Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

امام اہل سنت کا ایک قابل تقلید عمل

 

امام اہل سنت کا ایک قابل تقلید عمل

اہل سنت کے عقائد ونظریات کے فروغ میں صحافت نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے، امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے زمانے میں امرتسر پنجاب سے نکلنے والے ہفت روزہ "الفقیہ" کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے، اس ہفت روزہ کی بارہ کاپیاں اعلی حضرت نے ٣٦ روپے دے کر خود اپنے اہل خانہ کے لئے جاری کروائی تھی،اور ایک مکتوب لکھ کر اس کے مدیر کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی تھی، مکتوب ملاحظہ فرمائیں :

*بسم الله الرحمن الرحيم۔* *نحمده ونصلى على رسوله الكريم* .

 مولانا المکرم اکرمکم

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ 

اخبار روز شنبه دو پہر کو آیا۔ کل یک شنبہ کو جواب لکھا۔ اتوار کو ڈاک صبح ایک ہی وقت جاتی ہے؛ لہذا آج مرسل آپ کے عنایت نامہ دوبارہ امداد الفقیہ تشریف لاۓ ۔ سچ گزارش کروں اول تو یہ خیال رہا کہ آج کل بہت لوگ صرف غیر مقلدوں کو وہابی اور ہر مقلد کو سنی جانتے ہیں حالانکہ دیو بندی مدعیان تقلیدان سے اضل سبیل ہیں ۔ اب بعض وجوہ نے بحمدہ تعالی اطمینان دلایا ہے کہ الفقیہ پوراسنی ہے ؛ لہذا کل اپنے گھر ہی سے میں نے ابتدا کی ۔ بفضلہ تعالی قادری گھر سے بارہ امدادوں کے چھتیس روپے حاضر کرتا ہوں ۔ امید ہے کہ اخبار ہمیشہ حسام الحرمین وفتاوی الحرمین کے مطابق سنی رہے ۔ مولانا! فقیر انتہا درجے کا عدیم الفرصت ہے ۔ ان شاء اللہ تعالی بعض احباب امداد مضامین بھی کرتے رہیں گے-


فقیرمحمد احمد رضاخان، یکم ذی الحجہ ١٣٣٦ھ

(تذکرہ مشاہیر فقیہ، ص:٩)


امام اہل سنت نے یہ سب صرف اس لئے کیا کہ اہل سنت و جماعت کے عقائد ونظریات میں یہ ہفت روزہ نہایت اہم کردار ادا کر رہا تھا، ایک عدد جریدے سے بھی کام چل جاتا مگر امام نے ایک درجن کاپیاں اس لیے جاری کروائیں تاکہ مالی طور سے اس ہفت روزہ کا تعاون ہوسکے اور زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت بھی ہوسکے.

امام اہل سنت کا یہ عمل ہمارے لیے لائق تقلید ہے،آج ہم دیگر مصارف میں بے دریغ پیسہ خرچ کرتے ہیں مگر بات جب کسی صحافتی آرگن کی آتی ہے جو کسی نہ کسی طرح سے ہمارے جماعتی کاز کے لئے مفید ہی ہوتا ہے تو ہماری جیبیں تنگ پڑ جاتی ہیں، جن جلسوں کانفرنسوں پر ہم لاکھوں خرچ کرتے ہیں بات جب ان کی تشہیر یا رپورٹنگ کی آتی ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ فی سبیل اللہ ہی ہوجاتا تو بہتر تھا، ہماری یہی سوچ ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتی، ہم اپنی ترجیحات سے بےخبر ہیں،یہی چیز ہمیں پستی کی طرف لے جارہی ہے.

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صحافت کے باب میں امام اہل سنت کی روش پر چلتے ہوئے ہر اس اخبار، ہفت روزہ اور ماہنامہ وغیرہ کا قلمی تعاون کے ساتھ مالی تعاون بھی کریں جو ہمیں عزت ووقار کے ساتھ اپنے صفحات پر جگہ دیتا ہو.


کمال احمد علیمی نظامی

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

Post a Comment

0 Comments