

"حضورِ اقدس، قاسم نعم، مالک الارض، ورقابِ امم، معطیِ منعم، قثمِ قیم، ولی والی، علی عالی، کاشف الکرب، رافع الرتب، معینِ کافی، حفیظ وافی، شفیعِ شافی، عفو عافی، غفورِ جمیل، عزیز جمیل، وہاب کریم، غنیِ عظیم، خلیفۂ مطلقِ حضرتِ رب، مالک الناّس ودیانِ عرب، ولی الفضل، جلی الافضال، رفیع المثل ممتنع الامثال صلی اﷲ علیہ و سلم کی شانِ ارفع و اعلیٰ میں الفاظِ مذکورہ (یتیم، غریب، مسکین، بے چارہ) کا اطلاق ناجائز و حرام ہے۔خزانۃ الاکمل مقدسی و ردالمحتار میں ہے:

ویجب ذکرہ صلی اﷲ علیہ و سلم بالاسماء المعظمۃ فلا یجوز ان یقال انہُ فقیر، غریب، مسکین۔

ترجمہ: حضور کا ذکر عزت و تکریم والے ناموں سے کرنا واجب ہے اور اس طرح کہنا جائز نہیں کہ آپ فقیر، غریب اور مسکین تھے۔"

مزید فرماتے ہیں :

" نسیم الریاض جلد رابع صفحہ ٤٥٠ میں ہے:

الانبیاء علیھم الصّلوٰۃ والسلام لایو صفون بالفقر و لایجوز ان یقال نبینا صلّی اﷲ علیہ و سلم فقیر"وقولھم عنہ "الفقر فخری"لا اَصل لہُ کما تقدم۔

ترجمہ: انبیائے کرام علیہم السلام کو فقر سے موصوف نہ کیا جائے اور یہ جائز نہیں کہ ہمارے آقا نبی کریم کو فقیر کہا جائے۔ رہا لوگوں کا "الفقر فخری" کو آپ سے مروی کہنا تو اس کی کوئی اصل نہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔

قال الزرکشی کالسبکی :لایجوزان یقال لہُ صّلی اﷲ علیہ و سلم فقیر او مسکین وھو أغنی النّاس باللہ تعالیٰ لاسیما بعد قولہ تعالیٰ "ووجدکَ عائلاً فاغنیٰ"۔ وقولہُ صلّی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم "اَللّھِمَّ اَحینی مسکیناً"ارادبہٖ المسکنۃ القلبیۃ بالخشوع *والفقر فخری"باطل لااصل لہ کما قال الحافظ ابنِ حجر العسقلانی* ۔

ترجمہ: امام بدر الدین زرکشی نے امام سبکی کی طرح کہا ہے کہ یہ جائز نہیں کہ آپ کو فقیر یا مسکین کہا جائے اور آپ اللہ کے فضل سے لوگوں میں سب سے بڑھ کر غنی ہیں۔ خصوصاً ﷲ تعالیٰ کے ارشاد "ہم نے آپ کو حاجت مند پایا سو غنی کر دیا" کے نزول کے بعد۔ رہا آپ کا یہ فرمان کہ اے ﷲ مجھے مسکین زندہ رکھ۔ الخ تو اس سے مراد باطنی مسکنت کا خشوع کے ساتھ طلب کرنا ہے اور "الفقر فخری" باطل ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں جیسا کہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے فرمایا ہے۔ (الفتاویٰ الرضویہ:١٤/ ٦٢٨)

علاوہ ازیں متعدد احادیث صحیحہ مرفوعہ اس پر شاہد کہ آپ فقر ومحتاجی سے پناہ مانگتے تھے جیسا کہ *صحیحین* میں ہے:

اللّٰھم اعوذبک من فتنۃ الفقر

ترجمہ: اے اﷲ میں فقر کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (بخاری الدعواۃ، رقم ٥٨٩١ مسلم فی الذکر و الدعا رقم ٤٨٧٧)

سنن ابی داؤد میں ہے:

اللّھم انی اعوذبک من الکفر و الفقر (ابوداؤد رقم: ٥٠٩٠)

 صحیح ابن حبان میں ہے۔

تعوذوا باللہ من الفقر۔ ( ابنِ حبان رقم ٩٧٩)

ان احادیث طیبہ سے واضح ہے کہ نبی کریم علیہ السلام فقر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے پھر فقر کو آپ علیہ السلام فخر کیوں کر قرار دے سکتے ہیں.

حاصل یہ کہ "الفقر فخری" موضوع، بے اصل ہے اور رد وانکار ظاہر کیے بغیر اس کو بیان کرنا ناجائز ہے۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

"علماء تصریح فرماتے ہیں کہ حدیث موضوع کی روایت بے ذکر رد و انکار ناجائز ہے۔* وھذا ما اُخِذبہ علی الحافظین المعاصرین ابی نعیم وابن مندۃ"

(فتاوی رضویہ ج ١١ قدیم ص٢٧٦)

ایسے شخص کو ان وعیدوں سے ڈرنا چاہیے جو دانستہ جھوٹی بات نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کے بیان میں وارد ہیں۔

ً *حدیث شریف* میں ہے :

حَدَّثَنَا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَصِينٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "تَسَمَّوْا بِاسْمِي، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ”(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث ١١٠)

اور ارشاد ہے:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كفى بالمرء كذبًا أن يحدِّث بكلِّ ما سمع(مسلم، باب النَّهْىِ عَنِ الْحَدِيثِ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ‏، حدیث رقم :٧)

امام ابن جوزی اس کی شرح میں فرماتے ہیں :

قال ابن الجوزي: فيه تأويلان، أحدها: أن يروي ما يعلمه كذبًا، ولا يبينه فهو أحد الكاذبين، والثاني: أن يكون المعنى بحسب المرء أن يكذب؛ لأنَّه ليس كلُّ مسموع يصدق به، فينبغي تحديث الناس بما تحتمله عقولهم(كشف المشكل من حديث الصحيحين (١/ ٣٤٠)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ : *کمال احمد علیمی نظامی* دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

٢٤جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ /٢٨جنوری ٢٠٢٢

 *الجواب صحیح* محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

Post a Comment

0 Comments