السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں
کہ آج کل کچھ لوگ اجمیر شریف کے سادات کرام(خدام سرکار غریب نواز رحمۃ اللّٰہ علیہ) کے بارے میں غلط افواہیں یوٹیوب وغیرہ پر اڑا رہے ہیں کہ وہ سب سید نہیں ہیں بلکہ تمام شیعہ اور رافضی ہیں
جبکہ اجمیر شریف کے سادات کرام (خدام حضرات)کے خاندانوں میں ہر دور میں علماءکرام کی ایک فہرست رہی ہے
اور کبھی بھی انکی سیادت پر نہ کسی نے کچھ کہااورنہ لکھا۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ
جولوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں انکے لیئے شریعت کا کیا حکم ہے؟
قرآن وحدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں
مہربانی ہوگی۔
بینوا توجروا۔
المستفتی۔سید عبد الرحمٰن چشتی جامعی علیمی
اجمیر شریف راجستھان (ہند)
*الجواب* بعون الھادی الی الحق والصواب
جو شخص سید ہونے کا دعویٰ کرے یا جس کی سیادت عندالناس مشہور ومعلوم اور ہمیں اس کے خلاف کی تحقیق نہ ہو ہمارے اوپر بوجہ سیادت اس کی تعظیم لازِم ہے، سید ہونے کی سند مانگنا، نہ دکھانے پر برا بھلا کہنا، شوشل میڈیا پر ان کے خلاف غلط افواہیں پھیلانا قطعا جائز نہیں.
*قرآن مجید* میں ہے :
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا (الاحزاب :٥٨)
*تفسير ابن کثیر* میں اسی آیت کے تحت ہے:
وقوله : ( والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا ) أي : ينسبون إليهم ما هم برآء منه لم يعملوه ولم يفعلوه ، ( فقد احتملوا بهتانا وإثما مبينا ) وهذا هو البهت البين أن يحكى أو ينقل عن المؤمنين والمؤمنات ما لم يفعلوه ، على سبيل العيب والتنقص لهم.
*حديث شريف* میں ہے:
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو معاوية . ح وحدثنا ابن نمير واللفظ له، حدثنا ابي ، ومحمد بن عبيد كلهم، عن الاعمش ، عن ابي صالح ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اثنتان في الناس هما بهم كفر، الطعن في النسب، والنياحة على الميت ".(مسلم حدیث نمبر :٢٢٧)
*فتاوی رضویہ* میں امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :
" *فقیر بارہا فتوی دے چکا ہے کہ کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیں، جو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گے، ہمیں تحقیقات کی حاجت نہیں، نہ سیادت کی سند مانگنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور خواہی نخواہی سند دکھانے پر مجبور کرنا اور نہ دکھائیں تو براکہنا، مطعون کرنا ہرگز جائز نہیں، "الناس أمناء علی انسابھم" ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہے کہ یہ سید نہیں اور وہ سید بنے اس کی ہم تعظیم نہ کریں گے، نہ اسے سید کہیں گے اور مناسب ہوگا کہ ناواقفوں کو اس کے فریب سے مطلع کردیا جائے، میرے خیال میں ایک حکایت ہے جس پر میرا عمل ہے، کہ ایک شخص کسی سید سے الجھا، انہوں نے فرمایا :میں سید ہوں، کہا کیا سند ہے تمھارے سید ہونے کی، رات کو زیارت اقدس سے مشرف ہوا کہ معرکہ حشر ہے، یہ شفاعت خواہ ہوا، اعراض فرمایا، اس نے عرض کی :میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہوں، فرمایا کیا سند ہے تیرے امتی ہونے کی؟* (فتاوی رضویہ، ٢٩/ ٥٨٧-٥٨٨)
اسی طرح سے بلا دلیل کسی کو رافضی یا شیعہ قرار دینا بھی جائز نہیں.
*حدیث شریف* میں ہے :
أَيُّما رَجُلٍ قالَ لأخِيهِ: يا كافِرُ، فقَدْ باءَ بها أحَدُهُما.(صحیح بخاری حدیث نمبر ٦١٠٤)
ہاں اگر کسی سید کی گمرہی اور بدمذہبی حد کفر تک پہنچ جائے اور اس کا یقینی علم ہوجائے تو اس کی تعظیم نہیں کی جائے گی.
*فتاوی رضویہ* میں ہے :
"ساداتِ کرام کی تعظیم ہمیشہ (کی جائے گی )جب تک ان کی بدمذہبی حدِّ کفر کو نہ پَہُنچے کہ اس کے بعد وہ سیِّد ہی نہیں،نسب مُنْقَطَع ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَل قرآنِ پاک میں اِرشاد فرماتا ہے : قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ۔ (پارہ نمبر ۱۲،سورہ ھُود:۴۶)
ترجَمہ : فرمایا اے نوح (علیہ السّلام) وہ (یعنی تیرابیٹا کنعان) تیرے گھر والوں میں نہیں بے شک اس کے کام بڑے نالائق ہیں ۔ بدمذہب جن کی بد مذہبی حدِّ کفر کو پَہُنچ جائے اگرچہ سیِّد مشہور ہوں نہ سیِّد ہیں ، نہ اِن کی تعظیم حلال بلکہ توہین و تکفیر فرض ۔ (فتاویٰ رضویہ،٢٢/٤٢١)
"اسی میں دوسری جگہ پر ہے :
ایسا بدمذھب گستاخ جس کی گستاخی حد کفر کو پہنچ چکی ہو ، یا ضروریات دین کا منکر ہو وہ کافر ہے ، اورایسا بد مذھب کہ کفریہ عقائد خود نہیں رکھتا مگر ایسے کفریہ و گستاخانہ عقائد والوں کو اپنا امام یا پیشوا بتاتا ہے یا انہیں مسلمان گردانتا ہے تو وہ بھی یقینا اجماعا کافر ہے ، کیونکہ جس طرح ضروریات دین کا انکار کفر ہے اسی طرح ان کے منکر کو کافر نہ جاننابھی کفر ہے ، وجیز امام کردری و در مختار و شفائے امام قاضی عیاض (علیہم الرّحمہ) و غیرہ میں ہے ۔ اللفظ للشفاء مختصرا اجمع العلماء ان من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر" ۔
ترجمہ : شفا کے الفاظ اختصارا یہ ہیں ،علماء کا اجماع ہے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے (فتاوی رضویہ اا/۳۷۸)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ *کمال احمد* علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
١٢ جمادی الاخری ١٤٤٣/ ١٧ جنوری ٢٠٢٢

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں