[2/20, 20:29] Abduljabbar Nepal: *آن لائن علیمی دارالافتا گروپ*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
*مسئلہ نمبر 228*
عنوان
*مسافر مقیم کی اقتدا میں کس طرح نیت کرے گا*
مسافر مقتدی اگر مقیم کی اقتدا میں چار رکعت فرض نماز پڑھے تو کتنی رکعت کی نیت کرے گا دو یا چار کی؟
*سائل*
محمد نظام الدین بلرام پور
*الجواب* بعون الملک الوھاب
مذکورہ صورت میں مقتدی چار رکعت فرض کی نیت کرے گا، کیوں کہ مقیم کی اقتدا کی وجہ سے اس پر بھی چار رکعتیں فرض ہوگئیں، لہٰذا وہ چار ہی کی نیت کرے گا.
بہار شریعت میں ہے:
وقت ختم ہونے کے بعد مسافر مقیم کی اقتدا نہیں کر سکتا وقت میں کر سکتا ہے اور اس صورت میں مسافر کے فرض بھی چار ہوگئے یہ حکم چار رکعتی نماز کا ہے اور جن نمازوں میں قصر نہیں ان میں وقت و بعد وقت دونوں صورتوں میں اقتدا کرسکتا ہے وقت میں اقتدا کی تھی نماز پوری کرنے سے پہلے وقت ختم ہوگیا جب بھی اقتدا صحیح ہے۔ (ح چہارم ص ٧٥٤ مسافر کی نماز کا بیان)
اور اگر چاہے تو اس وقت کے فرضِ کی نیت کرے، نیت میں تعداد رکعات معین کرنا ضروری نہیں.
فتاوی شامی میں ہے :
"وَلَا بُدَّ مِنْ التَّعْيِينِ عِنْدَ النِّيَّةِ) ... (لِفَرْضٍ) أَنَّهُ ظُهْرٌ أَوْ عَصْرٌ ...(وَوَاجِبٍ) أَنَّهُ وِتْرٌ أَوْ نَذْرٌ...(دُونَ) تَعْيِينِ (عَدَدِ رَكَعَاتِهِ) لِحُصُولِهَا ضِمْنًا، فَلَا يَضُرُّ الْخَطَأُ فِي عَدَدِهَا".
(ردالمحتار علی الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة ١/ ٤١٨–٤٢٠)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ *:کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
١٨ رجب ١٤٤٣/ ٢٠ فروری ٢٠٢٢
*الجواب صحیح* محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹💐
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ سے جڑنے کے لیے وہاٹشپ نمبر پر میسج کریں۔
اگر کمپوزنگ یا اور کوئی کمی آپ کو نظر آئے تو اصلاح فرمائیں ہم آپ کے مشکور ہوں گے۔
(مولانا) عبد الجبار علیمی نیپالی جمدا شاہی
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ
+918795979383
[2/20, 20:32] Abduljabbar Nepal: *آن لائن علیمی دارالافتا گروپ*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
*مسئلہ نمبر 229*
*وراثت سے متعلق چند مسائل*
*سوال 1* : ایک عورت کا انتقال ہوا اس نے باپ اور بیٹا چھوڑا ۔مسئلہ کتنے سے بنے گا اور کس کو کتنا ملے گا؟
*الجواب* بعون الملک الوھاب
بعد تقدیم مایقدم علی الارث صورت مسئولہ میں باپ "ذوفرض محض" ہوگا، بطور فرض ایک سدس [١/٦] کامستحق ہوگا، الله تعالیٰ کا فرمان ہے "وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ" (سورہ نساء : ۱۱)
(ترجمہ: اور والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر میت کی کوئی اولاد ہو.)
اور بیٹا عصبہ بنفسہ ہوگا.
مسئلہ ٦ سے بنے گا، ایک حصہ باپ کو اور باقی ماندہ ٥حصے بیٹے کے دیں گے .
