*آن لائن علیمی دارالافتا گروپ*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
*مسئلہ نمبر 227*
*سنی صحیح العقیدہ کے لئے ایصال ثواب کا حکم*
السلام علیکم حضرتِ مفتی صاحب
بعد سلام عرض یہ ہےکہ زید پہلے دیوبندی تھا، بعدمیں اس نے توبہ کہ اور اب سنی صحیح العقیدہ ہے،
اب مسلہ یہ ہےکہ کچھ عرصہ قبل زیدکےبھائ بکر کاانتقال ہوجس کی نمازجنازہ بکرکےلڑکےنےپڑھائ جو دیوبندی ہے اور ابھی وہ دارالعلوم دیوبند میں پڑھ رہا ہے،
بکر جس کاانتقال ہوا وہ فاتحہ وغیرہ کرتاتھا، بزرگوں کےمزارات پہ بھی حاضری دیتا تھا، اورنماز کبھی سنی مسجد میں تو کبھی دیوبندیوں کےاقتدامیں ادا کرتا تھا،
اب زیدکاکہناہےکہ بیرونی تھااس لے میں اس کادسواچالسواں وغیرہ کی فاتحہ سنی عالم سےگراون گا،
تو کیا ایک سنی عالم بکر کےلے ایصال ثواب فاتحہ کرسکتاہے؟
اور یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر سنی عالم نےفاتخہ کرنے سے منع کیا توزیددیوبندیوں کی طرف جاسکتا ہے،
نوٹ کچھ دنوں پہلے یہاں ایک مسجدکی بنیادرکھی گئی تھی جس کانامسجداعلی حضرت ہےبکراس بھی شریک تھا۔
اب اس صورت میں سنی عالم فاتحہ پڑھے یانہ پڑھے جواب عنایت فرمائں کرم ہوگا۔
فقط والسلام
اپ کا خادم محمدانوررضاخاں ازہری
امام مسجد اعلی حضرت وزارت ضلع تام گجرات
*الجواب* بعون الملک الوھاب
اگر واقعی بکر سنی صحیح العقیدہ تھا جیسا کہ سوال میں مذکور علامتوں(مزارات پر حاضری، فاتحہ، اور مسجد اعلی حضرت کی تاسیس میں حصہ لینا) سے ظاہر ہے اور مستفتی سے استفسار سے پتہ چلا کہ بکر نے اپنی قابل اعتراض حرکتوں (دیوبندیوں کی اقتدا میں نماز پڑھنے اور لڑکے کو دیوبند میں پڑھانے) سے توبہ بھی کرلی تھی تو اس کی نماز جنازہ پڑھنا، اس کا تیجہ چالیسواں کرنا اور اس کے حق میں ایصال ثواب کرنا کرانا سب جائز بلکہ مستحسن ہے.
*قرآن مجید* میں ہے:
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠(سورۃ محمد:۱۹)
ترجمہ:
تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اے حبیب!اپنے خاص غلاموں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو اور (اے لوگو!)اللہ دن کے وقت تمہارے پھرنے اور رات کو تمہارے آرام کرنے کو جانتا ہے۔
*عقیدہ طحاویہ* میں ہے:
"نری الصلوۃ خلف کل بر وفاجر وعلی من مات منھم"( العقیدۃ الطحاویۃ ص ١٠٢مکتبہ بلال دیوبند)
اسی میں ہے :
"وفی دعاءالاحیاء وصدقتھم منفعۃ للاموات" (ص ١٣٣)
*شرح عقائد نسفی* میں ہے:
"اجماع الامۃ من عصر النبی علیہ السلام الی یومنا ھذا بالصلوۃ علی من مات من اھل القبلۃ من غیر توبۃ والدعاء والاستغفار لھم مع العلم بارتکابھم الکبائر بعد الاتفاق علی ان ذالک لا یجوز لغیرالمومن "
(ص ١١٨ ،مجلس برکات مبارک پور)
*حاصل یہ کہ بکر اگر سنی صحیح العقیدہ، مسلک اعلی حضرت کا پابند، فتوی حسام الحرمین کا تصدیق کرنے والا تھا تو سنی عالم کا بکر کے لئے ایصال ثواب کرنا جائز ہے*
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ : *کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
١٥ رجب ١٤٤٣/ ١٧فروری ٢٠٢٢
*الجواب صحیح* محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ سے جڑنے کے لیے وہاٹشپ نمبر پر میسج کریں۔
مولانا عبد الجبار علیمی
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ
+918795979383

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں