Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

دفینے کا حکم

*دفینے کے احکام* 


السلام و علیکم  

 کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین  اس مسئلہ کے بارے میں ۔ *دفینہ کا شریعت میں کیا حکم ہے۔* قرآن و حدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں  مفصل و مدلل جواب عنایت فرمایں۔ مہربانی ہوگی ۔   

  *المستفتی* سید عبد الرحمان چشتی علیمی


 *الجواب بعون الملک الوھاب* 

 دفینہ سے مراد وہ مال ہے جو زمین کے اندرکسی نے دفن کر رکھا ہو۔ عربی میں اس معنی کی ادائیگی کے لیے "رکاز" آتا ہے، لیکن رکاز عام ہے، کیوں کہ  وہ معدنیات اور مدفون اشیاء دونوں کو شامل ہے۔ . 

 *التعريفات* میں حضرت میر سید شریف جرجانی فرماتے ہیں :

الرِکاز ھوالمال المرکوز فی الارض محفوظا کان او موضوعا (التعريفات للجرجانی :١٤٩)

دفینہ بنیادی طور سے تین طرح کا ہوتا ہے :

١-وہ دفینہ جس میں اسلامی نشانی ہو۔

٢-وہ دفینہ جس میں کفر کی علامت ہو۔

٣-مشتبہ۔

ان میں سے ہر ایک کا تفصیلی حکم درج ذیل ہے :

 *پہلی قسم* یعنی: وہ مال جس  پر کوئی اسلامی نقش ہو جیسے کہ اس پر کلمہ شہادت، درود پاک، کلمہ جلالت، اسم رسالت یا کسی مسلمان بادشاہ کا نام لکھا ہو، یا کسی مسجد وغیرہ کا نقش موجود ہو، جس سے یہ سمجھا جائے کہ یہ کسی مسلمان کا مال ہے۔

اس طرح کا مال لقطہ کے حکم میں ہوگا، پانے والا مسجدوں، بازاروں اور عوامی جگہوں پر اتنے دنوں تک اعلان کرے گا کہ ظن غالب ہوجائے کہ اب اس کی تلاش کرنے والا نہیں ملے گا، پھر اس کو مساکین کو دے دے اور خود ہی مسکین ہو تو اپنے صرف میں لاسکتا ہے۔

 *دوسری قسم* یعنی وہ مال جس پر کفر وشرک کی کوئی علامت ہو، مثلاً اس پر کافر بادشاہوں کے نام، ان کی تصویر، صلیب کا نشان، بتوں کی تصویر، کلیسا، مندر یا ان کے کسی عبادت گاہ سے متعلق کوئی نقش موجود ہو یا کوئی بھی ایسی علامت ہو جس سے پتہ چلے کہ یہ دفینہ کسی مسلمان کا نہیں ہے تو ایسا دفینہ مال غنیمت کے حکم میں ہے، اس میں سے خمس (یعنی: پانچوں حصہ)فقراء کو دیدے، باقی پانے والے کا ہے اور اگر خود فقیر ہے اور ہانچویں حصہ کے علاوہ چاروں حصے نصاب کی مقدار نہیں ہے تو وہ خمس بھی خود استعمال کرسکتا ہت۔اور اگر ، خواہ اپنی زمین میں پائے یا غیر کی یا مباح زمین میں.

 *مشتبہ دفینہ*

ایسا دفینہ جس پر نہ اسلامی علامت ہے نہ کفر کی تو زمانہ کفر کا مانا جائے گا،یعنی وہ مال غنیمت شمار کیا جائے گا، خمس نکال کر باقی چار حصے دفینہ پانے والے کا ہے.

یہ تفصیل اس دفینے کے بارے میں ہے جو دارالاسلام میں ملا، دارالحرب میں ملنے والے دفینے کا حکم یہ ہے کہ مسلمان اگر امان لے کر دارالحرب میں گیا اور وہاں اس کو کسی کی مملوک زمین سے دفینہ ملا تو اس کو واپس کردے، واپس نہ کیا بلکہ دارالاسلام لے آیا تو یہی مالک ہے مگر ملک خبیث ہے، صدقہ کردے، اور بیچ دیا تو بیع صحیح ہے مگر خریدار کے لئے بھی خبیث ہے.

اور اگر مسلمان امان لے کر نہیں گیا تھا تو یہ مال اس کے لیے حلال ہے، نہ تو زمین والے کو واپس کرے گا نہ خمس نکالے گا.

صحرائے دارالحرب میں ملنے والا دفینہ کل کا کل پانے والے کا ہے اس میں خمس نہیں.

مذکورہ بالا تفصیلات سے دفینے کا حکم واضح ہوچکا اب دلائل ملاحظہ ہوں:

 *قرآن مجید* میں ہے :

وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ.

(الأنفال:٤١)

اور جان لو کہ جو کچھ مالِ غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول (ﷺ) کے لیے اور (رسول ﷺ کے) قرابت داروں کے لیے (ہے) اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہے۔

 *حدیث شریف* میں ہے :

الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّکَازِ الْخُمُسُ.

(بخاری، الصحیح، کتاب الزکاة، باب فی الرِکاز الخمس، رقم: ١٤٢٨)

 *بدائع الصنائع* میں ہے:

أما الكنز فلا يخلو إما أن وجد في دار الإسلام، أو دار الحرب، وكل ذلك لا يخلو إما أن يكون في أرض مملوكة، أو في أرض غير مملوكة، ولا يخلو إما أن يكون به علامة الإسلام كالمصحف والدراهم المكتوب عليها لا إله إلا الله محمد رسول الله، أو غير ذلك من علامات الإسلام، أو علامات الجاهلية من الدراهم المنقوش عليها الصنم، أو الصليب ونحو ذلك، أو لا علامة به أصلا فإن وجد في دار الإسلام في أرض غير مملوكة كالجبال والمفاوز وغيرها فإن كان به علامة الإسلام فهو بمنزلة اللقطة يصنع به ما يصنع باللقطة يعرف ذلك في كتاب اللقطة؛ لأنه إذا كان به علامة الإسلام كان مال المسلمين ومال المسلمين لا يغنم إلا أنه مال لا يعرف مالكه فيكون بمنزلة اللقطة، وإن كان به علامة الجاهلية ففيه الخمس وأربعة أخماسه للواجد بلا خلاف كالمعدن على ما بين، وإن لم يكن به علامة الإسلام ولا علامة الجاهلية فقد قيل إن في زماننا يكون حكمه حكم اللقطة أيضا ولا يكون له حكم الغنيمة؛ لأن عهد الإسلام قد طال فالظاهر أنه لا يكون من مال الكفرة بل من مال المسلمين لم يعرف مالكه فيعطى له حكم اللقطة، وقيل حكمه حكم الغنيمة؛ لأن الكنوز غالبا بوضع الكفرة وإن كان به علامة الجاهلية يجب فيه الخمس؛ لما روي أنه «سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكنز فقال: فيه وفي الركاز الخمس» ، ولأنه في معنى الغنيمة؛ لأنه استولى عليه على طريق القهر وهو على حكم ملك الكفرة فكان غنيمة فيجب فيه الخمس وأربعة أخماسه للواجد؛ لأنه أخذه بقوة نفسه وسواء كان الواجد حرا، أو عبدا مسلما، أو ذميا كبيرا، أو صغيرا؛ لأن ما روينا من الحديث لا يفصل بين واجد وواجد ولأن هذا المال بمنزلة الغنيمة. ۔۔۔  وإن وجد في أرض مملوكة يجب فيه الخمس بلا خلاف لما روينا من الحديث ولأنه مال الكفرة استولى عليه على طريق القهر فيخمس. واختلف في الأربعة الأخماس قال أبو حنيفة ومحمد رحمهما الله: هي لصاحب الخطة إن كان حيا وإن كان ميتا فلورثته إن عرفوا، وإن كان لا يعرف صاحب الخطة ولا ورثته تكون لأقصى مالك للأرض، أو لورثته، وقال أبو يوسف: أربعة أخماسه للواجد.


(بدائع الصنائع  (٢/ ٦٥)  کتاب الزکوٰۃ، فصل حکم المستخرج من الارض)


 *المحیط البرہانی* میں ہے:

وإن وجده في دار مملوكة له، وفيه علامات الشرك، أو لم يكن فيه، الخمس وأربعة أخماسه للمختط له عند أبي حنيفة، ومحمد، وهو الذي اختطه الإمام حين فتح أهل الإسلام تلك البلدة إن كان فيئا، ولا شيء للواجد، وقال أبو يوسف: هو للواجد؛ لأن هذا مال مباح سبقت إليه يده الحقيقية، فيكون أحق به كما لو وجده في المغارة. بيانه: إن هذا المال كان مباحا، والمباح يملك بإثبات اليد، ويد المختط له، تثبت على هذا المال حكما لا حقيقة، ويد الواجد تثبت عليها حقيقة، فاعتبار الحكم إن كان يقتضي ثبوت الملك للمختط له فاعتبار الحقيقة يقتضي ثبوت الملك للواجد، فيترجح الواجد؛ لأن الحقيقي فوق الحكمي.


