Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

شبینہ کا حکم

 *آن لائن علیمی دارالافتا گروپ* 

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی


 *مسئلہ نمبر 221* 

*شبینہ پڑھنے کا حکم* 


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ 

مفتی صاحب کی بارگاہ میں *سوال عرض ہےکہ شبینہ پڑھنا کیسا؟*

 یعنی کچھ حفاظ کرام مل کے مثال کے طور پر 5 یا 6 حافظ مل کے ایک رات میں مکمل قرآن پاک پڑھتے ہیں تو اس بارے میں رہنمائی عطا فرما دیں *ایک رات میں مکمل قرآن پاک پڑھنا کیسا؟*

 *اور وہ بھی لاؤڈسپیکر پہ* حضور جب یہ شبینا یعنی قرآن پاک رات کو پڑھا جاتا ہےسپیکر پہ تو جس گھر میں پڑھا جا رہا ہو اس کے آس پاس دور دراز تک اس کی آواز جاتی ہے قرآن پاک کی تو کرم فرما کے اس بارے میں رہنمائی عطا فرما دیں *اس طرح شبینہ مسجد میں یا گھر میں رات کو لاؤڈ سپیکر میں   قرآن پاک اس طرح پڑھنا کیسا* کرم حضور اس کے بارے میں *کثیر حوالہ جات کے ساتھ* رہنمائی عطا فرما دیں تحریری طور پر

 اللہ عزوجل آپ کے علم و عمل میں مزید خیر و برکت عطا فرمائے

*جزاک اللہ خیرا*

*خیرخواہِ اہلسنت*

 *الجواب* بعون الملک الوھاب

شرعی اعتبار سے ختم قرآن کی اقل مدت تین دن ہے، مگر ایک شب میں ختم قرآن یعنی شبینہ بھی ممنوع نہیں، ایک شب میں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھنے کا جواز کتاب وسنت سے اور پورے ختمِ قرآن کا جواز ارشادات و اعمال اسلاف سے ثابت ہے. 

 *قرآن مجید* میں ہے :

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱)قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲)نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ(۳)اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ(۴)(سورۃ المزمل) 

ترجمہ:اے چادر اوڑھنے والے۔ رات کے تھوڑے سے حصے کے سوا قیام کرو۔آدھی رات (قیام کرو) یا اس سے کچھ کم کرلو۔یا اس پر کچھ اضافہ کرلو اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔

بنی کریم علیہ السلام سے راتوں میں طویل قیام ثابت ہے. 

 *حدیث شریف* میں ہے :

قَامَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ حتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فقِيلَ له: غَفَرَ اللَّهُ لكَ ما تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وما تَأَخَّرَ، قالَ: أفلا أكُونُ عَبْدًا شَكُورًا(بخاری، کتاب التفسیر، ج ٢ ص ٢١٧)


 *دوسری حدیث* میں ہے:

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً نَحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلاً وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهْوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ الخ (بخاری، ابواب الکسوف، ج ١ ص ١٤٣،قدیمی کتب خانہ کراچی )

صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ تعالٰی عنھم سے ایک رکعت میں بھی ختم قرآن مجید ثابت ہے، چنانچہ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں مروی ہے:

 *قال كان تميم الداري يحيى الليل كلہ بالقرآن كله في ركعة.** (شرح معانی الآثار ،باب جمع السور فی رکعۃ، ج اول، ص ٣٤٨،دارالکتب العلمیۃ بیروت) 

ترجمه: فرماتے ہیں کہ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ تمام رات جاگتے تھے اور ایک رکعت میں سارا قرآن شریف پڑھتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ روایت آئی ہے:

 *عن عبداللہ بن زبیر انہ قرا القرآن فی رکعۃ.* (مرجع سابق) 

حضرت سعید بن جبیر کے بارے میں آیا ہے :

 *عن سعید بن جبیر انہ قرا القرآن فی رکعۃ فی البیت.* (مرجع سابق) 

حضرت اسود ہر دو رات میں ایک ختم قرآن فرماتے تھے :

 *کان الاسود یقرالقرآن کل ست لیال و کان علقمۃ فی کل خمس لیال وکان الاسودیختم فی کل لیلتین*(شعب الایمان باب فی تعظیم القرآن، ج ٢ ص ٣٩٩،دارالکتب العلمیۃ بیروت )

 *فتاویٰ رضویہ* میں ہے:

علماء(نے) بنظر منع کسل وملال اقل مدت ختم قرآن عظیم تین دن مقرر فرمائی، مگر اہل قدرت ونشاط بہرعبادت کو ایک شب میں ختم کی بھی ممانعت نہیں، بہت اکابردین سے منقول ہے

*کمابسطه المولی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی فی الحدیقة الندیة وغیرہ فی غیرھا۔*

جیسا کہ اس پرتفصیل بحث علامہ عبد الغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں کی ہے۔خود امام اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے دو رکعت میں قرآن شریف ختم کیا کما فی الدر المختار(جیسا کہ درمختارمیں ہے۔) نفل غیرتراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تواجازت ہے ہی چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہ جس کا حاصل خلاف اولٰی ہے نہ کہ گناہ حرام کما بیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاوٰی میں دی ہے۔) مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابردین سے جماعت نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعل خیر سے منع نہ کئے جائیں گے علمائے امت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے،درمختارمیں ہے :

