منقبت در شان امام الائمہ ، کاشف الغمہ ، سراج الائمہ
امام اعظم ابو حنیفہ
نعمان بن ثابت کوفی رحمۃ اللہ علیہ
اے امام بو حنیفہ تاج دار علم و فن
تیرے دم سے ہے سدا قائم بہار انجمن
اے امام و مقتدی تیرا وجود ناز ہے
فکر و فن کی وادیوں میں آبشار نغمہ زن
علم کی مرجھائی کلیاں تیرے دم سے کھل اٹھیں
جیسے کھل اٹھتا ہے خوشیوں سے عذار گل بدن
ہاں یقیناً آپ کے سوز دروں نے پھونک دی
قوم کی مردہ رگوں میں اک شرار بانکپن
تیری نگہ ناز نے کتنے تراشے ہیں گہر
قاضی و مفتی ، مفسر پاکباز و پاک و تن
تیرے ابر علم سے گر ایک قطرہ بھی ملے
یہ کمال بے زباں بن جائے شہ کار سخن
کلام
کمال احمد علیمی نظامی
جامعہ علیمیہ جمداشاہی بستی
مبلغ اسلام ریسرچ سینٹر

0 Comments
اپنی راے دیں یا اپنا سوال بھیجیں