(المحيط البرهاني (٢/ ٣٦٦)  کتاب الخراج ، الفصل الثانی فی المتفرقات، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

    *در مختار* میں ہے:


(ولو) وجدت (دفين الجاهلية) أي كنزا (خمس) لكونه غنيمة.

والحاصل: أن الكنز يخمس كيف كان والمعدن إن كان ينطبع (و) لا في (لؤلؤ) هو مطر الربيع (وعنبر) حشيش يطلع في البحر أو خثي دابة (وكذا جميع ما يستخرج من البحر من حلية) ولو ذهبا كان كنزا في قعر البحر لأنه لم يرد عليه القهر فلم يكن غنيمة (وما عليه سمة الإسلام من الكنوز) نقدا أو غيره (فلقطة) سيجيء حكمها (وما عليه سمة الكفر خمس وباقيه للمالك أول الفتح) ولوارثه لو حيا وإلا فلبيت المال على الأوجه وهذا (إن ملكت أرضه وإلا فللواجد)

 (قوله: سمة الإسلام) بالكسر وهي في الأصل أثر الكي والمراد بها العلامة وذلك ككتابة كلمة الشهادة أو نقش آخر معروف للمسلمين (قوله: نقدا أو غيره) أي من السلاح والآلات وأثاث المنازل والفصوص والقماش بحر.

رد المحتار میں ہے۔

 (قوله: فلقطة) ؛ لأن مال المسلمين لا يغنم بدائع (قوله: سيجيء حكمها) وهو أنه ينادي عليها في أبواب المساجد والأسواق إلى أن يظن عدم الطلب ثم يصرفها إلى نفسه إن فقيرا وإلا فإلى فقير آخر بشرط الضمان ح. (قوله: سمة الكفر) كنقش صنم أو اسم ملك من ملوكهم المعروفين بحر (قوله: خمس) أي سواء كان في أرضه أو أرض غيره أو أرض مباحة كفاية قال قاضي خان وهذا بلا خلاف؛ لأن الكنز ليس من أجزاء الدار فأمكن إيجاب الخمس فيه بخلاف المعدن (قوله أول الفتح) ظرف للمالك أي المختط له وهو من خصه الإمام بتمليك الأرض حين فتح البلد. (قوله: على الأوجه) قال في النهر: فإن لم يعرفوا أي الورثة قال السرخسي: هو لأقصى مالك للأرض أو لورثته وقال أبو اليسر: يوضع في بيت المال قال في الفتح: وهذا أوجقاه للمتأمل اهـ وذلك لما في البحر من أن الكنز مودع في الأرض فلما ملكها الأول ملك ما فيها ولا يخرج ما فيها عن ملكه ببيعها كالسمكة في جوفها درة. (قوله: وهذا إن ملكت أرضه) الإشارة إلى قوله وباقيه للمالك، وهذا قولهما وظاهر الهداية وغيرها ترجيحه لكن في السراج وقال أبو يوسف: والباقي للواجد كما في أرض غير مملوكة وعليه الفتوى. اهـ  قلت: وهو حسن في زماننا لعدم انتظام بيت المال بل قال ط: إن الظاهر أن يقال أي على قولهما إن للواجد صرفه حينئذ إلى نفسه إن كان فقيرا كما قالوا في بنت المعتق إنها تقدم عليه ولو رضاعا ويدل عليه ما في البحر عن المبسوط ومن أصاب ركازا وسعه أن يتصدق بخمسه على المساكين وإذا اطلع الإمام على ذلك أمضى له ما صنع؛ لأن الخمس حق الفقراء وقد أوصله إلى مستحقه وهو في إصابة الركاز غير محتاج إلى الحماية فهو كزكاة الأموال الباطنة اهـ.


(فتاوی شامی (٢/ ٣٢٢-٣٢٣) کتاب الزکوٰۃ، باب زکوٰۃ الرکاز)

 *اسی میں ہے* :


 (وإن خلا عنها) أي العلامة (أو اشتبه الضرب فهو جاهلي على) ظاهر (المذهب) ذكره الزيلعي لأنه الغالب وقيل كاللقطة. 


 (قوله وقيل كاللقطة) عبارة الهداية وقيل: يجعل إسلاميا في زماننا لتقادم العهد. اهـ. أي فالظاهر أنه لم يبق شيء من آثار الجاهلية، ويجب البقاء مع الظاهر ما لم يتحقق خلافه والحق منع هذا الظاهر، بل دفينهم إلى اليوم يوجد بديارنا مرة بعد أخرى كذا في فتح القدير أي وإذا علم أن دفينهم باق إلى اليوم انتفى ذلك الظاهر.

(فتاوی شامی، ٢/ ٣٢٣کتاب الزکوٰۃ، باب زکوٰۃ الرکاز)

 *بہار شریعت* میں ہے :

مسئلہ ۶:  جس دفینہ میں  اسلامی نشائی پائی جائے خواہ وہ نقد ہو یا ہتھیار یا خانہ داری کے سامان وغیرہ، وہ پڑے مال کے حکم میں  ہے یعنی مسجدوں ، بازاروں  میں  اس کا اعلان اتنے دنوں  تک کرے کہ ظن غالب ہو جائے، اب اس کا تلاش کرنے والا نہ ملے گا پھرمساکین کو دے دے اور خود فقیر ہو تو اپنے صرف میں  لائے اور اگر اس میں  کفر کی علامت ہو، مثلاً بُت کی تصویر ہو یا کافر بادشاہ کا نام اس پر لکھا ہو، اُس میں  سے خمس لیا جائے، باقی پانے والے کو دیا جائے، خواہ اپنی زمین میں  پائے یا دوسرے کی زمین میں  یا مباح زمین میں ۔(درمختار، ردالمحتار)

 مسئلہ ۹:  دفینہ میں  نہ اسلامی علامت ہے، نہ کفر کی تو زمانۂ کفر کا قرار دیا جائے۔  (عالمگیری)


        مسئلہ ۱۰:  صحرائے دارالحرب میں  سے جوکچھ نکلا معدنی ہو یا دفینہ اُس میں  خمس نہیں ، بلکہ کُل پانے والے کو ملے گا اور اگربہت سے لوگ بطور غلبہ کے نکال لائے تو اس میں  خمس لیا جائے گاکہ یہ غنیمت ہے۔ (درمختار)


        مسئلہ ۱۱:  مسلمان دارالحرب میں  امن لے کر گیا اور وہاں  کسی کی مملوک زمین سے خزانہ یا کان نکالی تو مالکِ زمین کوواپس دے اور اگر واپس نہ کیا بلکہ دارالاسلام میں  لے آیا تو یہی مالک ہے مگر مِلک خبیث ہے، لہٰذا تصدق کرے اور بیچ ڈالا توبیع صحیح ہے، مگر خریدار کے لیے بھی خبیث ہے اور اگر امان لے کر نہیں  گیا تھا تو یہ مال اس کے لیے حلال ہے، نہ واپس کرے نہ اس میں  خمس لیا جائے۔ (عالمگیری، درمختار)


        مسئلہ ۱۲:  خمس مساکین کا حق ہے کہ بادشاہِ اسلام اُن پر صرف کرے اور اگر اُس نے بطور خود مساکین کو دے دیا جب بھی جائز ہے، بادشاہِ اسلام کو خبر پہنچے تو اُسے برقرار رکھے اور اُس کے تصرف کو نافذ کر دے اور اگر یہ خود مسکین ہے تو بقدرِ حاجت اپنے صرف میں  لا سکتا ہے اور اگر خمس نکالنے کے بعد باقی دو سو درم کی قدر ہے تو خُمس اپنے صرف میں  نہیں  لا سکتا کہ اب یہ فقیرنہیں  ہاں  اگر مدیُون ہو کہ دَین نکالنے کے بعد دو سو درم کی قدر باقی نہیں رہتا تو خُمس اپنے صرف میں  لا سکتا ہے اور اگر ماں  باپ یا اولاد جو مساکین ہیں ، اُن کو خُمس دیدے تو یہ بھی جائز ہے۔  (درمختار، ردالمحتار)

(بہار شریعت ح ٥ ص ٩١٨)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ : *کمال احمد علیمی نظامی* 

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

*الجواب صحیح* محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

Post a Comment

0 Comments