*اما العوام فلایمنعون من تکبیر* *والتنفل اصلا لقلة رغبتهم فی الخیرات بحر۔*

عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیاجائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے، بحر۔اُسی میں ہے:

*ولایمنع العامة من التکبیر فی الاسواق فی الایام العشروبه ناخذ بحر ومجتبی  وغیرہ۔*

عوام کو ان (ذوالحج کے) دس دنوں میں بازار میں تکبیرات پڑھنے سے منع نہ کیاجائے، اسی پر ہماراعمل ہے، *بحر، مجتبٰی وغیرہ۔ حدیقہ ندیہ میں ہے:ومن ھذا القبیل نھی الناس عن صلٰوۃ الرغائب بالجماعة وصلٰوۃ لیلة القدر ونحو ذلک وان صرح العلماء بالکراھة بالجماعة فیھا فلایفتی بذلک العوام لئلا تقل رغبتھم فی الخیرات وقد اختلف العلماء فی ذلک فصنف فی جوازھا جماعة من المتاخرین وابقاء العوام راغبین فی الصلٰوۃ اولٰی من تنفیرھم۔*

اسی قبیل سے نماز رغائب کاجماعت کے ساتھ اداکرنا اور لیلۃ القدر کے موقع پر نمازوغیرہ بھی ہیں اگرچہ علماء نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے مگرعوام میں یہ فتوٰی نہ دیاجائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو، علمانے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جواز پر لکھا بھی ہے، عوام کو نماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔

(فتاویٰ رضویہ شریف ٧/ ٤٦٥-٤٦٦، رضا فاونڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور )


 *بہار شریعت* میں ہے:

فائدہ:  ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ رمضان شریف میں  اکسٹھ ختم کیا کرتے تھے۔ تیس ۳۰ دن میں  اور تیس رات میں  اور ایک تراویح میں  اور پینتالیس برس عشا کے وضو سے نماز فجر پڑھی ہے۔(ج اول ح چہارم ص ٦٩٥ )

 *جاء الحق* میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں:

ہمیشہ سے صالح مسلمانوں کا دستور ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں شبینہ کرتے ہیں، کبھی ایک رات میں، کبھی دو رات میں، کبھی تین راتوں میں پورا قرآن شریف ختم کرتے ہیں، بعض بزرگوں سے منقول ہے کہ رمضان کے علاوہ بھی روزانہ ایک قرآن شریف پڑھ لیتے تھے، بشرطے کہ اتنی جلدی نہ پڑھے کہ حروف قرآن درست ادا نہ ہوں، نہ سستی اور کسل سے پڑھے. 

(جاء الحق ح دوم ص ٤٥٥)


ہاں شبینہ میں اس بات کا ضرور لحاظ رکھا جائے کہ قاری قرآن آداب واصول قراءت کی رعایت کرتے ہوئے تلاوت کرے اور لوگ دلچسپی کے ساتھ قرآن مجید کی سماعت کریں،جیسا کہ *بہار شریعت* میں ہے:

 شبینہ کہ ایک رات کی تراویح میں  پورا قرآن پڑھا جاتا ہے، جس طرح آج کل رواج ہے کہ کوئی بیٹھا باتیں  کر رہا ہے، کچھ لوگ لیٹے ہیں ، کچھ لوگ چائے پینے میں  مشغول ہیں ، کچھ لوگ مسجد کے باہرحقہ نوشی کر رہے ہیں  اور جب جی میں  آیا ایک آدھ رکعت میں  شامل بھی ہوگئے یہ ناجائز ہے۔(ج اول ح چہارم ص ٦٩٥، قرآن مجید پڑھنے کا بیان، مجلس المدینۃ العلمیۃ )


رہی بات لاوڈاسپیکر پر شبینہ پڑھنے کی تو اولا تو بلا ضرورت لاوڈاسپیکر پر نماز پڑھانے سے احتراز کرنا چاہیے، اور اگر لاؤڈ-اسپیکر کا استعمال کیا جائے تو ضرورت بھر آواز رکھی جائے،تاکہ بلند آواز سے کسی کو ایذا نہ پہنچے.

        

 *مرقاة المفاتيح* شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

قال الطيبي جاء آثار بفضيلة الجهر بالقرآن وآثار بفضيلة الاسرار به والجمع بأن يقال الإسرار أفضل لمن يخاف الرياء والجهر أفضل لمن لا يخافه بشرط أن لا يؤذي غيره من مصل أو نائم أو غيرهما( مرقاۃ المفاتيح ،کتاب فضائل القرآن، ج ٥ ص ٨٢،دارالکتب العلمیۃ بیروت )

 

 *بہار شریعت* میں ہے:

صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "حاجت سے زیادہ اس قدر بلند آواز سے پڑھنا کہ اپنے یا دوسرے کے لیے باعثِ تکلیف ہو، مکروہ ہے”

(بہار شریعت ج اول، ح سوم ،قرآن مجید پڑھنے کا بیان، ص ٥٤٤)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ : *کمال احمد علیمی نظامی* 

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

١٢ رجب ١٤٤٣/ ١٤ فروری ٢٠٢٢


*الجواب صحیح* محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

Post a Comment

0 Comments