*صداے آفریں*
اس کائنات رنگ وبو میں انسان بہت سارے رشتے لے کر پیدا ہوتا ہے، ان رشتوں میں کچھ قریب اور کچھ بعید کے رشتے ہوتے ہیں، رشتوں کی بنیاد صلہ رحمی اور آپسی ہمدردی وخیر خواہی پر ہوتی ہے، سب سے پہلا رشتہ جو انسان کے ساتھ جڑتا ہے وہ ماں باپ کا رشتہ ہوتا ہے جو سب سے مقدم ہونے کے ساتھ سب سے معظم ومکرم بھی ہوتا ہے، قرآن مجید میں ہے :
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(سورۃ الاسراء :۲۳)
ترجمہ:
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔
حدیث شریف میں ہے :
عن عبد الله بن مسعود قال: سَأَلْتُ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: أيُّ العَمَلِ أحَبُّ إلى اللَّهِ؟ قالَ: الصَّلاةُ علَى وقْتِها، قالَ: ثُمَّ أيٌّ؟ قالَ: ثُمَّ برُّ الوالِدَيْنِ، قالَ: ثُمَّ أيٌّ؟ قالَ: الجِهادُ في سَبيلِ اللَّهِ، قالَ: حدَّثَني بهِنَّ، ولَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزادَنِي.(رواه البخاري، في صحيحہ، عن عبدالله بن مسعود، الصفحة أو الرقم:527، حديث صحيح)
مذکورہ آیت وحدیث سے والدین کی عظمت ظاہر ہے، اس باب میں متعدد آیات اور تواتر کی حد تک احادیث مروی ہیں.
زیر نظر رسالہ عزیزہ سعیدہ عالمہ *طوبی رحمن علیمی* سلمھا کی پہلی تحریری کاوش ہے،میں نے بالاستیعاب پڑھا، خوب سے خوب تر پایا،نقش اول نہایت عمدہ ہے، ان شاء اللہ بعد میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا.
اپنی رداپوشی کے وقت عزیزۃ القدر نے یہ رسالہ مرتب کرکے اپنے والدین کی خدمت میں بہترین خراج عقیدت پیش کیا ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور سعادت دارین سے سرفراز فرمائے.
میں عزیزہ سعیدہ کے والد محترم عالی وقار **حبیب الرحمن* بھائی علیمی کتب خانہ جمدا شاہی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جن کے حسن تربیت نے عزیزہ سعیدہ کو اس لائق بنایا، اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے اور مزید خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے.
*کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
یکم شعبان المعظم ١٤٤٣/ ٥مارچ ٢٠٢٢

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں