Time & Date

Ticker

6/recent/ticker-posts

ردالضالین

 انسان کی نجات وسرخ روئی کا دارومدار اللہ ورسول (جل جلالہ _صلی اللہ علیہ وسلم) سے سچی محبت پر ہے،جس کا تصور اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اللہ ورسول کے دشمنوں سے سچی نفرت وعداوت نہ ہو، سچ کہوں تو دین کی بنیاد دو باتوں پر ہے ایک تو اللہ اور اللہ والوں سے سچی محبت، دوسری ان کے دشمنوں سے پکی نفرت، مجد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کا قول مشہور ہے : تولّا بے تبرا نیست ممکن۔  یعنی محبت بغیر تبرا وتردید کے ممکن نہیں (  مکتوب نمبر ۲۶۶، جلد اول، صفحہ ۳۲۵ )

قرآن مجید میں ہے :

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْھِمْ﴾[التوبۃ: ۷۳]

[اے نبی! کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ]

حدیث شریف میں ہے :

حضرت خطیب بغدادی جامع میں روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:


اذا ظھرت الفتن اوقال البدع فلیظھر العالم علمہ ومن لم یفعل ذٰلک فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین۔ لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا. 


جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہوں تو فرض ہے کہ عالم اپنا علم ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ اور فرشتوں اورآدمیوں سب کی لعنت، اللہ نہ اس کافرض قبول کرے نہ نفل۔


 ( الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع    حدیث ۱۳۶۵     دارالکتب العلمیہ بیروت    ص۳۰۸)

بلکہ امام عشق ومحبت، اعلی حضرت، امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ رد بدمذہباں کو فرض اعظم قرار دیتے ہیں، فرماتے ہیں :

جب کوئی گمراہ بددین رافضی ہو یا مرزائی، وہابی ہو یا دیوبندی وغیرہم خذلہم ﷲ تعالٰی اجمعین (اللہ تعالٰی ان کو بے یارومددگار چھوڑے ) مسلمانوں کو بہکائے فتنہ وفساد پیدا کرے تو اس کا دفع اور قلوب مسلمین سے شہبات شیاطین کا رفع فرض اعظم ہے جو اس سے روکتا ہے


یصدون عن سبیل اﷲ ویبغونہا عوجا 


میں داخل ہے کہ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔

(فتاوی رضویہ ج ٢١ کتاب الحظر ص ٢٥٥)

مزید ارشاد ہے :

نفرت دینیہ، مکروہ تنزیہی واساءت ، مکروہ تحریمی، وحرام صغیرہ و کبیرہ ومراتب بدعت وضلال وانواع کفر وارتداد سب سے حسبِ مرتبہ ہے جس کے درجات مستحب سے فرض اعظم بلکہ ضروریات دین تک ہوں گے لیکن جواخبث مراتب سے نفرت نہ کرے  ادون سے ادعائے نفرت میں جھوٹا ہے، مکروہ تنزیہی سے اساءت بری ہے، اساءت سے مکروہِ تحریمی بدتر ہے، اس سے کبائر اپنے اپنے مرتبہ پر بدتر ہیں اور ان سے بدعت وضلال بدتر ہیں اور ان کے بھی مدارج مختلف ہیں اور ان سب سے کفر بدتر ہے اور اس میں بھی مراتب ہیں کفر اصلی سے ارتداد بدتر اور اس میں بھی ترتیب ہے،کفر اصلی کی ایک سخت قسم نصرانیت ہے اور اس سے  بدتر مجوسیت، اس سے بدتربت پرستی، اس سے بدتر وہابیت، ان سب سے بدتر اورخبیث تر دیوبندیت، افعال کیسے ہی شنیع ہوں کسی کفر کی شناعت کو نہیں پہنچ سکتے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بدتر ازبدتر سے بدتر، کافروں بت پرستوں سے اتحاد و داد منایا جاتا ہے، کیسا وداد، کہاں کا اتحاد، بلکہ غلامی وانقیاد، اور ان سے بھی بدتر کفار وہابیہ کو اپنی مجلسوں کی صدائیں دی جاتی ہیں اور ان تمام بدتر از بدتر سے بدتر دیوبندیت کے سر مشیخیت ہند کی پگڑی باندھنے کی فکر کی جاتی ہے، جب مشرکین و مرتدین سے یہ کچھ اتحاد ہے تو کسی فعل ومعصیت سے نفرت کا ادعاء محض سفید جھوٹ ہے اگر تمہاری نفرت اﷲ کےلئے ہوتی تو افعال سے ایک درجہ ہی بت پرستوں  سے لاکھ درجہ ہوتی اگربت پرستوں سے لاکھ درجہ ہوتی دیوبندیوں سے کروڑدرجہ ہوتی تو نفرت کے دعوے محض مکروفریب ہیں (فتاوی رضویہ ج ١٤ ص ١٣٢)

زیر نظر کتاب" *ردالضالین* " کا بنیادی موضوع رد بدمذہباں ہی ہے، اس کتاب میں روافض کی بالخصوص اور دیگر دشمنان دین کی بالعموم تردید کی گئی ہے، کتاب کے مطالعے کے بعد چند نمایاں خصوصیات ابھر کر سامنے آتی ہیں :

ہر بات آیات قرآنیہ ، احادیث طیبہ اور ارشادات علما وائمہ کی روشنی میں کہی گئی ہے.

اپنے موقف پر مضبوط و مقبول دلائل پیش کرکے حق تحقیق ادا کیا گیا ہے.

اہل سنت و جماعت کے عقائد و نظریات آیاتِ بینات، احادیث طیبات اور ارشادات مشائخ سے مبرھن کیے گئے ہیں.

کتاب میں مخالفین کی تردید عقل ونقل سے نہایت پرزور انداز میں کی گئی ہے.

تردید میں سوقیانہ لہجہ کے بجائے محققانہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے.

مستند مراجع ومصادر پر اعتماد کیا گیا ہے جو عموماً فریق مخالف کے یہاں مسلم ہیں.

کتاب کے مصنف تیرہویں صدی ہجری کے عظیم بزرگ سلطان العلما حضرت خواجہ عبیداللہ چشتی ملتانی قدس سرہ ہیں جو اپنے دور میں سلسلہ چشتیہ کے صاحب تصانیف بزرگ گزرے ہیں ، پچاس سے زائد کتب ورسائل علمی یادگار ہیں،طریقت کے ساتھ شریعت میں یکتاے روزگار تھے، علم ظاہر وباطن کا مجمع البحرین تھے. 

اصل کتاب کی زبان فارسی ہے، مخطوطہ پرانے انداز میں مکتوب ہے، مگر مترجم علام قبلہ مفتی میاں محمد عبدالباقی مدظلہ نے کمال مہارت سے نہ صرف کتاب کا ترجمہ کیا بلکہ کتاب میں زبان وبیان کا وہ کرشمہ دکھایا ہے کہ طبیعت عش عش کراٹھتی ہے، تخریج بھی نہایت احسن طریقے سے کی گئی ہے جس سے کتاب کا درجہ استناد مزید بڑھ گیا ہے،

یوں تو پوری کتاب لائق دید ہے مگر اس کا نواں، گیارہواں اور بارہواں باب کتاب کی جان ہے، اول الذکر باب میں قرآن مجید سے متعلق روافض کے ہفوات و اعتراضات کا مدلل ومفصل جواب دیا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن مجید کسی بھی قسم کی کمی زیادتی سے محفوظ ہے.

گیارہویں باب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کریمین کے ایمان پر شان دار کلام کیا گیا ہے ساتھ ہی مشائخ کرام، صوفیاے عظام خصوصاً شیخ اکبر شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ پر کیے گئے اعتراضات کا جواب تحقیقی انداز میں دیا گیاہے، یہ باب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے.

بارہویں باب میں پیر پیراں، شاہ جیلاں غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمہ اللہ کے بعض اقوال کی تشریح وتاویل کے ساتھ چند باطل فرقوں کی تردید بھی کی گئی ہے.

بہر حال عصر حاضر میں جب کہ حب اہل بیت کے نام پر رفض وخروج کو فروغ دیا جا رہا ہے ایسے میں اس طرح کی کتاب کی اشاعت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، محب مکرم حضرت قبلہ علامہ قاسم چشتی صاحب کی فرمائش پر چند سطریں لکھ کر ناچیز نےصاحب کتاب کے علمی پن گھٹ سے اکتساب فیض کی کوشش کی ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے.

 *کمال احمد علیمی نظامی* 

دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا

٢شعبان المعظم ١٤٤٣/ ٦مارچ ٢٠٢٢

Post a Comment

0 Comments