Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

قیامی صاحب

 مختصر سی عمر میں جن باکمال شخصیات سے متاثر ہوا اور جن کے حال وقال نے میری حیات مستعار میں انقلاب برپا کیا ان میں استاذ مکرم حضرت علامہ محمد تفسیر القادری قیامی صاحب دامت برکاتھم کی ذات بھی ہے.

سادگی و سنجیدگی کا پیکر جمیل،تحمل و بردباری کا پتلہ نور،زیرکی ودانائی سے معمور، صفاے ظاہر وباطن سے مصفی،جلوہ علم وعمل سے مجلی،پیشانی پر سجدوں کی چمک، چہرے پر عبادت وریاضت کی دمک، ہالہ نور سے گھرا ہوا وجود،اوصاف حمیدہ سے متصف ذات مسعود، یہ ایک تصوراتی تصویر ہے اس ہستی پاک کی جس کے ذکر خیر مشام جاں معطر ہے.

دل کے آئینے میں ہے تصویر یار 

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی


حضرت قیامی صاحب قبلہ کی سادگی ہی ان کی شان امتیاز ہے، مگر اس سادگی میں بلا کی کشش ہے ، جو ملتا ہے مرمٹتا ہے، ہمیشہ کے لئے آپ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوجاتا ہے. 


ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے

ان کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے


آپ کی خاموشی میں دریا کا شور پایا جاتا ہے ، آپ کی گفتار سے علم وحکمت کی خوشبو پھوٹتی ہے اور آپ کے کردار میں اسلاف کی روش کی عطربیزی پائی جاتی ہے.

آپ کا ایک وصف خاص آپ کی سلیقہ مندی اور بااصول زندگی بھی ہے،ہر قدم ناپ تول کر اٹھاتے ہیں، ہر بات سوچ سمجھ کر بولتے ہیں اور ہرکام حزم و احتیاط سے انجام دیتے ہیں، اصول کے پکے ہیں، کبھی اصول سے سمجھوتا نہیں فرماتے ہیں، زندگی کی صبح وشام، حیات کا ہر لمحہ منظم ہوتا ہے.

ایک لمبے عرصے تک دارالعلوم علیمیہ جیسے ادارے کے کارگزار پرنسپل رہے، مگر آپ اس عہدے کی خاردار وادی سے صاف بچ کر نکل گئے، کسی کو انگشت نمائی کا موقع نہیں ملا، منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی پر ذرہ بھر ظلم وزیادتی کو روا نہ رکھا، انصاف کے ترازو کے ساتھ اس عہدے کو خوب نباہا.

ایک استاذ کی حیثیت سے طلبہ کے لئے ریشم سے زیادہ نرم رہتے، ان کے سکھ دکھ کا خیال رکھتے اور ہر موقع پر ان کی اشک سوئی کرتے، دور طالب علمی میں مجھ کو کئی بار پیسے کی ضرورت پڑی، حضرت سے مانگا، طلب سے سوا دیا، واپس دیا تو لے لیا، کبھی تقاضا نہیں فرمایا.

مجھ پر حد درجہ شفقت فرماتے، "نصاب فارسی نظم" کی گھنٹی تھی، میں سبق سنا رہا تھا، حضرت سن رہے تھے، مسکرا کے پوچھا کہاں کے ہو، عرض کیا بلرام پور، فرمایا بلرام پور والے کب سے پڑھنے لگے.


یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی 

یوں لب کشا ہوئے گلستاں بنا دیا

 

آپ کے اخلاص کا جواب نہیں، جب بھی کسی نے دعوت دی بلا تام جھام کے پہنچے، نہ سواری کا انتظار، نہ ہار و پھول کی للک، بس جیسے بن پڑا داعی کے یہاں پہنچ گئے، کتنے پروگرام میں ساتھ رہا ، کبھی بھی میں نے آپ کے اندر لالچ نام کی چیز نہیں دیکھی، مل گیا تو لے لیا، نہ ملا تو صبر کیا.

جمدا شاہی اور اطراف میں آپ کی تبلیغی خدمات کے نقوش آج بھی ملتے ہیں، جہاں جائیے بڑے بزرگ بس آپ ہی کو پوچھتے ہیں، کہتے ہیں قیامی صاحب ہمارے یہاں آیا کرتے تھے، بہت اچھے انسان ہیں. 

باتیں بہت ہیں، پھر کبھی ان شاء اللہ، میں مبارک باد پیش کرتا ہوں محب مکرم حضرت مولانا توحید احمد علیمی جمداشاہی کی خدمت میں جنھوں اس عبقری الشان ذات کی خدمت میں بہترین خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے آپ کی حیات وخدمات پر زیر نظر کتاب لکھ کر ہم سب کا قرض اتارا ہے،مولانا موصوف نے کم عمری میں کافی کمال پیدا کیا،تحقیقی مزاج کے حامل اچھے مصنف ومحقق ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور اجر عظیم عطا فرمائے.

 *کمال احمد علیمی نظامی* 

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

٦رجب ١٤٤٣/ ٨فروری ٢٠٢٢

Post a Comment

0 Comments