*سوال 2:* ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟؟
*الجواب* بعون الملک الوھاب
بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين
بیٹی بطور فرض نصف[١/٢] حصہ کی مستحق ہوگی. ارشاد ہے "وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ" (سورہ نساء، آیت : ۱۱)
(ترجمہ : اور اگر بیٹی ایک ہے تو اس کےلئے نصف حصہ ہے.)
ماں کے لئے ترکہ سے ایک سدس [١/٦] حصہ ہوگا "وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ"
(ترجمہ : اور والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر میت کی کوئی اولاد ہو.)
اور بھائی عصبہ بنفسہ ہوگا۔
متوفی کے کل ترکہ کو ٦ حصوں میں تقسیم کریں گے، ٣ بیٹی کو دیں گے، ١ ماں کو اور باقی ٢ حصے بھائی کو دیں گے.
*سوال 3:* ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
*الجواب* بعون الملک الوھاب
بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين
میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کا حصہ ربع [١/٤] ہے،ارشادہے " وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ" (سورہ نساء ، آیت : ۱۲)
اور تمہارے ترکہ میں بیویوں کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو.
ماں کا حصہ بطورِ فرض ثلث مابقی [١/٣] ہے،یعنی بیوی کو دینے کے بعد جو بچے گا اس کا ثلث ماں کو ملے گا، الله کا فرمان ہے "فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ"
(سورہ نساء ، آیت : ۱۱)
(ترجمہ: پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی حصہ ہے.)
بہار شریعت میں ہے :
اگر ماں کے ساتھ شوہر اور بیوی میں سے بھی کوئی ایک ہو تو پہلے شوہر یا بیوی کا حصہ دیا جائے گا پھرجو بچے گا اس میں سے ایک تہائی ماں کو دیا جائے گا۔(ح بستم ،ص ١١٣٤)
اور باپ یہاں عصبہ محض ہوگا.
کل ترکہ کو ١٢حصوں میں تقسیم کرکے ٣ حصہ بیوی کو دیں گے ، باقی ماندہ ترکہ ٩ سے ایک تہائی یعنی ٣ حصہ ماں کو دیں گے ، پھر بقیہ ٦ حصہ باپ کو دیں گے.
*سوال4* : عورت کا انتقال ہوا اس نے شوہر بیٹی اور چچا کو چھوڑا
*الجواب* بعون الملک الوھاب
بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين
بیٹی کی موجودگی میں شوہر ربع [١/٤] کا مستحق ہے
"فاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ" (سورہ نساء ، آیت ۱۲)
(ترجمہ: پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارے لیے چوتھائی ہے.)
بیٹی اکیلی ہونے کی صورت میں نصف کی مستحق ہے.
"وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ" (سورہ نساء ، آیت : ۱۱)
(ترجمہ : اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا ہے)
اور چچا عصبہ ہوگا.
کل ترکہ کو ٤ حصوں میں تقسیم کریں گے ١ حصہ شوہر کو ، ٢بیٹی کو ، اور باقی ١ چچا کو دیں گے.
*سوال 5:* شوہر کا انتقال ہوا ورثاء ہیں بیوی بیٹی اور چچا؟
*الجواب* بعون الملک الوھاب
بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين
بیوی ثمن ١/٨کی مستحق ہے.ارشادہے: "فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ" (سورہ نساء ، آیت ۱۲)
(ترجمہ : پھر اگر تمہارے اولاد ہوں تو ان کا تمہارے ترکہ میں آٹھواں ہے.)
بیٹی کا حصہ نصف [١/٢]
اور چچا عصبہ ہوگا.
کل ترکہ ٨ حصوں میں تقسیم ہوگا. ١ حصہ بیوی کو ، ٤ بیٹی کو اور باقی ٣ حصے چچا کو دیں گےعصبہ ہونے کی وجہ سے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ *:کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
*الجواب صحیح* محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ سے جڑنے کے لیے وہاٹشپ نمبر پر میسج کریں۔
مولانا عبد الجبار علیمی
آن لائن علیمی دارالافتا گروپ
+918795979383

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں