Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

شہید راہ محبت

 شہید راہ محبت

زندگی میں مری اک ایسی گھڑی آئی ہو

سنگ در ان کا ہو اور میری جبیں سائی ہو

میری دیوانگی اک اور جہاں مانگے ہے

دشت طیبہ ہو تری یاد وہ سودائی ہو

یہ وہ نعت ہے جسے قاری ریاض الدین صاحب غفراللہ لہ نے دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کے اسٹیج پر ٢٠٢٠ میں پڑھا تھا،موقع تھا سالانہ جلسہ دستار بندی اور رسم دستار بندی مولانا انس الرحمن مصباحی( شہزادہ شفیق ملت حضرت علامہ مفتی محمد شفیق الرحمن صاحب) کا، جس وقت یہ نعت پڑھی گئی عجیب کیف وسرور اور عشق وارفتگی کا سماں بندھ گیا، مجمع ہمہ تن گوش ہو کر قاری صاحب کو سن رہا تھا، علما ومشائخ بھی محبت رسول کی پر کیف فضاؤں میں سیر کررہے تھے، یہ نعت پاک دل میں اس طرح اتر گئی کہ زندگی کا جزو لاینفک بن گئی، صبح یس شریف پھر اس نعت کو سنے بغیر دن کا آغاز نہیں ہوتا،اللہ تعالیٰ قاری صاحب کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے کہ ہر صبح میری زندگی میں عشق رسالت مآب کی ساز آپ کی آواز ہی چھیڑتی ہے.

ایک بار ممبئی باندرہ میں حضرت مولانا ابرار احمد علیمی اور عزیز القدر قاری غلام یحییٰ علیمی کی  مسجد میں قاری صاحب سے ملاقات ہوئی، خوش اخلاقی سے ملے،چہرے پر مسکراہٹ،پیشانی کشادہ،سراپا اخلاص، اللہ اللہ، کیا انداز تھا قاری صاحب کا،میں نے کہا کہ حضرت آپ کی نعت سے میری صبح ہوتی ہے، مسکرا کر بولے :میری خوش بختی ہے، میں نے ان کی آواز وانداز کی تعریف کی تو بولے سب نعت رسول علیہ السلام کا صدقہ ہے.

جمدا شاہی میں آپ دوبار تشریف لائے، اور جب بھی آئے چھا گئے، سنجیدگی سے بھرپور، تصنع سے دور، خمار عشق نبوی سے مخمور، آج کل کے بازاری شعرا سے ایک دم الگ تھے قاری صاحب، نہ داد وتحسين کی پروا، نہ نذر ونیاز کی طلب، نہ جمانے کا جنون، بس محبت رسول میں کھوکر پڑھتے تو سننے والے بھی کھو جاتے.

اچھے لوگ بڑی کم عمر لے کر آتے ہیں، ان کا رب زیادہ دنوں تک انہیں اپنے جوار رحمت سے دور نہیں رکھتا، وہ جلد ہی رخت سفر باندھ کر چلے جاتے ہیں، آتے ہیں تو ہنستے ہوئے، جاتے ہیں تو رلاتے ہوئے.

ایسے لوگ ہماری زندگی میں رچ بس جاتے ہیں،یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں، ان کا ذکر مشام جاں کو معطر اور گلستان حیات کو معنبر کرتا ہے.

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا 

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے 

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی 

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا 

اللہ تعالیٰ قاری صاحب کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.

 *کمال احمد* علیمی نظامی

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

Post a Comment

1 Comments

اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں